حکومتی ایما پر مذاکرات کیلئے 9 رکنی علما کا وفد کوٹ لکھپت جیل پہنچ گیا

لاہور : ملکی صورت حال کی کشیدگی کم کرنے کے لیے حکومت نے علماء کا سہارہ لے لیا ۔

حکومت کی جانب سے کراچی ، پنجاب اور دیگر جگہوں کے علمائے کرام کو لاہور بلا کر ان سے کہا گیا کہ وہ سعد رضوی سے ملاقات کریں اور بات چیت کر آگے بڑھائیں ۔ جس کے بعد علمائے کرام کو وفد حافظ سعد رضوی سے ملنے کوٹ لکھپت پہنچ گیا ہے ۔

اس 9 رکنی وفد کو حافظ سعد رضوی سے مزاکرات کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے ۔ اہلسنت و جماعت سے تعلق رکھنے والے مذکورہ علمائے کرام مفتی منیب الرحمن کے اینٹی شمار کئے جاتے ہیں ۔تاہم اس وفد میں مفتی منیب الرحمن ، مفتی عابد مبارک ، مولانا پیر حسین الدین شاہ ، مولانا عبدلمصطفی ہزاروی ، صاحبزادہ اویس نورانی سمیت کوئی نامی گرامی نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں :اختر غوری نے ضیاالدین یونیورسٹی بورڈ کیوں چھوڑا ؟

اس مزاکراتی ٹیم کی قیادت پنجاب قرآن بورڈ کے چیرمین اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کر رہے ہیں ۔ جب اس وفد دیگر ارکان میں پاکستان سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری ، جمیعتِ علماءِ پاکستان نظریاتی کے صدر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر ،پیر عبدالخالق ، پیرخالد سلطان ، میاں جلیل احمد شرقپوری ، پیر نظام الدین سیالوی ، خواجہ غلام قطب الدین فریدی ، سابق وزیر مذہبی امور حکومت کشمیر حافظ حامد رضا سیالکوٹی شامل ہیں ۔

اب یہ وفد پنجاب قران بورڈ و سنی اتحاد کونسل کے دفتر سے کوٹ لکھپت جیل پہنچ چکا ہے ۔جہاں پر حافظ سعد رضوی کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہیں ۔تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ حافظ سعد رضوی نے باہر موجود ساری بات مجلس شوری پر ڈال دی ہے کہ جو بات مجلس شوری کرے گی وہی اصل بات ہو گی کیوں کہ یہاں مجھے باہر کے حالات کا ادراک نہیں ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *