لاہور : آپریشن کی اندورنی کہانی عینی شاہد کی زبانی

لاہور :  صبح آپریشن دوران جائے وقوعہ کے قریب رہنے والے ایک صحافی نے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ میں دو گھنٹے چوک یتیم خانہ میں موجود رہا ہوں ۔ سات جوان شہید ہوئے ،اور متعدد زخمی ہیں ۔ میں نے خوفناک حالات دیکھے ہیں۔ وہاں پر موجود لوگ بہت مشتعل ہیں۔ ان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے ۔ ان کی تعدادبھی بہت ہے ۔ اسی فیصد یوتھ ہے ۔

بتایا گیا کہ صبح ساڑھے چار بجے آپریشن شروع ہوا ۔ ایک بجے آپریشن روک دیا گیا کیونکہ تحریک لبیک کے لوگوں کو ہٹایا نہیں جا سکا ۔

مزید پڑھیں :احتجاجی صورتحال اور نقصان کے ذمہ دار TLP سے معاہدہ کرنے والے ہیں : ملی یکجہتی کونسل

میرے سامنے پولیس کی ایک ٹولی کے قریب تین خوبصورت جوان بھاگتے ہوے آئے اور نعرے لگانے لگے کہ یہ لو ہمارا سینہ حاضر ہے ۔ہم نہتے ہیں۔ ہمیں گولی مار دو ۔ ایک نوجوان شدید دکھ اور غصے کے عالم میں رو رہا تھا کہ یارسول اللہ ہم بہت کمزور ہیں ۔ ہمارا یہ ٹوٹا پھوٹا عشق قبول فرمانا ۔ ہم آپ کی گستاخی کا ایک لفظ بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں ۔

قائدین ، مشاہیر و اکابرین اس نازک موقع پر آگے آئیں اور اس ایشو کو سلجھانے کے لیے عملی طور پر جد و جہد کریں ۔ یہی اس نازک وقت کی پکار ہے ۔ اٹھیے! کہیں دیر نہ ہو جائے ۔

عینی شاہد کا کہنا ہے کہ لوگوں میں غم و غصہ اس قدر شدید ہے کہ عوام الناس اعلی اداروں کے افسران ، عمران خان اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے ۔ صحافی و عینی شاہد کا کہنا ہے کہ احتجاجی دھرنے کے شرکا کو موت سامنے نظر آ رہی ہے تاہم انہیں موت سے کوئی پروا نہیں جیسا کہ وہ موت کا ارادہ کر چکے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *