جمعیت علمائے اسلام نے کارکنوں کے لئے 32 نکاتی ہدایات جاری کردیں ، رپورٹ

رپورٹ: عبدالجبارناصر

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ ’’آزادی مارچ ‘‘کا آغاز 27 اکتوبر کو صبح 10 بجے کراچی سہراب گوٹھ سے ہوگا اور مارچ کی قیادت وہ خود کریں گے ، جبکہ جمعت علماء اسلام نے شرکاء کے لئے 32 نکاتی ہدایت نامہ بھی جاری کردیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کا کے اجلاس میں کیاگیا ،جو جمعرات کو جامعہ حمادیہ منزل گاہ سکھر میں مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں ہوا ۔

جمعیت علماء اسلام سندھ کے نائب امیر مولانا عبدالکریم عابد، مرکزی رہنماء قاری محمد عثمان ، سندھ کے ترجمان مولانا محمد سمیع سواتی اور مسلم لیگ(ن) سندھ کے نائب صدر علی اکبر گجر کے مطابق کراچی کے تمام 6 اضلاع اور بلوچستان کے دو اضلاع لسبیلہ اور حب کے قافلے کراچی سہراب گوٹھ سے روانہ ہونگے اور سب کو ہدایت کی گئی ہے کہ سب مکمل تیاری کے ساتھ سہراب گوٹھ میں جمع ہوں۔

مولانا عبدالکریم عابد کے مطابق پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتوں کے قافلے بھی سہراب گوٹھ میں جمع ہونگے۔ جمعیت علماء اسلام نے اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وارڈ، یوسی، پی ایس اور ضلع کے حساب سے نظم بنائیں اور مکمل تیاری کریں۔ مولانا عبدالکریم عابد کے مطابق کراچی سے روانہ ہونے والے آزادی مارچ کی قیادت مولانا فضل الرحمان خود کریں گے۔

جمعیت علماء اسلام سندھ نے اپنے کارکنوں اور رہنمائوں کو 32 نکاتی ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔ ترجمان مولانا سمیع سواتی کے مطابق تمام شرکاء کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس ہدایت نامے کے متعلقہ نکات پر یقناً عمل کریں ۔ ابتدائی دو نکات میں سفر اور گھروں میں عبادات اور وظائف کی ہدایت کی گئی ہے ،جبکہ نمبر 3 میں کراچی سے سکھر تک سفر میں جماعت کے لوگوں کو انتظامات، نمبر 4 سے 7 تک پر ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ہدایات ہیں، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ فی الحال گاڑیوں کا یک طرفہ انتظام کریں ۔

نمبر 8 اور نمبر 9 ذاتی استعمال کی ضروری اشیاء ، نمبر 10 ہنگامی صورتحال میں فرسٹ ایڈ ، نمبر 11ٹرانسپورٹ میں سہولیات ، نمبر 12 باہمی رابطے ، نمبر 13 اسلام آباد کے ممکنہ دھرنے میں احتیاط ، نمبر 14 سفر کے دوران احتیاط، نمبر 15 شناختی کارڈ ، نمبر 16 رضاکاروں کے باہمی رابطہ ، نمبر 17 باہمی احترام بالخصوص علماء اور بزرگوں کا خیال رکھنا، نمبر 18 ضروری کتب ، نمبر 19 ہر یوسی سے 10 رضارکاروں کے انتظام ، نمبر 20 سفر میں نماز ، نمبر 21 پر امن رہنے اور قافلے سے الگ نہ ہونے کی ہدایت ہے۔

نمبر 22میں واضح طور پر بتایا گیاہے کہ کراچی سے اسلام آباد تک کا سفر 4 سے 5 دن کا ہوسکتاہے۔ نمبر 23 میں قافلے روکنی صورت میں فوری انفرادی ردعمل کی بجائے امیر کی مشاورت، نمبر 24 اسلام آباد میں قیام سے متعلق ہے جو ایک ہفتہ تک ہوسکتاہے۔ نمبر 25 کراچی سے اباڑو تک وافائی ، نمبر 26اور 27 گاڑیوں، سائونڈ سسٹم اور کرایہ ،نمبر 28 کراچی سے اباڑو تک جماعتی پرچم ، نمبر 29ہر شریک کے لئے جماعتی پرچم لازمی رکھنے ،نمبر 30 ترانسپورٹ پر پرچم ، بینرز اور پلے کارڈز سے متعلق ہے۔

نمبر 31 میں کارکنوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ ہر صورت پر امن رہنا ہے اور کسی بھی قسم کی املاک کو نقصان یا کسی بھی قسم کا تشدد ناقابل برداشت ہوگا اور نمبر 32 میں شرکاء کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ کسی کوبھی قسم کا ہتھیار، چھری یا چاقو رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں