خاموشی سے گھروں پر راشن دینے والے کون ہیں ؟

تحریر : عدنان نسیم 

الحمداللہ فلاہی خدمات کے حوالے سے جو شہرت و مقام کراچی کو حاصل ہے۔ وہ پاکستان سمیت دنیا کے کسی شہر کو حاصل نہی ہے۔۔ اس شہر کے نوجوان بچے بزرگ سب اپنے اپنے طور پہ کسی نہ کسی کارِ خیر میں اپنا حصہ ملاتے رہتے ہیں۔۔ سخت گرمی ہو ہیٹ اسٹروک ہو تو یہاں ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگ جاتی ہیں ۔ مسافروں کے لیے ٹھنڈے کیمپ لگ جاتے ہیں ۔۔۔ کوئی قدرتی آفت ہو یا کوئی مصیبت اس شہر کے نوجوان اس میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں ۔

گزشتہ برس لاک ڈاون میں جہاں انسانی زندگی مفلوج ہوگئی تھی۔ تو ایسے میں جہاں بڑے بڑے فلاہی ادارے کام کر رہے تھے وہیں کچھ نوجوان بھی اپنی مدد آپ کے تحت عوام الناس کی خدمت میں کوشاں رہے۔۔ گزشتہ برس کراچی کے علاقے لائنز ایریا کے لوگوں کی خدمت کرنے اور انھیں رات کے اندھیرے میں انکی دہلیز تک راشن پہچانے والے۔۔۔ اجمام. . (انجمنِ جامع مسجد امیر معاویہ) کے ساتھیوں نے اس برس بھی ان کی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوے ۔

مذید پڑھیں :خیبر پختون خواہ میں ایک ہی روز میں 3 وزرا مستفی ہو گئے

لائینز ایریا اور اس سے متصل علاقوں میں سفید پوش خاندانوں میں انکی عزتِ نفس کو محفوظ رکھتے ہوے روزانہ کی بنیاد پہ سحر افطار کا اہتمام کیا ہے۔۔ ۔۔۔ اجمام کے ساتھی سفید پوش و غریب و نادار خاندان جو کہ لائنز ایریا و اطراف کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں کے گھروں میں روزانہ پکا پکایا معیاری کھانا سحر افطار میں متعلقہ گھروں میں پہنچا رہے ہیں۔۔۔ یہ اس طرز کی منفرد کاوش ہے۔۔ وگرنہ سحر و افطاری کے بڑے بڑے دسترخوان ہم نے سڑکوں پہ لگے ہوے دیکھے ہیں لیکن اس طرح سفید پوش لوگوں کو ڈھونڈ کے انکو انکے گھروں تک رازداری و عزتِ نفس کے ساتھ انکی مدد کرنے کا یہ منفرد انداز پہلی بار دیکھا گیا ہے۔

اجمام کی کوششوں و کاوشوں سے متاثر ہوکر کراچی کے مختلف علاقوں کے نوجوانوں نے اپنے اپنے علاقوں میں خدمت کمیٹیاں بنا کر کام شروع کر دیا ہے۔۔ خدمت کمیٹی گلزار ہجری۔۔۔ خدمت کیمٹی طارق روڈ۔۔۔ خدمت کمیٹی ڈالمیاں۔۔۔ میں روزآنہ کی بنیاد پہ سحر و افطار کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ جس سے مسافر مساجد اور سفید پوش گھرانے مستفید ہو رہے ہیں۔۔۔ ان خدمت کمیٹیوں کی جانب سے بہت جلد عوام کے لیے سستے پھل اور سبزی کی فراہمی پہ بھی غور کیا جارہا ہے۔۔ تاکہ غربت و مہنگائی سے پریشان عوام کی دسترس سے دور پھل و سبزیاں عوام کو خریدنے میں آسانی ہو ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *