کسٹم نظام میں تکنیکی تبدیلی سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی تحقیقات شروع . رپورٹ

رپورٹ : نادرخان

کسٹم کے نظام میں تکنیکی طریقے سے تبدیلی کر کے قومی خزانے کو نقصان پہچانے کی ایک اور واردات پکڑی گئی ،کسٹم پورٹ قاسم کلکٹریٹ نے جعلی دستاویزات پر متعدد کنسائمنٹس کی کلیئرنس کرانے والے درآمد کنندگان ،کلیئرنگ ایجنٹ اور کسٹم افسران کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئیں .

کسٹم کے بعض اعلیٰ افسران کے آشیر باد کے باعث درآمد کنندگان ،کلیئرنگ ایجنٹ اور کسٹم افسران کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ،ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات پر کارروائی کرنے والے کسٹم افسران کے خلاف مہم چلائی گئی ،ملوث افسران ،کلیئرنگ ایجنٹس اور درآمد کنندگان کو بچایا جاتا رہا ہے۔

کسٹم ذرائع کے مطابق کسٹم کلکٹریٹ پورٹ قاسم نے گزشتہ چند ماہ میں درآمدکنندہ نے کلیئرنگ ایجنٹ اورکسٹمزافسران کے ساتھ مل کرجعلی دستاویزات پر متفرق اشیاءکے متعدد کنسائمنٹس کلیئرکرکے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والی مافیا کا سراغ لگایا ہے۔ذرائع کے مطابق درآمدکنندہ اورکلیئرنگ ایجنٹ نے اپریزنگ افسران اورپرال میں تعینات افسران کے ساتھ مل کر ایگزامینیشن رپورٹ میں ردوبدل کرواکراوراپریزنگ افسرکی ایک منفردآئی ڈی کے ذریعے ون کسٹمزسسٹم میں گڈزڈیکلریشن فائل کرکے کنسائمنٹس کی کلیئرنس کم ظاہر کر کے کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ کسٹم حکام کی جانب سے میسرزحکمت ٹریڈرزکی جانب سے کلیئرکئے جانے والے کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کی ہدایات جاری کی گئی تھی جس کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس نے مذکورہ درآمدکنندہ کی جانب سے کلیئرکئے جانے والے کنسائمنٹس کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ پورٹ قاسم پر کلیئرنس کے منتظرمیسرزحکمت ٹریڈرزکے پانچ کنٹینروں کی جانچ پڑتال کی توانکشاف ہواکہ کنسائمنٹس کی ایگزامینشن رپورٹ میں ردوبدل کرکے کنسائمنٹس کا وزن کم کردیاگیااور فی کنٹینر40لاکھ سے زائد کے ڈیوٹی وٹیکسزچوری کئے گئے ہیں .

اس طرح پانچ کنٹینروں پر مجموعی طورپر 2کروڑسے زائد کے ڈیوٹی وٹیکسزکی چوری کی گئی۔واضح رہے کہ درآمدکنندہ حکمت ٹریڈرزنے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہونے پر ایس آراو1265(I)/2018کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائرکررکھی ہے تاہم سندھ ہائیکورٹ نے درآمدکنندہ کی پٹیشن پر کسٹمزحکام کو حکم دیاہے کہ درآمدکنندہ کے کنسائمنٹس کی کلیئرنس 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کی جائے اورباقی ماندہ 50 فیصد بینک گارنٹی کی صورت میں کورٹ کے ناظرکے پاس جمع کروائی جائے .

کسٹمزحکام نے عدالتی احکامات پر درآمدک نندہ کے 28 کنسائمنٹس کی کلیئرنس ویبوک سسٹم میں موڈیول نہ ہونے کے باعث ون کسٹمزسسٹم سے کلیئرکرنے کی اجازت دیدی تاہم دوران ایگزامنیشن معلوم ہواکہ درآمدکنندہ نے کلیئرنگ ایجنٹ کے ساتھ مل کرایگزامنیشن رپورٹ میں ردوبدل کرکے کم وزن پر کنسائمنٹس کلیئرنس کی گئی جس سے قومی خزانے کو مجموعی طورپر 6 کرور27 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرناپڑا۔

ذرائع نے بتایا کہ کسٹم افسران ،کلیئرنگ ایجنٹ اور درآمد کنندگان کی جانب سے گرین چینل کے غلط استعمال سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے جس کے لئے اگر کوئی کسٹم افسران مافیا کے خلاف کارروائی کرئے تو تمام مافیا ایسے کسٹم افسران کے خلاف ہوجاتے ہیں اور ان کے خلاف ہی مہم شروع ہوجاتی ہے ۔یاد رہے کہ ماضی میں بھی کسٹم افسران ،کلیئرنگ ایجنٹ اور درآمد کنندگان کی جانب سے جان بوجھ کر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر مقدمات کا اندراج ہوا تاہم ہر بار ایسے کسٹم افسران کو بچا لیا جاتا ہے اور درآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹ کمپنیوں کا نام تبدیل کر کے نئی آئی ڈی کے ساتھ کام شروع کردیتے ہیں ۔

بشکریہ .روزنامہ دنیا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *