کیا TLP نے 20 اپریل کو اسلام آباد جانے کی تیاری کر لی ؟

اسلام آباد : کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے 20 اپریل کو 12 بجے دن کو اسلام آباد جانے کی تیاری مکمل کر لی ہے ۔

لاہور جامع مسجد رحمت اللعالمین کے باہر اس وقت دھرنے کا چھٹا روز ہے ، جہاں ہزاروں کارکنان موجود ہیں ۔ جو سحری و افطاری وہیں پر کر رہے ہیں ۔ تحریک لبیک پاکستان کے رہننائوں نے وٹس ایپ کے ذریعے 20 اپریل کو احتجاج کی تیاری مکمل کر لی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے 2018 کے الیکشن میں حصہ لینے والے 500 سیاسی امیدواروں سمیت دیگر تمام رہنمائوں کو آن بورڈ لے کر حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ ہر صورت اسلام آباد ناموسِ رسالت مارچ کیا جائے گا ۔جس کے لئے تیاریوں کو باہمی طور پر بانٹ لیا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کے لاہور دھرنے میں پنجاب بھر سے ہزاروں عاشقان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہو گئے ہیں ۔ جس میں کارکنان کا شوق دیدنی ہے ۔ دھرنے میں روزاہ ہزاروں نئے روزانہ کارکنان شریک ہو رہے ہیں ۔ ہزاروں افراد میں مثالی نظم و ضبط کے تحت سحری و افطاری کا بھی انتظام کیا جاتا ہے ۔ دھرنے میں ایک وقت 726 کارکنان سیکورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں :چیئرمین EOBI اظہر حمید کی ممکنہ تقرری چیلنج کرنے کی تیاری

سوشل میڈیا ٹیمیں 

مین اسٹریم میڈیاپ پر پیمرا کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے بعد تحریک لبیک کی سینکڑوں سوشل میڈیا ٹیموں نے پورے پاکستان میں کام تیز کر دیا ہے ۔  روزانہ کی بنیادوں پر ٹوئیٹر ٹاپ ٹریند اور فیس بک ، انسٹاگرام کی پوسٹیں اور یوٹیوب کے چینلز مین اسٹریم میڈیا کی کمی کو پورا کر رہے ہیں ۔ مین اسٹریم مین میڈیا میں پھیلائی جانے والی خبروں کے برعکس تحریک لبیک کی سوشل میڈیا ٹیمیں زیادہ فعال ہیں ۔ اس حوالے سے 17 اپریل کو شیخ رشید نے ایک سوال پر کہا کہ تحریک لبیک والوں کو سوشل میڈیا بہت فعال ہے ۔

تحریک لبیک پاکستان کی سوشل میڈیا ٹیم کی وجہ سے ٹاپ ٹرینڈ

مین اسٹریم میڈیا 

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں تحریک لبیک کراچی کے امیر پہلے کراچی کے امیر علامہ رضی حسینی کا بیان وائرل کرنے کے بعد اس کی حقیقت کو رضی حسینی کے اہل خانہ سے ملاقاتوں اور بیانات کے ذریعے سوشل میڈیا پر کائونٹر کیا گیا ہے ۔ جس کے بعد تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد رضی کے خط کے پروپیگنڈے کا بھی توڑ سوشل میڈیا ٹیموں نے نکال کر سعد رضوی کی اصل رائیٹنگ سامنے لائی ہے ۔

20 اپریل کی تیاری 

تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد رضوی کی جانب سے ویڈیو بیان میں دی جانے والی وارننگ پر کارکنان اور مرکزی شوری کے اراکین بدستور تیار ہیں ۔ مزکزی شوری کے رکن کے مطابق 20 اپریل کی تیاریاں مکمل ہیں اور لاہور مسجد رحمت اللعالمین میں موجود ہزاروں کارکنان 12 بج کر ایک منٹ پر اسلام آباد کی جانب نکلیں گے ۔اس کے لئے لاہور سے لیکر اسلام آباد تک مختلف گائوں اور مساجد میں کارکنان موجود ہونگے جو ان کا استقبال کرتے ہوئے ان قافلے میں شامل ہونگے ۔ کراچی سے بڑی تعداد میں کارکنان لاہور پہنچ چکے ہیں ۔ جب کہ ایک بڑی عداد پنڈی اور اسلام آباد پہنچنا شروع ہو چکی ہے جو مقامی مساجد میں قیام پذیر ہے ۔

حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک بھر پور تیاری کر کے بیٹھی ہے کہ وہ اسلام آباد جائیں گے اور اس کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی لیاقت باغ کے اطراف میں کینٹینر لگا کر راستوں کو 3 روز قبل ہی بند کیا جا رہا ہے ۔

پی ٹی آئی اور ٹی ایل پی 

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے سب سے بڑا نقصان پاکستان مسلم لیگ ن کو دیا گیا تھا ۔ جس کے بعد الیکشن میں بری تعداد میں پنجاب سے ووٹ تحریک لبیک کو ملا تھا ۔ تاہم اب آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کو ووٹ نہ دینے کی مہم شروع کرا دی گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ حالیہ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی بدنامی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے نیچے جا رہا ہے ۔

مذید پڑھیں :مفتی منیب الرحمن نے اہلسنت کا مشترکہ موقف حکومت کے سامنے رکھ دیا
شہدا اور زخمی 

تحریک لبیک کا دعوی ہے کہ ان کے اب تک 30 سے زائد کارکنان شہید ہو چکے ہیں ۔اور اب تک سینکڑوں کارکنان زخمی ہیں اور جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔جس کی وجہ سے نچلی سطح پر خود پی ٹی آئی کے کارکنان ناراض ہو کر پارٹی چھوڑ رہے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا ادراک خود رہنمائوں کو ہو چکا ہے ۔

سیاسی مبصرین کا موقف

عنایت الرحمن شمسی نے ایک کمنٹ میں لکھا ہے کہ ’’ ٹی ایل پی کو دہشت گرد اور کالعدم قرار دینے کی بنیادیں بہت کمزور ہیں، پی پی او کے تحت کسی بھی تنظیم کو کالعدم اور دہشت گرد قرار دینے کیلئے جو کرائیٹیریا طے کیا گیا ہے، ٹی ایل پی اس میں نہیں آتی۔ شاید انہی کمزور بنیادوں کی وجہ سے ہی ٹی ایل پی کیلئے اپیل کی گنجائش چھوڑ دی گئی ہے۔ ٹی ایل پی نے عدالت میں فیصلہ چیلنج کر دیا تو پی پی او کے فارمولے کی روشنی میں ہی یہ فیصلہ بیک فائر کر جائے گا۔

پولیس کے زیرِ حراست تشدد

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق نے لکھا ہے کہ ’’پر تشدد ہنگاموں کے بعد تحریکِ لبّیک پاکستان پر پابندی لگا دی گئی۔ بہت سارے لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ کل سے بہت ساری وڈیوز فیس بک اور وھاٹس ایپ وغیرہ پر گردش میں ہیں جن میں پولیس کے زیرِ حراست لوگوں پر تشدد کو باقاعدہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور تشدد کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ اس تشدد کو ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ گویا وہ دہشت پھیلانے کے لئے ان کلپس کو خود ہی استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ قانون کی اتنی سنگین خلاف ورزیوں کو یوں کھلے عام شیئر کیا جا رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ بے غیرتی کی بات یہ ہے کہ لوگ اس پر تبصرے کر کے قہقہے لگارہے ہیں اور جگتیں لگا رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : تحریک لبیک پر پابندی کے اقدامات کو غیر آئینی ہے : ڈاکٹر فرید پراچہ

ابھی تک کوئی ایک پوسٹ میری نظر سے ایسی نہیں گزری جس میں اس بات پر توجہ دلائی گئی ہو کہ تشدد جرم ہے، مار پیٹ جرم ہے، تذلیل جرم ہے، گالم گلوچ جرم ہے، اور یہ سارے کام تب بھی جرائم تھے جب مظاہرین نے ان کا ارتکاب کیا، اور یہ اب بھی جرائم ہیں، اور زیادہ سنگین جرائم ہیں، جب پولیس ان کا ارتکاب کررہی ہے۔ اس کے جواب میں یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ "بدلہ” لیا جارہا ہے، یا ان کے "کرتوتوں کی سزا” ہے، یا یہ دوسروں کو "عبرت دلانے” کےلیے ہے کیونکہ یہ ساری باتیں تمام دہشت گرد اپنی دہشت گردیوں کو جواز دینے کےلیے ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کہاں مرگیا ہے؟ حقوقِ انسانی والی آنٹیاں کہاں چھپ گئی ہیں؟ عدم تشدد کے دعویداروں کی زبانوں میں کیوں آبلے پڑ گئے ہیں؟ اور عدلیہ کو کیوں سانپ سونگھ گیا ہے؟ یہ دوہرا معیار کب تک ؟ ۔

دوسری جانب تحریک لبیک پر پابندی کے موقف اور معاہدہ کو پورا کرنے کے لئے پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ تمام بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے لبیک کی حمایت کی ہے ۔اور اسمبلی میں بھی آواز اٹھائی ہے ۔تحریک لبیک پر ناجائز پابندیوں کو مسترد کیا جا رہا ہے ۔ جن پارٹیوں نے لبیک کے موقف کی حمایت کی ہے اور حکومت کی سرزنش کی ہے ان کی تعداد 26 ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *