فرانسیسی صدر نے اسکولوں ، سرکاری مقامات پر حجاب پہننے کی مخالفت کر دی

بھارتی فنکارہ نے اسلام کی خاطر شوبز کی دنیا چھوڑ دی

رپورٹ : علی ہلال

عوامی مقامات پر حجاب لینے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن تعلیمی اداروں میں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ صدر میکرون (فوٹو: فائل)

پیرس: فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون نے اپنے ایک بیان میں عوامی خدمات کی جگہوں اور اسکولوں میں حجاب پہننے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان مقامات پر حجاب پہننے کی مخالفت کی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عوامی مقامات پر حجاب لیا جائے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم درس گاہوں اورعوامی خدمات کی جگہوں پر حجاب پہننے پر حکومت کارروائی کر سکتی ہے۔

فرانسیسی صدر نے اپنی اس دلیل کو ’سیکولرازم‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہمسایہ ممالک میں حجاب کو اکثریت سے لا تعلق ہونے اور خود پسندی کے طور پر لیا جاتا ہے اور اب فرانس کو بھی کو اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لینا چاہیے۔

فرانس میں کچھ عرصے سے مسلمانوں کو حجاب پر پابندی اور اسلام مخالف مہم کا سامنا ہے جب کہ حال ہی میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان نے اجلاس میں شریک ایک اسکول کی نمائندہ مسلمان خاتون سے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا تھا۔

🔴 [RT]Au nom de nos principes républicains et laïcs, j’ai demandé à @MarieGuiteDufay de faire enlever le voile islamique d’une accompagnatrice scolaire présente dans l’hémicycle. Après l’assassinat de nos 4 policiers, nous ne pouvons pas tolérer cette provocation communautariste pic.twitter.com/3WzqDEC3nn

— Julien Odoul (@JulienOdoul) October 11, 2019

رکن پارلیمان کے اس قدام سے فرانس میں ایک مرتبہ پھر حجاب پر پابندی کا معاملہ ہر جگہ زیر بحث ہے۔ شدت پسند فرانسیسی باحجاب خواتین پر جملے کستے ہیں اور حجاب اتارنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ جس پر مسلم کمیونٹی کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ بھی جارہی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *