یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

تحریر : حافظ حسین کفایت

مفتی کفایت اللہ صاحب پانچویں مرتبہ پابند سلاسل ہیں اور اس دور حکومت کے ڈھائی سال میں وہ چوتھی بار پابند سلاسل ہیں ۔ ان کی ایف آئی آر میں یہی درج ہوتا ہے کہ انہوں نے ممتاز قادری کی پھانسی کی مذمت کی ہے ۔ انہوں اپنی جماعت کے لیے چندہ جمع کیا ۔ انہوں نے کرونا میں مساجد آباد کرنے کا کہا وغیرہ ۔۔۔ ہر بار پولیس کے ساتھ کچھ خصوصی لوگ ان کی گرفتاری کےلیے آ دھمکتے ہیں ۔

لیکن اس گزشتہ منگل کو میں نے عجیب منظر دیکھا مفتی صاحب فجر کی نماز کے بعد اشراق کی نماز تک اپنے وظائف میں مصروف رہتے ہیں ۔ منگل کو فجر سے فراغت کے بعد اپنے مدرسہ پیدل تشریف لے گئے ۔ خیال تھا کہ مدرسہ کا حساب کتاب معلوم کرلوں کل یکم رمضان ہے تا کہ کمی پیشی کا بندوبست کیا جا سکے ۔

مدرسہ پہنچنے کے فوراً بعد پولیس والے پہنچے انتہائی احترام سے مفتی صاحب کو ان کی گرفتاری سے آگاہ کیا تو مفتی صاحب نے پوچھا اتنا وقت ہے کہ اشراق کی نماز ادا کرسکوں ؟ تو پولیس والوں جواب کے بجائے ان کے آنکھ سے آنسو جاری ہوئے اور نم آنکھ کے ساتھ بوجہ حیا اپنے چہرے دوسری طرف پھیرے ۔

مزید پڑھیں: جہانگیر ترین کے حامی اراکینِ اسمبلی کا حکومت کیخلاف اہم اعلان

جیسے ہی میں خود پہنچا میں نے گرج کے پوچھا آپ کے پاس وارنٹ ہے ؟ تو انہوں نے نظریں جھکاتے ہوئے اسی نم آنکھوں سے جواب دیا کہ ہماری ساری بات مفتی صاحب سے ہو گئی ہے ۔ کچھ خصوصی لوگ آئے ہیں ۔ ہمارے دفتر بیٹھے ہیں اور خود اس تمام عمل نگرانی کر رہے ہیں ۔ میری نظر مسجد کی طرف گئی تو کچھ سادہ کپڑوں میں خصوصی لوگ ٹہلتے نظر آئے ۔

میں نے مفتی صاحب کو وہ دیکھا وہ نماز ادا کر رہے تھے اور پولیس نم آنکھوں سے باہر ان کا انتظار کر رہی تھی ۔ مفتی صاحب باہر آئے اور سب کو جمع کیا دعا کی تو سب پولیس والے دعا میں شامل ہوئے اور مفتی صاحب کو اسی نم آنکھوں معذرت خواہانہ انداز اور جھکی نظروں سے ساتھ لے گئے ۔

میں ان نم آنکھوں معذرت خواہانہ لہجوں اور جھلی نظروں کے ان لمحات کو عجیب منظر سے تعبیر کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا

ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں؟

اور اپنے ان بھائیوں سے بھی ملتمس ہوں کہ ہم جس بھی محکمے میں ہوں اس محکمےکے نوکر ہیں غلام نہیں ہیں غلام ہم صرف آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں جو حکم ضمیر قبول نہ کرے احترام سے انکار کی صورت پیدا کریں تاکہ نوکر اور غلام میں فرق واضح ہو ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *