بالآخر 20 برس بعد طالبان کی استقامت سے امریکا انخلا پر مجبور

واشنگٹن : امریکی صدر جوبائیڈن طالبان کی فتح کا بین السطور اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دس سال پہلے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے مقصد حاصل کر لیا تھا، گیارہ ستمبر سے پہلے افغانستان سے تمام فوجی واپس بلا لئے جائیں گے ۔ یکم مئی کی ڈیڈ لائن ورثے میں ملی تھی، یکم مئی سے فوجیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی واپسی کے دوران طالبان نے حملے کیا تو بھرپور دفاع کریں گے ۔دہشت گردوں ک خطرے سے نظریں نہیں ہٹائی جائیں گی،طالبان اور افغان حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دہشت گرد افغانستان کی سرزمین امریکا، اتحادی ممالک کیخلاف استعمال نہیں کر سکیں گے ۔

مزید پڑھیں :رمضان کی برکت سے اہم کیس کے 9 ملزمان 4 برس بعد صلح کیوجہ سے رہا

امریکی صدر نے کہا کہ سفارتی اور انسانی خدمت کے کام افغانستان میں جاری رہیں گے ۔ افغانستان میں امریکی فوج کی غیر معینہ مدت تک موجوگی کا کوئی جواز نہیں، امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ افغانستان میں آج تک 2488 امریکی فوجی جان قربان کر چکے ہیں ۔ ہمیں اب اگلے بیس سالوں کی جنگ لڑنی ہے گزشتہ بیس سالوں کی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات میں پاکستان، روس، چین کا کردار اہم ہے ۔ افغانستان کی مدد کیلئے پاکستان کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے ۔

یاد رہے طالبان نے استنبول میں ہونے والے افغان امن عمل کے کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک غیر ملکی افواج افغانستان سے انخلا نہیں کرتی تب تک کسی مزید کسی کانفرنس میں نہیں جائیں گے ۔

واضح رہے اس سے قبل طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں امریکہ نے افغانستان سے فوج نکالنے کیلئے یکم مئی کی تاریخ دی تھی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *