علماء مشائخ فیڈریشن کا حکومت اور TLP کے درمیان تصفیہ کرانے کا اعلان

کراچی : موجودہ ملکی صورتحال پر تنظیمات اہلسنّت پاکستان کا ہنگامی اجلاس مرکزی سیکریٹریٹ علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان ملیر ہالٹ کراچی میں منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت چیئرمین علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے کی ۔

جب کہ اجلاس میں اہلسنّت رابطہ کونسل پاکستان کے صدر سید مسرورہاشمی خانی، علماء ایکشن کمیٹی کے صدر علامہ حفیظ اللہ،سنی علماء کونسل کے علامہ قاری ضیاء اللہ، تحریک فدائیان ناموس رسالت کے قاری عبدالغفور، تنظیم دفاع تقدیس رسول کے علامہ غلام مصطفی قادری، تنظیم دستہء رضا پاکستان کے علامہ غلام مجتبیٰ قادری، انجمن حب رسول کے علامہ عرفان رسول قاسمی، جمعیت اتحاد اہلسنّت کے قاری فداء الرحمان ہاشمی اور انجمن شیدائیان رسول کے قاری رفیق قادری سمیت دیگر علماء و مشائخ شریک ہوئے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ علماء مشائخ کی اعلیٰ قیادت حکومتی عہدیداروں اور تحریک لبیک کی قیادت سے رابطہ کر کے ماہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں موجودہ سنگین صورتحال کے خاتمے کے لئے قابل عمل اور راستہ نکالنے کی راہ ہموار کریں کریں گے ۔

اہلسنّت تنظیمات کے ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی کہ حکومت ٹی ایل پی سے کیے گئے معاہدے سے انحرافی اور ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کے عمل سے اجتناب کرے۔ حکومت اگر اپنے معاہدوں پر قائم نہیں رہ سکتی تو پھر کرتی کیوں ہے، ٹی ایل پی سی کیئے گئے ۔ معاہدے سے انحرافی سراسر قرآن و سنت کے احکامات سے منہ موڑنے کے مترادف ہے، ماہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ایک سیٹ کے وزیرِ داخلہ ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی کے اشارے پر امن ماحول کو انتشار کی جانب لے جانا چاہتے ہیں جس کی ملک بھر کے علماء مشائخ سخت مذمت کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :مفتی منیب الرحمن نے اہلسنت کا مشترکہ موقف حکومت کے سامنے رکھ دیا

حکومت کا ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے ٹی ایل پی سے کئے گئے معاہدے سے انحراف اس کا بین ثبوت ہے حکومت بیرونی آلہء کار بن کراپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اسلام دشمن قوتوں کی سہولت کار بن گئی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ علماء و مشائخ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پرامن نہتے احتجاج کرنے والوں پر پر تشدد حملے کروا کر خود ماحول کو خراب کرنے کی سازش کی ہے ۔ جو حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکومت کی رٹ کا راگ الاپنے والے علماء مشائخ کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔

قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر بے گناہ بے قصور گرفتار ہزاروں ناموس رسالت کے پروانوں کو فوری طور پر رہاکر کے رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کا موقع دے قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کی قیادت سے کیے گئے معاہدے کے مطابق فوری طور پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرتے ہوئے فرانسیسی اشیاء کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔

قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد رضوی سمیت تمام علماء کرام کو بھی فوری طور پر رہا کر کے معاہدے کی روشنی میں مذاکرات کرکے پر امن حل نکالا جائے اور اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بل میں واضح طور پر ختم نبوت صلی اللہ و سلم اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کے حوالے سے علماء مشائخ کی جانب سے دی گئی تجاویز تحریر کی جائیں ۔

مذید پڑھیں :وزارتِ داخلہ نے TLP کو کالعدم قرار دے دیا

قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعظم فوری طور پر حساس نوعیت کے ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ و سلم کے معاملے پر اپنی کابینہ کے اراکین کو بیان بازی سے منع کریں ۔ قرار داد میں ماہ رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دو سو فیصد اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر ضروریات زندگی کی اشیاء پر بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرتے ہوئے ماہ رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں ذخیرہ اندوزوں مہنگائی کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کریں ۔

عوام کو خود ساختہ مہنگائی سے نجات دلائیں جس کے باعث عوام کا جینا دو بھر ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ غیر جمہوری و غیر آئینی اور حکومتی بوکھلاہٹ ہے ۔ جسے ملک بھر کے علماء مشائخ مسترد کرتے ہیں۔ مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے، مہنگائی اور اپنی نا اہلی کو چھپانے کیلئے حکومت جان بوجھ کر اس طرح کے حالات پیدا کر رہی ہے تاکہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے ۔

مذید پڑھیں :تحریک لبیک پر پابندی کے اقدامات کو غیر آئینی ہے : ڈاکٹر فرید پراچہ

ملک بھر کے علماء و مشائخ نے تحریک لبیک پاکستان پر حکومت کی جانب سے پابندی عائد کرنے والے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے یہ غیر جمہوری و غیر آئینی اقدام ہے ، حکومتی جارحانہ اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ایک دن ایک بات اور دوسرے دن دوسری بات کی جا رہی ہے، محترمہ بینظیر بھٹو کے شہادت کے موقع پر اس سے کئی گنا زیادہ جلاؤ گھیراؤ اور پر تشدد واقعات ہوئے تھے اس پر تو حکومت نے کسی پارٹی پر پابندی اور کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا ۔

مگر تحفظ ناموس رسالت صہ کیلئے نکلنے والے شمع رسالت کے پروانوں کی گرفتاریاں ومقدمات نہ صرف قابل مذمت عمل بلکہ ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں کے منافقانہ کردار کی عکاسی ہوتی ہے ۔ فرانسیسی سفیر کے ملک بدری کا فیصلہ حکومت نے خود معاہدے کی صورت میں کیا تھا اس پر عمل درآمد اس کی ذمہ داری ہے، پر امن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

علماء مشائخ نے کہا کہ ملک اس وقت نازک دور اور عوام مہنگائی کے طوفان سے دوچار ہیں مہنگائی اور اپنی نا اہلی کو چھپانے کیلئے حکومت جان بوجھ کر اس طرح کے حالات پیدا کررہی ہے تا کہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے اسلئے حکومت ہوش کے ناخن لے،معاہدے کی پاسداری انتشار و انار کی کی صورت حال پیدا کرنے کی بجائے معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *