یرغمال پولیس اہلکاروں کی حقیقت کیا ہے ؟

لاہور : وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے 16 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہوا تھا جن کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور مذاکرات کا پہلا دور اچھا رہا ہے ۔

اس پر سیاسی مبصرین کو خیال ہے کہ اگر مذاکرات کے ذریعے حکومت نے اپنے لوگ بازیاب کرائے ہیں تو تحریک لبیک نے کوئی مطالبہ منوایا ہی نہیں ؟ نہ ہی کوئی ان کا مطالبہ سامنے لایا گیا ہے ۔ یہ ناممکنات میں سے ہے کہ پولیس اپنے لوگ لے آئے اور تحریک لبیک کے زخمیوں کو علاج کے لئے ایمبولینس بھی نہ مل سکے ۔

الرٹ کو موصول ہونے والی لسٹ کے مطابق یرغمال اور بعد ازاں بازیاب ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ڈی ایس پی ، ایس ڈی پی او نواں کوٹ محمد عمر فاروق کو ہیڈ انجری اور بازو اور ہاتھ پر چوٹیں ہیں اور ایس ایچ او کاہنہ محمد جاوید کو ہیڈ انجری ہے ۔آئی پی پولیس لائن محمد اظہر کو ہیڈ انجری ہے ۔

مذید پڑھیں :مولانا فضل الرحمن نے TLP کے ساتھ اسلام آباد مارچ کا عندیہ دے دیا

کانسٹیبل محمد وفار کو کمر پر چوٹ لگی ہے ۔ایس آئی انوسٹی گیشن شادمان نوید علی کو ہیڈ انجری ہے ۔کانسٹیبل پولیس لائن محمد نعیم کو ہیڈ انجری ،اور ٹانگ فریکچر ہے ۔کانسٹیبل گارڈ نیشنل بینک اپر مال زوار خان کو جسم میں درد ہے ۔رینجرز کانسٹیبل علی رضا کو بازو ، ٹانگ ، ہیڈ انجری ہے ۔کانسٹیبل انوسٹی گیشن محمد اشفاق کو  ہاتھ پر چوٹ ہے ۔

کانسٹیبل پولیس لائن محمد جمیل کو ٹانگ پر چوٹ ہے ۔نائیک حوالدار رینجرز شوکت علی کو ہیڈ انجری ہے ۔کانسٹیبل اے آر ایف پولیس لائن رمیض یوسف کو ٹانگ ، ناک اور ہیڈ انجری ہے ۔کانسٹیبل پولیس لائن محمد لطیف کو بازو پر چوٹ ہے ۔ کانسٹیبل محمد ارشد پولیس لائن کو ہیڈ انجری ہے ۔کانسٹیبل سی آئی اے کوتوالی شاہد عمران کو ہیڈ انجری ہے ۔ڈرائیور سی ٹی ڈی لاہور محمد افضل کو سر پر زخم ہے ۔

مذید پڑھیں :کالعدم TLP کیخلاف آپریشن پر 2 رہنمائوں نے PTI چھوڑ دی

ادھر ٹی ایل پی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ہمیں حیرت ہے کہ اگر شیخ رشید کا دعوی سچا ہے تو مذکورہ 16 پولیس اہلکار مغوی یا یرغمال تھے تو پھر وہ زخمی کہاں ہیں جن کی تصاویر وائرل ہوئی تھیں اگر وہ یہی زخمی ہیں تو پھر مغوی کون ہیں ۔

ادھر تحریک لبیک پاکستان کے رہنما علامہ شفیق امینی کا کہنا ہے کہ ہمارے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی اب مذاکرات ہونے ہیں ۔ اب ڈیڈ لائن مکمل ہے اور اس میں فرانسیسی سفیر کو نکالا جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *