حافظ حمداللہ کون ہے ؟

رپورٹ : اختر شیخ

حافظ حمداللہ کون ہیں اور ان کو نادرا شناختی کارڈ‌ کب اور کیوں منسوخ کیا گیا ؟

حافظ حمداللہ صبورجمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ کے سرگرم رہنما ہیں . اور اس وقت وہ جمعیت علمائے اسلام کے ضلع بلوچستان سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ہیں . نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ان کا شناختی کارڈ نمبر 5420148513947 بلاک ہے . اس شناختی کارڈ کے مطابق سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کا نام حمداللہ صبور ولد ولد ولی محمد ہے .حمداللہ 1958 کو بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہوئے تھے.

حمداللہ اس وقت کوئٹہ موسی روڈ کینٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ حافظ حمداللہ کے والد ولی محمد 1965 سے 1974 تک بلوچستان قلعہ عبداللہ میں سرکاری سکول ٹیچرر رہے ہیں .حافظ حمداللہ نے 1986 میں میٹرک پاس کیا جس کے بعد انٹر کا امتحان دینے کے بعد انہوں نے سرکاری نوکری اختیار کرلی تھی . تاہم عملی سیاست میں آنے سے قبل ہی انہوں نے سرکاری نوکری سے استعفی دے دیا تھا۔ انہوں نے ایم تک تعلیم حاصل کی ہے اور دینی مدرسہ سے حافظ‌ بھی ہیں ان کا اپنا دینی مدرسہ بھی ہے .

حمداللہ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے بلوچستان سے پہلی بار 2002 میں MPA منتخب ہوئے تھے ,جس کے بعد وزیر صحت کے طور پر پر جام یوسف کمال کی کابینہ میں شامل ہوکر خدمات انجام دیتے رہے ہیں . حافظ حمداللہ کو جمعیت علمائے اسلام نے 2012 میں سینیٹرمنتخب کرایا تھا ،جس کے بعد وہ 6 برس تک ایوا ن بالا کے رکن رہتے ہوئے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امورکے چیئرمین بھی رہے .

اس دوران متعدد بار وہ میڈیا میں بڑے انکشافات کے ساتھ سامنے آئے ، انہوں نے 9 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کے سینیٹراعتزاز احسن کو چیلنج دیا کہ اعتزاز احسن فورم پر کھڑے ہو کر سورہ اخلاص پوری پڑھ کر سنائیں تو میں بلائنڈ ایسوسی ایشن والوں کو 50ہزار روپے دوں گا .17 جنوری 2017 کو انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی شراب نوشی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز سے بوتلیں ملتی ہیں تو بچے سوال کرتے ہیں۔ لہذاہ پارلیمنٹرینز کے خون کا ٹیسٹ کرایا جائے .حافظ حمداللہ نے ہی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو تحفط دینے والے متنازعہ قانونی بل کی مخالفت سب سے پہلے کی تھی .

گزشتہ روز پیمرا کی جانب سے سامنے آنے والے نوٹی فکیشن کے بعد سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ آخر ہماری سرکاری اتنی عرصہ خاموش کیوں رہی ؟ ،کیوں کہ شناختی کارڈ کو6 ماہ قبل بلاک کیا تھا جس کے باوجود ان کے نام پر موجود موبائل جی ایس ایم (سم)بلاک نہیں ہوئی بلکہ اب تک انہی کے نام پر چل رہی ہے،ان کے شناختی کارڈ پر بنا ہوا پاسپورٹ ان کالعدم نہیں ہوا جس کی وجہ سے بیرون ممالک کے سفر کررہے ہیں اور ان کے بیٹا شبیر احمد آرمی میں سیکنڈ لیفٹنٹ ہے۔

حافظ حمداللہ کے مطابق مارچ 2019 میں اس وقت معلوم ہوا جب میرا بیٹا خلیل احمد اسلام آباد پارلیمنٹ لارجز کے قریب نادرا کے دفتر گیا تھا جیہاں اسے بتایا گیا کہ حافظ حمداللہ کا شناختی کارڈ بلاک ہے . جس کے بعد کوئٹہ میں نادرا کے دفتر گیا تو انہوں نے کہا کہ اداروں کی جانب سے لیٹر آیا تھا جس کی وجہ سے بلاک کیا ہے، ہم نے سکروٹنی فارم بھی مکمل کرکے دیا ،جس کے بعد اسلام آباد نادرا کے ہیڈ کوارٹر گیا . انہوں نے ہم جلد شناختی کارڈ بحال کردیں گے .تاہم بعد میں انہوں نے کہا آپ کا کیس وزارت داخلہ کو بھیج دیا ہے جہاں سے آپ کی ہیرنگ ہو گی ، ہیرنگ کے وقت گیا تو مجھے کہا گیا آج ممبر نہیں ہیں . جس کے بعد اب وزارت داخلہ نے پیمرا کو لکھا ہے کہ یہ پاکستانی شہری ہی نہیں ہے .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *