مفتی منیب الرحمن نے اہلسنت کا مشترکہ موقف حکومت کے سامنے رکھ دیا

کراچی : اہلسنت و جماعت کی تمام تنظیموں نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی مخالفت کر دی ۔ حکومت سعد رضوی اور دیگر سیکڑوں قیدی کارکنان کو رہا کر کے معاملات کو بعد از عید خوش اسلوبی سے حل کرے ۔

مفتی منیب الرحمن نے علامہ پیر سید حسین الدین شاہ ، مولانا بشیر فاروق قادری اور ممتاز علماء و زعمائے اہلسنت کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا لکہ موجودہ صورتِ حال کے ذمہ دار تحریک لبیک سے معاہدہ کرنے والے وفاقی وزراء ہیں ۔ کیا انھیں معاہدہ کرتے وقت اس کے اثرات و نتائج کا اندازہ نہیں تھا، کیا انھوں نے معاہدہ کرنے کے بعد تحریک لبیک کی قیادت کو کسی مناسب حل تک آنے کے لیے آمادہ کیا ۔ معاہدے میں حکومت نے یہ ذمے داری قبول کی کہ وہ اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں پیش کریں گے، اگر حکومت میں باقاعدہ سرکاری قرار داد پیش کرنے کی ہمت نہیں تھی ، تو کیا ایک درمیانی راستہ یہ نہیں نکل سکتا تھا کہ وہ اپنے کسی رکنِ پارلیمنٹ کے ذریعے اس موضوع پر ایک پرائیویٹ قرار داد پارلیمنٹ میں پیش کرا دیتے، اس کے بعد یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہوتا ۔

لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگانے والوں پر براہِ راست نشانہ لگا کر گولیاں چلائی گئی ہیں، مختلف ذرائع سے لوگوں نے بتایا ہے کہ کافی لوگ شہید ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ شدید زخمی ہیں۔ دنیا کی مسلّمہ روایت ہے کہ اگر مظاہرین اور احتجاج کرنے والوں کو روکنے کے لیے ناگزیر طور پر گولی بھی چلانی پڑے ، تو جسم کے بالائی حصے پر نہیں چلائی جاتی ، نچلے حصے پر چلائی جاتی ہے تاکہ موت کا باعث نہ بنے، لیکن سوشل میڈیا پر جو تصویریں وائرل ہوئی ہیں ،اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ گولیاں مظاہرین کے جسم کے بالائی حصے پر چلائی گئی ہیں اور یہ قتلِ عمد کے مترادف ہے ، جس کے حکم پر گولیاں چلی ہیں اور جنھوں نے چلائی ہیں،یہ سب اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جوابدہ ہوں گے ۔ ہم شہداء کے خاندانوں کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اورجو پولیس کے افراد جاں بحق ہوئے ،اُن کے لواحقین سے بھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :بھارتی سپریم کورٹ نے تحریفِ قرآن کی درخواست مسترد کر دی

تحریک لبیک پر پابندی لگانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، یہ بھی غیر دانش مندانہ ہے ، اس کے دیرپا منفی اثرات مرتّب ہوں گے، ماضی میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیمیں متبادل ناموں کے ساتھ میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ آپ حکومت کی طاقت اور قانون کے جبر سے لوگوں کی فکر اور مذہبی نظریات کو بدل نہیں سکتے، معاملات کو کسی قابلِ قبول صورت پر لانے کے لیے حکمت و دانش کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ہماری حکومت اور حکمران اس صلاحیت سے عاری ہیں، ان کے نزدیک حکومت صرف جبر وجور ، طاقت کو استعمال کرنے اور دوسروں کو اپنے مقابل حقیر جاننے کا نام ہے ۔ ان سے خیر کی توقع عبث ہے۔ ہم ان مظالم اور حکومت کے اس طرزِ عمل کی شدید ترین مذمت کرتے ہیں ۔

اب بھی وقت ہے کہ حکومت دانشمندی سے کام لے ، سارے گرفتار شدگان کو غیر مشروط طور پر رہا کرے ، ورنہ ان سارے خاندانوں میں حکومت کے خلاف نفرت کا لاوا پکے گا ۔ تحریک کے سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی اور ان کی شوریٰ کے ذمے داران کو رہا کر کے ان سے بامعنی مذاکرات کیے جائیں تاکہ بتدریج صورتِ حال کو معمول پر لایا جا سکے ۔حکومت پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس وقت پاکستان بھر میں اہلسنّت و جماعت کے دینی جذبے سے معمور اور ناموسِ رسالت پر فریفتہ متحرک اور پرجوش نوجوان ذہنی ،فکری اور عملی طور پر تحریک لبیک سے وابستہ ہو چکے ہیں، اگر اس صورتِ حال کا حکمت و تدبیر سے مداوا نہ کیا گیا تو اس کے نتائج آئندہ قومی انتخابات میں حکومت کے لیے بھیانک ہو سکتے ہیں۔

ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان جو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے ، جمہوری دینی سیاسی جماعت ہے ، وہ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملک کے آئین وقانون کے وفادار ہیں، اس لیے ان پر پابندی کا فیصلہ بلاتاخیر واپس لیا جائے۔

مذید پڑھیں :امیر کراچی علامہ رضی حیسنی TLP سے باغی ہو گئے

ہم خطبائے کرام سے اپیل کرتے ہیں کہ جمعۃ المبارک کے خطابات میںشہدائے ناموسِ رسالت کی بلندیِ درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں،تحریک لبیک کے ستم رسیدہ گرفتارکارکنان کی رہائی کے لیے دعا کریں اور اُن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں ، ان کے جذبات کو حوصلہ دیں اور ٹھنڈا رکھیں۔ یہ ملک ہمارا ہے ، اس کا امن اور سلامتی ہم سب کو عزیز ہے، کسی بھی احتجاج میں سرکاری اور نجی املاک کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے ، یہ فعل شرعاً جائز نہیں ہے۔

حکمران دوسروں پر فتوے صادر کرنے سے پہلے اپنے ماضی کے کردار اور ایسے ہی باغیانہ اقوال و افعال کا جائزہ لیں، کیا کبھی انہوں نے خود اعترافِ جرم کر کے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کیا ہے،کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہوتا ہے ،طاقتور اور صاحبِ اقتدارقانون سے بالاتر ہوتے ہیں۔

ہمارے میڈیا پر را،موساد،سی آئی اے، ایم آئی سکس ،خاد، کے جی بی،ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم ہرطرح کے اداروں کانام آسکتا ہے، لیکن تحریک لبیک پاکستان کا نام لینا یا اسکرین پر لکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اس لیے ایک مذہبی تنظیم لکھا جاتا ہے، یہ ہمارا آزاد میڈیا ہے، ظاہر ہے اس میں غیبی ہدایات اور دینی طبقات کے ساتھ ان لبرل اداروں کی اپنی عصبیتیں اور نفرتیں بھی شامل ہیں۔ماضی قریب میں چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ بیس تیس افراد نے دھرنا دے کر کسی شاہراہ کو بلاک کر دیا اور سیکورٹی کے اداروں نے اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے اس ناکہ بندی کو تقویت دی، تب نہ قومی اور ملکی مفاد مجروح ہوا، نہ ایمبولینسوں کی دہائی دی گئی ، نہ یہ کہا گیا کہ لوگوں کے لیے مشکلات پیش آرہی ہیں ، اس سے ریاست وحکومت اور میڈیا کی عصبیت کا ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں :مفتی منیب الرحمن کا TLP کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کا اعلان

اگر حکومت حالات کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے تو تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی اوران کی شوریٰ کے ارکان کو رہاکرے تاکہ وہ اپنی شوریٰ کی مشاورت سے حالات کو کنٹرول کریں، نیز ہم ان کی رہائی کے بعد ان سے اپیل کریں گے کہ زیرِ تصفیہ معاملات کو عیدالفطر کے بعد تک مؤخر کریںاور تمام اسیر کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔
ہم پاکستان کو ریاستِ مدینہ قرار دینے والے وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ تاجدارِ ریاستِ مدینہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی سنتِ جلیلہ پر عمل کرتے ہوئے عفوِ عام کا اعلان کریں اور تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی کے احکام صادر کریں تاکہ آپ کے قول وفعل میں مطابقت نظر آئے۔

پریس کانفرنس میں شریک علمائے کرام میں علامہ سید مظفرحسین شاہ، مفتی عابد مبارک المدنی، علامہ رضوان احمد نقشبندی، مفتی محمد الیاس رضوی اشرفی، مولانا ریحان امجد نعمانی، صاحبزادہ عبدالمصطفیٰ ہزاروی ، علامہ اشرف گورمانی، علامہ رفیع الرحمٰن نورانی، علامہ بلال سلیم قادری، شاہد غوری ،حاجی محمد رفیق برکاتی سمیت دیگر شامل تھے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *