مولانا فضل الرحمن نے TLP کے ساتھ اسلام آباد مارچ کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد ( این این آئی ) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے لاہور میں مذہبی جماعت کے کارکنوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کب تک رسول اللہ ۖ کی عزت و ناموس کو روندتے ہوئے دیکھیں گے ۔ اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ پولیس اہلکار مسلمان بھائیوں پر گولی چلانے سے باز آ جائیں ، پی ٹی آئی اور وزراء ہمارے نزدیک دہشتگرد ہیں ، ملک میں غیر آئینی حکمرانی تسلیم نہیں کر ینگے ۔

مذہبی جماعت کے ساتھ معاہدات کو پارلیمنٹ میں لایا جائے ، اب بھی صورت حال کو عقل مندی کیساتھ حل کرنے کی طرف اقدامات اٹھائے جائیں ، شہداء کے جنازے اور زخمی اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ساتھ ہونگے ۔ مفتی کفایت اللہ کیوں گرفتار ہیں ؟ ہمیں ہاتھ مٹ ڈالیں ، ہم زندہ لوگ ہیں ،ہم نے ہمیشہ امن و نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے ۔

اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پوری قوم انتہائی دکھ اور اضطراب میں ہے ، لاہور میں ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہوں ، ناموس رسالت کیلئے آواز اٹھانے والوں کو بھون دیا گیا ۔ زخمیوں کو ہسپتال تک نہیں جانے دیا جا رہا ہے ۔ زخمی و شہداء مساجد میں پڑے ہیں ، ہسپتالوں کے دروازے بھی بند کر دیئے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح تو کوئی سخت دل دشمن ہی کر سکتا ہے جیسا امریکہ نے گوانتا نا موبے میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود 126 دن دھرنا دیا ۔ سپریم کورٹ کی توہین اور پی ٹی وی پر حملہ کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جو ناموس رسالت کیلئے احتجاج کرے ان کیلئے پاکستان مذبح خانہ بن جاتا ہے ۔

مذید ہڑھیں :کالعدم TLP کیخلاف آپریشن پر 2 رہنمائوں نے PTI چھوڑ دی

انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے توہین رسالت کی مرتکب ملعونہ کو فخریہ انداز میں ملک سے باہر بھیجا ۔ آج عمران خان فرانس کا ہیرو بنا ہوا ہے ، شرم آنی چاہیے ، جس ایجنڈ کیلئے انہیں اقتدار میں لایا گیا وہ آج چہرے بھی بے نقاب ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ ریاستوں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ کب تک ہم بر داشت کرتے رہیں گے ۔ کب تک رسول اللہ ۖ  کی عزت و ناموس کو روندتے ہوئے دیکھیں گے ۔

اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا ، اگر مغربی دنیا کو یہی کھیل دیکھنا ہے تو امت مسلمہ اس کیلئے تیار ہے اور ہم ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کے سفیر کے مسئلے کو عزت کا مسئلہ کیوں بنایا گیا ؟ ٹھیک ہے ہر چیز کے کوئی نقصان دہ پہلو بھی ہوتے ہیں لیکن اگر وہ پاکستان کے بائیس کروڑ مسلمانوں کے عقیدے کو روندتا ہے اور رسول اللہ کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو پھر ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے نزدیک اپنے رسول اللہ کی عزت و ناموس اول اور ہماری زندگیاں بعد میں ہیں ۔

اگر ہمارے پیغمبر ﷺ کے ناموس محفوظ نہیں تو ہمیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ لہذا میں اعلان کرتا ہوں کہ فرانس کے سفیر کا جانا اب ٹھہر گیا ہے ۔ اب اس کیلئے مصلحتوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے بڑوں کے احکامات تسلیم کرنے سے انکار کر دیں اور مسلمان بھائیوں پر گولی چلانے سے باز آ جائیں یہ ان کی نجات کا راستہ ہے جو مناظر دیکھ رہے ہیں وہ نا قابل بر داشت ہیں ۔

مذید پڑھیں :انجمن اتحاد سرمستانی ویلفیئر کا رمضان افطار دسترخوان کا اہتمام

یہی مناظر جب کشمیر کے ہونگے تو آپ کہیں گے ہندوستان کی ریاستی دہشتگردی ہے ، یہی صورتحال جب فلسطینی کی ہوگی تو آپ کہیں گے یہ ریاستی دہشتگردی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کی ریاست اور ریاستی ادارے اپنی قوم کے اوپر گولیاں چلاتے ہیں تو کیا ہم ان کو ریاستی دہشتگردی نہیں کہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اور وزراء سن لیں وہ دہشتگرد ہیں ، رسول اللہ کی ناموس کیلئے لڑنے والے دہشتگرد نہیں ہو سکتے ہیں ۔

تمہارے ارادے کیا ہیں ، ہم اس ملک میں غیر آئینی حکمرانی تسلیم نہیں کر ینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جو معاہدات ان کے ساتھ ہوئے ہیں ان معاہدات کے فریقین کون ہیں ، معاہدات کے نکات اور عبارت کیا ہے ، معاہدات پر دستخط کر نے والے کون ہیں ؟یہ ساری تفصیل پارلیمنٹ میں لائی جائے ، عوام کے سامنے لائی جائے ، دہشتگرد کے ساتھ معاہدہ کر نے والا ہشتگر د کے زمرے میں آئیگا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ صورتحال کو عقلمندی کے ساتھ حل کر نے کی طرف اقدامات کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے مسئلہ کو سنبھال لیں ، واضح اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ٹی ایل پی کے شہداء کے جنارے اور ان کے زخمی اسلام آباد کی طرف روانہ کئے گئے تو ہم ان کے ساتھ ہونگے ، بہت سے علماء گرفتار کئے جا رہے ہیں ۔ چاہے ان کا تعلق ٹی ایل پی کے ساتھ ہے یا نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں :ملک بھر کے تاجروں اور ٹرانسپوٹروں نے ہڑتال کی حمایت کر دی

مفتی کفایت اللہ گرفتار ہیں ؟ کسی نے ان کے حق میں بیان دیا ، ہمارے ہی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے ، ہمیں ہاتھ مت ڈالیں تمہارے لئے مشکل ہو جائے گا ہم زندہ لوگ ہیں ، ہم میدان میں جھپٹنا جانتے ہیں ، ہم نے ہمیشہ امن اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے ، چودہ ملین مارچ کئے ، آزادی مارچ کیا اور دنیا بتا دیا مذہبی لوگ کس طرح منظم ہوتے ہیں اور پاکستان کے امن کی حفاظت کرتے ہیں لیکن شاید آپ کو مذہبی لوگوں کی امن پسندی قبول نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ آپ ہر قیمت پر دنیا کے سامنے ایک ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں جیسے یہ بڑے دہشتگرد لوگ ہیں ، تم نے امریکہ اور دنیا کے سامنے ایک تصویر رکھنے کی کوشش کی ہے ، نہ پہلے دن سے مرعوب ہوئے ہیں نہ آج اس فلسفے مرعوب ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بڑے دو ٹوک الفاظ میں آپ کو کہتے ہیں تم دہشتگرد ہو، اور انشاء اللہ آپ کے خلاف یہ جنگ پہلے دن سے شروع ہوئی ہے اب تک جاری ہے اور انشاء اللہ تمہارے اقتدار کا دھرن تختہ ہونے تک جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا جانتی ہے کہ مسلمان ایک قوم ہے ، مسلمان اپنی ترجیحات رکھتے ہیں اور جہاں پر رسول اللہ کی ناموس کا مسئلہ آئے گا مسلمان سب کچھ لٹا دے گا ۔

مذید پڑھیں :لاہور : PFUJ نے آپریشن کی کوریج پر پابندی کی سخت مزمت کی ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کو کچلنے کیلئے یہ ایجنڈا ہے ،نائن الیون کے بعد مسلم دنیا کی ریاستوں کی یہی ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ اپنے اپنے ملک کے مذہبی حلقے کو کچل ڈالو ،ان شاء اللہ وہ نہیں ہے اور ہم ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے بات کر رہا ہوں ، مجھے یقین ہے جو ہماری سوچ ہے وہ ہر مسلمان کی سوچ ہے ۔ اس سوچ سے اختلاف پی ٹی آئی کر سکتی ہے یا اس کے سرپرست کر سکتے ہیں ۔میڈیا کو آزاد ہونا چاہیے ، ساری خبریں چلانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن کی طرف سے پہیہ جام ہڑتال کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *