شہداء فاؤنڈیشن نے TLP و ناموسِ رسالت ﷺ کا مقدمہ لڑنے کا اعلان

اسلام آباد : شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد) نے مسجد رحمت اللعالمین لاہور کے سامنے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی دھرنے کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔

شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان نے حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کے خلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وقت نے آج لاہور میں سانحہ لال مسجد و جامعہ حفصہ کی یاد تازہ کردی ہے۔ہم جیسے شہدائے لال مسجد و جامعہ حفصہ کا مقدمہ لڑرہے ہیں، بالکل اسی طرح کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ان شہداء کا بھی مقدمہ لڑیں گے، جنہوں نے کریم آقا ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

شہداء فاؤنڈیشن نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے موجودہ صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے پرامن اور نہتے عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے خلاف جاری ریاستی طاقت کے استعمال کو بند کروائیں ۔

مذید پڑھیں :لاہور دھرنے کے اطراف میں تیزاب اور کیمیکل ملا پانی چھوڑ دیا گیا

تفصیلات کے مطابق شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان نے مسجد رحمت اللعالمین لاہور کے سامنے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی دھرنے میں شریک شرکاء کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ترجمان شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے صدر شہداء فاؤنڈیشن طارق اسد ایڈووکیٹ کا ایک بیان جاری کیا گیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ”مسجد رحمت اللعالمین لاہور کے سامنے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ہزاروں پرامن اور نہتے کارکنان آقا ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ۔ موجودہ حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے خود معاہدہ کیا تھا کہ وہ سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کرے گی۔ حکومت نے خود معاہدہ کر کے معاہدہ شکنی بھی خود ہی کی ۔ جس پر احتجاج کرنا کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا آئینی و قانونی حق تھا ۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اپنے بیرونی اسلام دشمن آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پرامن اور نہتے ملکی شہریوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کر کے درجنوں بے گناہ عاشقان مصطفیٰ ﷺ کو شہید کر کے وطن عزیز پاکستان نہ بجھنے والی آگ میں دھکیل دیا ہے ۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کو کچھ حدتک معمول پر لانے کے لئے ضروری ہے کہ درجنوں بے گناہ شہریوں کے قاتل وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد فوری طور پر مستعفی ہوں“۔صدر شہداء فاؤنڈیشن نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے خلاف طاقت کے استعمال کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کے خلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ”حکومت وقت نے آج لاہور میں سانحہ لال مسجد و جامعہ حفصہ کی یاد تازہ کر دی ہے ۔

مذید پڑھیں :کالعدم TLP کے 4 مطالبات سامنے آ گئے

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا لال مسجد آپریشن میں بھی مرکزی کردار تھا۔ شیخ رشید احمد کے ہاتھ پہلے ہی شہدائے لال مسجد و جامعہ حفصہ کے خون سے رنگین تھے ۔ اب اس نے ناصرف خود اپنے ہاتھ عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے خون سے رنگین کئے بلکہ وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھ بھی بے گناہ اور پرامن عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے خون سے رنگین کروائے۔وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے خون کا حساب دینا ہو گا ۔

ہم جیسے شہدائے لال مسجد کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، بالکل اسی طرح کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ان شہداء کا بھی مقدمہ لڑیں گے، جنہوں نے کریم آقا ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا“۔صدر شہداء فاؤنڈیشن نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے موجودہ صورت حال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ”سنہ 2017 میں جب کالعدم تحریک لبیک نے فیض آباد دھرنا دیا تھا، اس وقت موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس وقت کی حکومت کی درخواست کے باوجود فیض آباد دھرنے کے شرکاء کے خلاف یہ کہتے ہوئے طاقت کے استعمال سے انکار کر دیا تھا کہ ہم اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کر سکتے ۔

ہم آرمی چیف کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ آج جن لوگوں کے خلاف بہیمانہ ریاستی طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے،یہ وہی لوگ ہیں کہ جنہیں ملک کا شہری قرار دیتے ہوئے آپ نے ان کے خلاف طاقت کے استعمال سے سنہ 2017 میں انکار کیا تھا۔یہ لوگ آج حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے نکلے ہوئے ہیں۔یہ لوگ پرامن اور نہتے ہیں۔لہٰذا آپ موجودہ صورت حال میں مداخلت کرتے ہوئے نہتے اور پرامن عاشقان مصطفیٰ ﷺ کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کو فوری طور پر بند کروائیں“ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *