طارق روڈ : انٹرنیشنل موٹر ورلڈ کا مالک 70 کروڑ کا فراڈ کر کے بھاگ نکلا

کراچی : طارق روڈ پر واقع انٹرنیشنل موٹر ورلڈ کے نام سے قائم شوروم کے مالکان مختلف انویسٹرز کے مبینہ طور پر 35 سے 70 کروڑ روپے لیکر فرار ہو چکے ہیں ۔ انٹرنیشنل موٹرز کے مالکان میں سہیل جاوید ولد چوہدری فتح محمد ، سعد سہیل اور اس کے بھائی حماد سہیل شامل ہیں ۔

ذرائع کے مطابق پیر کو آخری بار شام 7 بجے صبح شوروم کھولا گیا اور سب کیمروں کی تاریں بھی کاٹ دی گئی اور DVR وغیرہ نکال لیئے گئے ۔ شوروم کے سامنے واقع بلڈنگ کے سی سی ٹی وی سے فیملی سمیت روڈ کراس کر کے الگ الگ گاڑیوں میں روانہ ہوتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔جس کے بعد موبائل نمبر بند کر دیئے گئے ہیں ۔

ذرائع نے بتایا کہ انویسٹرز میں ایک مشہور ریسٹورنٹ کہ مالکان بھی شامل ہیں ۔ جن کی پیمنٹ بھی کروڑوں میں تھی ۔ وہ بھی ڈوب گئی ۔ خالد بن ولید کی کار شوروم کی یونین کہ رکن اونگزیب آفریدی کا واٹس اپ میسج بھی وائرل ھوا ھے ۔ جس میں ان بھائیوں کہ متعلق بتایا گیا ھے اور یونین عہدیداروں سے گزارش کی ہے کہ مارکیٹ میں ایک لاحہ عمل طریقہ کار طے کیا جائے کہ نیا شوروم کوئی کھولے گا تو کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے کہ کوئی چیٹر فراڈیا پھر اس کام کو بدنام نہ کر سکے ۔

مذید پڑھیں :ایڈمنسٹریٹر بلدیہ ایک ہفتے بعد بھی KMDC نہ کھلوا سکے

مزید معلومات پر معلوم ہوا ہے کہ متعدد دوستوں نے مل کہ انویسٹ کی ھوئی تھی اور پانچ لاکھ ماہانہ کرایہ پر جگہ لی گئی تھی ۔ شروع میں چند دوستوں نے اعتراض بھی کیا کہ اتنا کرایہ کیسے ادا کر سکتے ہیں ۔ مگر ان کو کہا گیا جب اتنا کام کرینگے تو کوئی کرائے کی ادائیگی کا کوئی مسلہ نہیں ہو گا ۔

واضح رہے چھ ماہ قبل یہ جگہ لی گہی تھی جس کے بعد پر تکلف دعوت کے بعد شوروم کا افتتاح کیا گیا تھا ۔تاکہ لوگ یہ سب دیکھ کر اس سے مرعوب ھوں ۔ جس کے بعد مستقل دعوتوں کا سلسلہ رہا ۔ تمام لوگ فارم ہاوس وغیرہ اور ہوٹلنگ میں آتے جاتے رہتے تھے ۔ جہاں تمام تر آسائشیں فراہم کی جاتی رہیں ۔

اتنی بڑی رقم لیکر رفو چکر ھونے کہ باوجود ابھی تک کسی نے رابطہ قائم نہیں کیا ہے ۔ انویسٹرز قانوں نافذ کرنے والے اداروں ،نیب ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی ممکنہ پوچھ گچھ سے خوف زدہ ہو کر خاموش ہو گئے ہیں ۔ فیروز آباد پولیس اسٹیشن  کے علم میں ہونے کے باوجود پولیس کے سامنے بھی جانے سے اجتناب کیا جا رہا ہے ۔

مذید پڑھیں :لال مسجد اور تحریک لبیک پاکستان

ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتیں کروڑوں میں ہیں ، 70/80 لاکھ کی تو ٹویوٹا RIVO ڈبل کیبن گاڑی ھے ۔اور LX570 نامی گاڑی کی قیمت 6/7 کروڑ بنتی ہے ، شوروم انتظامیہ ایک انویسٹر سے کہتے کہ گاڑی لے لی ہے ۔ جاپان میں آنے میں دو ماہ تک کا ٹائم لگتا ہے اور پھر دوسرے سے بھی پیمنٹ لیتے ، کسی کہ پاس گاڑی رکھا دیتے اور فائل روک کر آدھی پیمنٹ لیکر فائل کسی کہ پاس رکھا کر اس پارٹی سے بھی رقم لے لی جاتی ۔ دونوں تینوں پارٹیاں خوش تھیں کہ اب گاڑی لے لی ھے سستے میں اب منافع ملے گا ۔

ڈبل اور شوروم کے ڈسپلے پر ہی ایک وقت میں 6/8 کروڑ کی گاڑیاں کھڑی ھوتی تھیں ۔ جس کو شوروم کی زبان میں مال کہا جاتا ہے کہ 6/8 کھوکے کا تو صرف مال ہی کھڑا ہے ۔ آخر میں بیچ چوراہے میں ہانڈی پھوٹ گئی کہ کوئی فائل لیکر بیٹھا ھے ۔ کوئی گاڑی روک کہ بیٹھا ھے ۔ کسی کہ پاس بل آف انٹری نام کہ کاغزات ہیں ۔ یونین میں جو لوگ متاثرین گئے ہیں ان کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ۔ اتنی بڑی رقم کے لین دین کا ٹوٹل گڈ ول پر
یہ کام ھو رہا تھا ۔

مذید پڑھیں :جامعہ کراچی کے VC خالد عراقی کو فی الفور ہٹایا جائے : سپلا

ان مالکان نے اپنے قریبی دوستوں تک کو اندھیرے میں رکھا اور چلانے کو گاڑیاں مل جاتی ، جس کو دکھا کر ہر کوئی انویسٹر اپنے ریفرنس پر لے آیا ۔ اب وہ کوئی 50/25/30 لاکھ والے ان کے گلے کا ہار بن گئے ہیں ۔ وہ تھوڑے کمیشن کے چکر میں چھپتے پھر رہے ہیں کہ کہاں سے لوگوں کی پیمنٹ اتاریں گے ۔ معلوم ہوا ہے کہ چند ماہ قبل ایک زیرو میٹر گاڑیوں کا کام کرنے والے کار ڈیلر نے بھی خود کشی کر لی تھی جو کہ 63 کروڑ کی مارکیٹ میں آواز آئی تھی ۔

کہتے ہیں جب تک بے وقوف زندہ ہے عقلمند بھوکا نہیں مر سکتا حیرت کا مقام ہے ۔ شہر میں ملک میں اتنے ذرائع ابلاغ کی موجودگی سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا اب ہر کسی کی رسائی میں ہے ۔ روز کی بنیاد پر اکثر ایسی داستانیں ڈبل شاہ کے نام سے آتی ہیں مگر لالچ بری بلا ھے ۔ اس واقع پر مثال صادق آتی ھے ۔

ذرائع کے مطابق تمام افراد ایئر پورٹ کے ذریعے لاہور گئے ہیں ، جن میں سہیل جاوید ، سعد سہیل ، فہید سہیل ، فرح سہیل ، انعم سہیل اور جویریہ سہیل شامل ہیں ۔ یہ تمام فیملی کے افراد بذریعہ ہوائی سفر دبئی روانہ ہو گئے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *