جمعیت علمائےاسلام کے ڈنڈا برداررضاکاروں پر پابندی کا فیصلہ

رپورٹ : اختر شیخ

حکومت کا جمیعت علمائے اسلام (ف) کی ملیشیا فورس انصارالاسلام کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کی زیلی تنظیم انصار الاسلام کے پاس ڈنڈا برداررضاکاروں کی تعداد 80 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے .آزادی مارچ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے، ڈنڈا بردار انصارالاسلام کا قیام آرٹیکل 256 کی خلاف ورزی قرار دیکر اس پر پابندی عائد کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انصارالاسلام کے فورس کا اسلحے سے لیس ہونا بھی خارج از امکان نہیں اور ان کی سرگرمیاں اسلام آباد اور صوبوں کے امن کے لیے خطرہ ہیں، آئین کا آرٹیکل 256 مسلح تنظیم بنانے سے روکتا ہے۔

سمری میں مزید کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کےمطابق کسی مسلح تنظیم کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشن ایکٹ 1974 کے تحت وفاق تنظیم ختم کرنے کی ہدایت کر سکتا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے جمعیت علمائے اسلام ف کی ذیلی تنظیم کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا اور انصار الاسلام کو کالعدم قرار دینے کی سمری وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کی گئی تھی ، سمری وزارت داخلہ کی جانب سےبھجوائی گئی۔

سمری میں کہا گیا تھا کہ جے یوآئی کی ذیلی تنظیم لٹھ بردارہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، ذیلی تنظیم پارٹی منشور کی شق نمبر26 کے تحت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ سے بھی منظوری لے لی ہے، وفاقی حکومت نے آرٹیکل 146 کے تحت وزارت داخلہ کو صوبوں سے مشاورت کا اختیار دے دیا جب کہ وفاقی کی ہدایت پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو ہر قسم کی کارروائی کا اختیار ہوگا، قانون کے مطابق انصارالاسلام پر پابندی عائد کی جائے گی۔

ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انصار الاسلام نامی کوئی جماعت الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہی نہیں اور کسی بھی جماعت کو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرنا وزارت داخلہ کا صوابدید ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کو کالعدم قرار دینا ہوتو معاملہ وزارت داخلہ کو ریفر کیا جاتا ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کو ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ، ملکی سالمیت و خود مختاری کیخلاف اقدام اور دہشتگردی میں ملوث ہونے پر کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

ذرائع وزارت قانون کے مطابق ایکشن ایکٹ کی شق 212 کے تحت وزارت داخلہ کو نوٹیفکیشن کے ذریعہ ڈیکلیریشن جاری کرنا ہوگا، ڈیکلیریشن جاری ہونے کے 15 روز کے اندر وزارت داخلہ جماعت کو کالعدم قرار دینے کا معاملہ سپریم کورٹ بھیجے گی اورسپریم کورٹ کی جانب سے ڈیکلیریشن کو برقرار رکھے جانے کے فیصلہ جماعت کالعدم قرار ہوجائے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *