عرصہ دراز بعد ملک بھر میں کامیاب ترین ہڑتال جاری

کراچی/ لاہور / اسلام آباد : مفتی منیب الرحمن کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کیخلاف حکومتی کریک ڈائون کے بعد دی جانے والی ہڑتال و پہیہ جام ہڑتال پر ملک بھر میں مارکیٹں ، دکانیں بند اور سڑکیں سنسان پڑی ہیں ۔

پاکستان میں عرصہ دراز بعد مجموعی طور پر مکمل ہڑتال کا سماں ہے ۔ ملک بھر کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مرکزی مارکیٹں بند پڑی ہیں ۔ اندرون شہر چلنے والی بسوں سے لیکر بیرون شہر جانے والی بسوں تک مکمل پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے ۔

اس سے قبل کراچی شہر کو ایم کیو ایم زور پر بند کراتی اور ہڑتال کر لیتی تھی ۔ تاہم اس میں پورا ملک بند کرنا اور پہیہ جام ہڑتال کرنا شاید ہی کسی جماعت کے بس میں ہو ۔ تاہم دینی جماعتیں ماضی میں بھی اجتماعی صورت میں متحدہ مجلس عمل کی صورت میں احتجاج کے طور پر ہڑتالیں کرتی رہی ہیں ۔

مذید پڑھیں :کالعدم TLP کیخلاف آپریشن پر 2 رہنمائوں نے PTI چھوڑ دی

معلوم رہے کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ کیا گیا معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر تحریک لبیک نے حکومت کو وقت دیا تھا اور اس کے بعد 20 اپریل کو اسلام آباد ناموسِ رسالت ﷺ مارچ کی دھمکی دی تھی جس سے قبل ہی حکومت کی جانب سے سخت ترین ایکشن لیا گیا اور دو درجن سے زاید کارکنان شہید کئے جا چکے ہیں ۔

جس کے بعد اہلسنت و جماعت بریلوی مسلک کی نمائندہ جماعتوں کا اجلاس جامعہ امجدیہ میں منعقد ہوا جس میں سنی تحریک ، سنی علما کونسل ، دفاع ختم نبوت کونسل ، اہلسنت و جماعت ، جماعت اہلسنت ، جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ سمیت دیگر کی جانب سے ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر ہڑتال کی جائے گی ۔

جس کے بعد اہلسنت والجماعت دیوبندی مسلک کی جانب سے مولانا فضل الرحمن نے تحریک لبیک کی بھر پور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحریک لبیک اسلام آباد کی جانب نکلی تو ہم ان کے ساتھ ہونگے اور ہم مفتی منیب الرحمن کی ہڑتال کی مکمل تائید کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :مولانا فضل الرحمن نے TLP کے ساتھ اسلام آباد مارچ کا عندیہ دے دیا

مفتی منیب الرحمن کی اپیل کے بعد ملک بھر میں تاجر برادری ، ٹرانسپورٹ برادری کی جانب سے ہڑتال کا خیر مقدم کیا گیا اور خود مارکیٹوں کی یونین ، تاجروں کی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کیا ۔ جس کے بعد آج ملک بھر میں مکمل ہڑتال ہے اور کاروبار زندگی بند ہے اور سڑکیں سنسان پڑی ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *