جامعہ اردو کے اساتذہ و منتظمین وائس چانسلر کے خلاف چال چلنے لگے

وفاقی اُردو یونیورسٹی کی تمام انجمنوں کے اراکین کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں گزشتہ دنوں ہونے والے ناخوشگوار واقعہ کے ردّ ِ عمل کے طور پر آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں چند نکات اتفاق ِ رائے سے طے پائے جس میں طلباء کے وسیع تر مفاد میں تدریسی عمل کو فوری طور پر بحال کردیا گیا۔ انضباطی کمیٹی کے حتمی فیصلے تک ایف آئی آر میں درج ذمہ دار طلباء کے جامعہ میں داخل ہونے پر پابندی ہوگی۔

اجلاس میں بطورِ خاص صدر مملکت پاکستان اور وفاقی جامعہ اردو کے چانسلرڈاکٹر عارف علوی سے بھی گزارش کی گئی کہ جامعہ اور جامعہ کے ملازمین کی سیکورٹی کیلئے فوری اقدامات فرمائیں نیز آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ واقعہ کے روز غفلت برتنے والے اپنے اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی فرمائیں۔

اجلاس میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ واقعہ میں ملوث طلباء کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر سے جامعہ کے ملازمین کسی صورت میں دستبردار نہیں ہوں گے اور آئندہ اِ س قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر ترین اقدامات کئے جائینگے تمام سابقہ طلباء جو کہ جامعہ سے فارغ ہوچکے ہیں اُن کا داخلہ ختم ہوچکا ہے ان کی بھی جامعہ میں داخلے پر فوری پابندی لگائی جائے۔

چند طلباء جو کہ مستقل طور پر جامعہ کے ماحول کو نہ صرف خراب کرتے اور کرواتے ہیں نیز اساتذہ اور ملازمین کو نہ صرف بدنام کرتے ہیں بلکہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی بلواسطہ طور پر دیتے نظر آتے ہیں ان کی جامعہ میں داخلے پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

مستقبل میں کسی بھی ملازم کے ساتھ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو جامعہ کے تمام ملازمین سخت ترین ردّ ِ عمل اپنائیں گے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن جامعات کو علیحدہ فنڈ جاری کرے جو صرف اور صرف سیکورٹی کی مد میں ہو۔ جامعہ اردو کے نام سے تمام تر پرائیویٹ سوشل میڈیا گروپس فی الفور بند کئے جائیں جس کی وجہ سے جامعہ کی نیک نامی متاثر ہورہی ہے نیز یہ سائبر کرائم کو رپورٹ کیا جائے۔

طلباء کی جانب سے شیخ الجامعہ ڈاکٹر سید الطاف حسین کابیان بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے اس کی بھی اجلاس میں بھرپور مذمت کی گئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *