دینی مدارس و جامعات کیسے چلتے ہیں : قسط نمبر 1

تحریر : شیخ الحدیث حضرت مولانا زبیر احمد صدیقیؔ
مہتمم جامعہ فاروقیہ پرانا ملتان روڈ شجاع آباد

دنیا بھر بالخصوص برصغیر پاک و ہند، بنگلہ دیش میں اہل اسلام کو دینی علوم و فیوض سے روشناس کرانے اور اسلامی تہذیب و اقدار کو زندہ رکھنے والے اداروں کو دینی مدارس کہا جاتا ہے، یہ دینی مدارس عموماً اصلاً قرآن و سنت اوردیگر دینی علوم اور تبعاً ضروری عصری تعلیم بلا معاوضہ اور مفت فراہم کرتے ہیں،ان مدارس کا ذریعہ آمدنی کیا ہے؟ اور کیا ہونا چاہیے؟ یہ موضوع وقتاً فوقتاً زیر بحث رہتا ہے۔ ماضی میں تو مدارس پر یہ الزام بھی لگتارہا کہ یہ غیر ملکی آمدنی سے چلتے ہیں،لیکن حکومتی تحقیقات اور حالات نے اس الزام کی تکذیب کر دی۔ حال میں بعض طبقات کی جانب سے مدارس کو کاروبار کرنے اور اس کی کمائی مدارس پر خرچ کرنے کے مشورے بھی دیے جا رہے ہیں، بعض طبقات کی جانب سے مدارس کو چندوں پر چلانے کی شدید مخالفت بھی کی جاتی ہے، دینی مدارس کے طلباء اور اساتذہ کو معاشرہ پر بوجھ کے طعنے بھی دے جاتے ہیں، دینی مدارس اپنے آغاز سے کس نہج پر کام کرتے رہے، ماضی میں ان کا ذریعہ آمدنی کیا تھا، کیا زکوٰۃ و صدقات مدارس پر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ آئیے! دلائل کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :

دینی مدارس کا آغاز و افتتاح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس خود فرمایا، مکہ مکرمہ میں حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے گھر کو مدرسہ کی حیثیت دی گئی تھی، جبکہ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے متصل ایک چبوترہ بنایا گیا، جہاں دین کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء شب و روز قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی تعلیم حاصل کرتے رہتے، ان کا کوئی ذریعہ معاش نہ ہوتا، بلکہ اہل اسلام کے تبرعات سے ہی ان کا گزر بسر ہوتا۔

”چنانچہ حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جب حضرت سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، میں اپنے بیٹے کی جانب سے عقیقہ کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہیں، بلکہ اس کے سر کے بال مونڈ کر بالوں کے برابر چاندی اصحاب صفہ اور غرباء و مساکین پر صدقہ کر دیں“۔چنانچہ سیدہ فاطمہ ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تعمیل فرمائی،پھرجب حضرت حسین ؓ کی ولادت ہوئی،تب بھی سیدہ فاطمہ ؓ نے اسی طرح فرمایا۔(مسند احمد:۳۸۱۷۲)

مذید پڑھیں :ملک بھر کے تاجروں اور ٹرانسپوٹروں نے ہڑتال کی حمایت کر دی

نوٹ : روایات میں صراحت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات حسنین کریمین کی جانب سے خود عقیقہ فرمایا تھا۔ ۔ مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ اصحاب صفہ پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرچ کرنے کی باقاعدہ ترغیب دیتے اور صحابہ کرام کو اصحاب صفہ پر صدقہ و خیرات کرنے کے سلسلہ میں خوب ابھارتے تھے۔

ایک حدیث میں آتا ہے ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کا سامان آتا تو آپ اصحاب صفہ کے پاس بھیج دیتے تھے اور خود اس میں سے کچھ بھی استعمال نہ فرماتے اور جب ہدیہ کی کوئی چیز آتی تو اصحاب صفہ کو بلا کر انہیں کھلاتے اور خود بھی تناول فرماتے۔(مسند احمد:۹۷۶۰۱) ۔ صحابہ کرام میں سے تاجر طبقہ قریش کا تھا، قریش کے مالدار حضرات بطور خاص اصحاب صفہ کے لیے کھانا بھیجتے۔ (حلیۃ الاولیا:۱/۸۷۳)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کو ہم اصحاب صفہ کے پاس تشریف لے آتے اور ان طلباء کو صحابہ کرام میں تقسیم فرمادیتے تھے، ایک صحابی ایک سے تین طالب علموں کو کھانے کے لیے گھر لے جاتا، زیادہ سے زیادہ ایک آدمی دس طالب علموں کو ساتھ لے جاتا، البتہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہر رات اسی اصحاب صفہ کو اپنے ساتھ لے جاتے اور کھانا کھلاتے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:۲۲۶۶۲) اس سلسلہ میں صحیح بخاری میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تین طلباء کو اپنے گھر لے جانے اور کھانے میں برکت ہو جانے کا دلچسپ واقعہ بھی مذکور ہے ۔

مذید پڑھیں :مولانا فضل الرحمن نے TLP کے ساتھ اسلام آباد مارچ کا عندیہ دے دیا

”حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ اپنے ساتھ تیسرا ان میں سے لے جائے اور جس کے پاس چار افراد کا کھانا ہو وہ پانچویں یا چھٹے شخص کو ساتھ لے جائے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمی لے گئے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تین آدمی گھر لے گئے، اس طرح صحابہ کرام اپنی وسعت کے مطابق ساتھ لے گئے …………حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مہمانوں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھانا شروع کیا تو کھانے میں کافی برکت ہو گئی، (فرماتے ہیں)ہم جیسے لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانے میں اضافہ ہوجاتا،اس طرح سارے لوگ کھاکر شکم سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کھانے کو دیکھ کر اپنی اہلیہ سے فرمایا: اے بنو فراس کی بہن یہ کیا ماجرا ہے؟انہوں نے کہا میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم، کھانا تو پہلے سے تین گنا زیادہ معلوم ہوتا ہے،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ کھانا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح تک یہ کھانا موجود رہا، آپ کے اور آپ کی قوم کے درمیان معاہدہ تھا، جس کی مدت کی تکمیل ہو چکی تھی، آپ کے پاس کچھ لوگ آئے ہوئے تھے، آپ نے انہیں بارہ حصوں میں تقسیم کیا، ہر حصہ میں شریک لوگوں کی تعداد معلوم نہیں، ان سب نے یہ کھانا تناول فرمایا ۔ (صحیح بخاری:۲۰۶)

مندرجہ بالا روایت سے طلباء کرام کو کھانے کھلانے سے رزق اور کھانے میں ظاہری برکت کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدرسہ کے طلباء کو بقدر سدرمق مشکل سے کھانا نصیب ہوتا، اس لیے بسااوقات بعض طلباء شدت بھوک سے نمازوں میں گرجاتے، بعض اوقات بے ہوشی طاری ہوجاتی، بعض کو پہننے کے پورے کپڑے بھی میسر نہ آتے، رمضان المبارک میں اصحاب صفہ روزہ رکھتے، بساوقات انہیں افطاری کے لیے کچھ بھی میسر نہ آتا۔

سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تجویز پیش کی، کہ باغوں کے مسلمان مالکان سے کہا جائے وہ پکی ہوئی کھجوروں کے کچھ گچھے صفہ کے اصحاب کے لیے نکالیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رائے کو پسند فرمایا اور مسجد نبوی کے دو ستونوں کے درمیان رسی بندھوائی، انصار مدینہ اپنے باغات سے پکی ہوئی کھجوروں کے خوشے لاکر اس رسی سے باندھنے اور لٹکانے لگے۔(وفاء الوفاء:۱/۲۲۳)

روایات سے معلوم ہوتا ہے صحابہ کرام کو کھجوروں سے صدقہ نکالنے کا حکم دیا گیا تھا، تاکہ اس صدقہ کی برکت سے باغات آفات اور بلاؤں سے محفوظ رہیں (یہ بھی ممکن ہے کہ صحابہ کرام اپنے باغات کے عشران طلباء پر خرچ کرتے ہوں) علامہ سمہودی ؒفرماتے ہیں مسجد میں کھجور کے خوشے لٹکانے کا معمول دوسری صدی تک باقی رہا۔(وفاء الوفاء:۱/۴۲۳)

مذید پپڑھیں :آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن بھی مکمل ہڑتال کرے گی : عبداللہ ہمدرد

مذکورہ بالا حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوت اور عہد نبوت کے بعد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدرسہ کے طلباء پر صدقات وغیرہ خرچ کیے جاتے تھے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اصحاب صفہ کے متعلق آیت بھی نازل فرمائی:
لِلْفُقَرَاء الَّذِیْنَ أُحصِرُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ لاَ یَسْتَطِیْعُونَ ضَرْباً فِیْ الأَرْضِ یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ أَغْنِیَاء مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُہُم بِسِیْمَاہُمْ لاَ یَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافاً وَمَا تُنفِقُواْ مِنْ خَیْْرٍ فَإِنَّ اللّہَ بِہِ عَلِیْمٌ (البقرۃ:۳۷۲)

(مالی امداد کے بطور خاص) مستحق وہ فقرا ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لیے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لیے ناواقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے، تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

آیت کی تفسیرمیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر بیان القرآن میں ارشاد فرماتے ہیں:
”اور جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں، پس اس بنا پر سب سے اچھا مصرف طالب علم ٹھہرے اور ان پر جو بعض نا تجربہ کاروں کا یہ طعن ہے کہ ان سے کمایا نہیں جاتا، اس کا جواب قرآن میں دے دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ایسے دو کام نہیں کرسکتا، جن میں سے ایک میں یا دونوں میں پوری مشغولی کی ضرورت ہو اور جس کو علم دین کا کچھ مذاق ہوگا وہ مشاہدہ سے سمجھ سکتا ہے، کہ اس میں غایت مشغولی و انہماک کی حاجت ہے، اس لیے اس کے ساتھ اکتساب مال کا شغل جمع نہیں ہو سکتا اور اس کے کرنے سے علم دین کی خدمت نا تمام رہ جاتی ہے، چنانچہ ہزاروں نظائر پیش نظر ہیں“۔(بیان القرآن ج۱/۹۸۱،۸۸۱ تفسیر آیت بالا)

مذکورہ بالا حوالہ جات اور حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی چشم کشا تحریر سے چند چیزیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں:
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *