وائس چانسلر کو ISOکے کارکنان نے لاتوں،مکوں اور گھونسوں سے مارا، جامعہ اردو کا موقف

وفاقی جامعہ اردو کے ترجمان نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں واضح کیا ہے کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں ہر سال مذہبی حوالے سے دو پروگرام”یوم حسین ؓ“ اور ”یومِ مصطفی ﷺ“ انتہائی عقیدت و احترام سے منعقد کئے جاتے ہیں اور حسب ِ روایت اس سال بھی ”یوم حسین ؓ“ کا انعقاد جامعہ اردو میں انتہائی عقیدت و احترام سے کیا جاچکا ہے جس میں ملک کے معروف جیّد علماء بذات خود شریک تھے۔

بعد ازاں پہلی مرتبہ خلاف ِ معمول جامعہ اردو کے اسلام آباد کیمپس میں طلباء تنظیم کے ایک چھوٹے سے گروہ نے ایک بار پھر ”یوم ِ حسین ؓ“ منانا چاہا جس کی جامعہ کی انتظامیہ نے بوجہ امتحانات کا آغاز، چہلم کی تعطیل اور دیگر منسلکہ انتظامی مشکلات معذرت کرلی۔ اسلام آباد کیمپس کے طلباء نے کسی حد تک یہ معذرت قبول بھی کرلی مگر کراچی کیمپس کی اسی طلباء تنظیم کے چند شرپسند عناصر نے جامعہ کے پُرامن تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کے لئے انتظامیہ پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور 15اکتوبر 2019 کو وہ انتظامی بلاک کے باہر جمع ہوکر احتجاج کرنے لگے۔

اِس دوران بعد از مغرب جب حسب ِ معمول شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر سید الطاف حسین اپنے آفس سے گھر روانہ ہونے کیلئے اپنی گاڑی کی جانب آئے تو طلباء نے اُن کی گاڑی کو روک کر اُس پر گھونسوں، لاتوں اور مکّوں کا آزادانہ استعمال شروع کردیا اِس دوران سیکورٹی گارڈز، انتظامیہ، رجسٹرار،کیمپس آفیسروغیرہ شیخ الجامعہ کی حفاظت کے لئے آگے بڑھے تو وہ بھی طلباء کی بدتمیزی کی زد میں آئے۔

شیخ الجامعہ تقریباً آدھ گھنٹہ اپنی گاڑی میں ہی محصور رہے بعد ازاں پولیس اور رینجرز نے اُن کی گاڑی کو باہر نکلوایا۔طلباء کے اِس ناروا سلوک کی خبر جامعہ کے اساتذہ ملازمین اور دیگر طلباء میں فوراً ہی پھیل گئی سب نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اگلے دن احتجاجاً تدریسی عمل کا نہ صرف بائیکاٹ کردیا گیا بلکہ جامعہ میں منعقد ہونے والے امتحانات بھی فوری طور پر ملتوی کردیئے گئے۔ نیز ان عناصر کے خلاف نہ صرف ایف آئی آر کٹوادی گئی بلکہ جامعہ میں سینئر اساتذہ اکرام پر مشتمل تادیبی کمیٹی بنادی گئی جو ضابطہ کی کارروائی کا عمل انجام دے گی اور موردِ الزام طلباء کو صفائی کا پورا موقعہ دیا جائے گا۔ جامعہ کی اکیڈمک کونسل میں بھی طلباء کے اس عمل کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

بعد ازاں انجمن اساتذہ کے اراکین نے شیخ الجامعہ کے اسرار اور دیگر طلباء کے وسیع تر تعلیمی مفاد میں 21اکتوبر سے تدریسی عمل کا آغاز کردیا ہے۔ترجمان کے مطابق جامعہ ہمیشہ سے صرف اپنے اُن چند گنے چنے ناسمجھ طلباء کے تربیت کے لئے مختلف تادیبی اقدامات لیتی رہی ہے اور لیتی رہے گی جو کسی بھی حوالے سے جامعہ اردو کی شہرت و نیک نامی کو متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ طلبہ کے حوالے سے حالیہ اقدامات بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *