رمضان المبارک میں برائلر گوشت کی قیمت میں حیران کن اضافہ

کراچی : رمضان المبارک میں مہنگائی کا طوفان، مرغی کا گوشت غریب کی پہنچ سے باہر، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں برائلر گوشت کی فی کلو قیمت پھر سے 500 روپے کی سطح سے اوپر چلی گئی ۔ماہ صیام میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔

مزید پڑھیں: کراچی، رمضان المبارک میں سرکلر ریلوے کے نئے اوقات جاری

شہر کراچی میں ایک بار پھر چکن کی قیمتوں کو پر لگ گئےچکن کا گوشت 500 روپے فی کلو فروخت ہونے لگا۔ماہ مبارک میں بھی کراچی کے عوام مہنگائی سے تنگ، چکن کی قیمتیں پھر حد سے تجاوز کر گئیں۔ بڑھتی قیمتوں پر کمشنر کراچی کی خاموشی نے بڑا سوالیہ نشان اٹھا دیا۔

چکن کی بڑھتی قیمتوں کا کون ذمہ دار کون ہے دکاندار نے صاف ہاتھ اٹھالیے کہتے ہیں کمزور گردن پر چھری پھیرنا کہاں کا انصاف ہےپیچھے سے گوشت مہنگا ملتا ہے آگے سستا کیسے بیچیں دکانداروں نے حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے پرائس لسٹ پر نظر ثانی کی اپیل کردی کہتے ہیں گوشت کے ریٹ صحیح کیے جائیں دوسری جانب پاکستان شماریات بیورو نے ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کر دیئے جس کے مطابق رواں ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.54 فیصد اضافہ دیکھا گیا ۔

مزید پڑھیں:مسجد الحرام میں روزانہ زم زم کی 2 لاکھ بوتلیں تقسیم

رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 18.89 فیصد تک پہنچ گئی ،ایک ہفتے کے دوران 16 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ 11 میں کمی اور 24 میں استحکام رہاادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں کیلے 15.5 فیصد، ٹماٹر 15 فیصد ،آلو 7 ،آٹے کا تھیلے 2.71 اور چکن 80 پیسے مہنگا ہوا ،لہسن 4 فیصد ،مختلف دالیں 2.58 سے 2 فیصد سستی اور ایل پی جی 1 فیصد سستی ،ایک ہفتے میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 26 روپے 9 پیسے مہنگا ہوا، آٹا کا 20کلو تھیلا 988 روپے سے زائد کا ہوگیا،

ایک ہفتے میں ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 6 روپے 16 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک ہفتے میں کیلے 16 روپے درجن، آلو 3 روپے 17 پیسے فی کلو مہنگے ہوئے، بیف 5 روپے فی کلو اور مٹن 7 روپے 28 پیسے فی کلو مہنگا ہوا، ایک ہفتے میں چاول،زندہ مرغی، گھی اور خوردنی تیل بھی مہنگا ہوا، ایک سال کے دوران سرخ مرچ 139 فیصد ،چکن 91 فیصد اور ٹماٹر 77 فیصد مہنگے ہوئے ،ایک سال میں بجلی کے نرخ 67 فیصد،انڈے 47 اور کیلے 35 فیصد مہنگے ہوئے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *