مصنوعی ذہانت اور صحت کے شعبے کی عدمِ مساوات

تحریر : کیرن ہاؤ (Karen Hao)

ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈیپ لرننگ ماڈلز کو مریضوں کی حالت کے متعلق تربیت فراہم کر کے طبی شعبے کی خامیاں اجاگر کی جا سکتی ہيں ۔ پچھلے چند سالوں کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینسر کی ابتدائی مراحل میں نشاندہی اور آنھکوں کے امراض کی تشخیص جیسے کاموں میں ڈیپ لرننگ کی کارکردگی ماہرین جتنی ہی درست ہوتی ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ کئی مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں ۔ ہمیں یہ بات اچھے سے معلوم ہے کہ ڈیپ لرننگ امتیاز کو فروغ دیتی ہے ۔ جو نظام صحت پہلے ہی اتنے عدم مساوات کا شکار ہو، اس میں تعصب بھری ڈیپ لرننگ کی ٹیکنالوجی متعارف کرنے سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہی ہو گا ۔

اب نیچر میڈیسن (Nature Medicine) نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک پیپر میں بتایا گيا ہے کہ الگارتھمز کی مدد سے موجودہ عدم مساوات کو بڑھانے کے بجائے کم کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے یو سی برکلے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر زياد اوبرمائر (Ziad Obermeyer) کے مطابق اس کے لیے الگارتھمز کی درستی کا پیمانہ انسانی ماہرین کی کارکردگی نہيں بلکہ کچھ اور ہونا چاہیے ۔اس پیپر میں دائمی درد کی وجہ بننے والے گھٹنوں کے آرتھرائٹس کے علاج کے دوران سامنے آنے والے ‏عدم مساوات کی مثال پیش کی گئی ہے۔ ڈاکٹرز درد کی شدت کی بنیاد پر فزیکل تھیراپی، ادویات یا سرجری کا مشورہ دیتے ہيں۔ عام طور پر درد کا تعین کرنے کے لیے گھٹنوں کا ایکس رے کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہڈیوں کا معائنہ کر کے کیلگرین لارینس گریڈ (Kellgren–Lawrence grade) نامی ایک پیمانے کے مطابق درد کی شدت کا تعین کیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں : جیل چورنگی کے قریب WTM کی 48 انچ کی لائن پر غیر قانونی ہائیڈرنٹ قائم

مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیمانہ ہر کسی پر لاگو نہيں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر، کیلگرین لارینس گریڈ کے مطابق سیاہ فام افراد کو جتنا درد ہونا چاہیے، وہ حقیقت میں اس سے کہیں زيادہ درد کا شکار ہوتے ہیں۔ عام طور پر مریضوں سے ایک سروے کے ذریعے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں روزمرہ کام کرنے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے، لیکن علاج کے متعلق فیصلے کرنے کے دوران اس سروے کو نہيں بلکہ کیلگرین لارینس گریڈ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ دیگر الفاظ میں ایکس رے کے مطابق ہڈیوں کی حالت یکساں ہونے کے باوجود، سیاہ فام افراد کو سفید فام افراد سے زيادہ تکلیف کی شکایت ہوتی ہے ۔

طبی ماہرین اس صورت حال سے زيادہ خوش نہيں ہیں۔ ایک مفروضہ تو یہ ہے کہ سیاہ فام افراد جان بوجھ کر درد بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہيں تاکہ ڈاکٹر ان پر زيادہ توجہ دیں۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیلگرین لارینس گریڈ میں ہی مسئلہ ہو۔ اس پیمانے کو کئی دہائی پہلے سفید فام برطانوی افراد پر ٹیسٹ کرتے ہوئے تیار کیا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اس پیمانے میں تعصب کا امکان موجود ہوسکتا ہے۔  چند طبی ماہرین کا خیال ہے کہ کیلگرین لارینس گریڈ کی پیمائشوں کو دوسری نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضروریات کے مطابق نہيں بنایا گیا ہے۔

اس مفروضے کی ٹیسٹنگ کے لیے ریسرچرز نے ایک ڈیپ لرننگ ماڈل کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مریضوں کے ایکس ریز اور ان کے سروے کے نتائج کے درمیان کتنا فرق ہے۔ اگر ماڈل کی درستی کم ہوتی تو اس کا یہ مطلب ہوتا کہ مریض واقعی اپنا درد بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہيں۔ تاہم ماڈل کی درستی زیادہ ہونے سے اس بات کا ثبوت سامنے آتا کہ ایکس رے میں دکھائی جانے والی ہڈیوں کی حالت دیکھ کر مریض کے درد کا تعین نہیں کیا جا سکتا ۔

ریسرچرز کو متعدد تجربات کے بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ ان کا ماڈل کیلگرین لارینس گریڈ کے مقابلے میں سفید فام اور سیاہ افراد کی تکلیف کی بہتر نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس سسٹم کو ہسپتالوں میں متعارف کرنے سے سیاہ فام افراد کے خلاف نسلی تعصب میں 50 فیصد کمی ممکن ہے۔

مذید پڑھیں : لاہور دھرنے کے اطراف میں تیزاب اور کیمیکل ملا پانی چھوڑ دیا گیا

تاہم ریسرچرز کے مطابق اس تحقیق کا مقصد اس الگارتھم کو ہسپتال میں متعارف کرنا نہيں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ کیلگرین لارینس گریڈ 100 فیصد درست نہيں ہے، اور اس کا نقصان ان تمام افراد کو ہوتا ہے جو سفید فام نہيں ہیں۔ اس سے طبی شعبے کو اپنی پیمائشوں میں تبدیلی متعارف کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ۔اوبرمائر کہتے ہيں کہ ”ہم صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ طبی شعبے میں اس قسم کے الگارتھمز کا استعمال کہاں کیا جاسکتا ہے، اور کونسے مسائل اجاگر ہوتے ہيں جن کی مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔

مشین لرننگ کی مدد سے صحت کے شعبے کی عدم مساوات کا مطالعہ کرنے والی ایم آئی ٹی کی ریسرچر آئرین چین (Irene Chen) نے اس پیپر پر کام نہيں کیا، لیکن انہيں اس کے نتائج میں بہت دلچسپی ہوئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ”اس کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہم مس‏ئلے کو ایک ایسے زاویے سے دیکھ رہے ہيں جس پر پہلے کبھی کسی نے غور نہيں کیا۔“ اس تحقیق کے دوران ریسرچرز نے طبی پیمانوں کے بجائے مریضوں کی بات کو ترجیح دی، اور چین کے مطابق اس سے طبی شعبے کی ایک بڑی خامی اجاگر ہوئی۔

اوبرمائر کہتے ہيں کہ چین کا تجزیہ بالکل درست ہے۔ ان کے مطابق ماہرین کے کارکردگی کو الگارتھم کی درستی کا پیمانہ بنانے سے عدم مساوات میں اضافہ ہوگا، کمی نہيں ہو گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *