سابق پولیس چیف شاہد حیات اب حیات نہ رہے ،

اختر شیخ : کراچی کے سابق پولیس چیف شاہد حیات طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے۔

کراچی کے سابق پولیس چیف شاہد حیات طویل علالت کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے، وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

شاہد حیات کی نماز جنازہ کل پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی جائے گی جب کہ تدفین کے لیے میت ان کے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان لے جائی جائے گی۔

شاہد حیات پولیس سروسز گروپ گریڈ 21 کے سینئر افسر تھے ،انہوں نے بطور کراچی پولیس چیف ذمہ داریاں نبھائیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) میں بھی بطور ڈائریکٹر خدمات سر انجام دیں جب کہ ایڈیشنل آئی جی موٹر وے پولیس اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی آئی ڈی کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس میں بھی خدمات انجام دیں۔وہ اے ایس پی صدر اور ایس ایچ او کلفٹن کے عہدوں پر تعینات رہے۔

شاہد حیات ایک نڈر پولیس افسر ہیں، انہوں کے کئی سنگین نوعیت کے کیسز حل کئے، شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کی گرفتاری اور اسے مقدمے کی سماعت کیلئے کراچی لانے تک تمام مراحل کامیابی سے طے کئے۔ انہوں نے عباس ٹاؤن دھماکے کی بھی تحقیقات کی اور متعدد ملوث افراد کو گرفتار بھی کیا ، جبکہ ان کی سب سے بڑی خوبی اس وقت کراچی آپریشن پولیس اور ٹریفک پولیس میں ہزاروں پولیس اہلکاروں کی بھرتی بغیر سفارش کے میٹرٹ پر کی تھی جس کی وجہ سے سندھ حکومت ان سے نالاں بھی تھی .

شاہد حیات کو اکتوبر 2016ء میں پھیھپڑوں کے مرض کے باعث تشویشناک حالت میں نیروبی، کینیا کے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات کی وفات پر آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور محکمہ پولیس کیلئے ان کی خدمات کو سراہا۔اپنے تعزیتی بیان سندھ پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا ہے کہ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر و استقامت کے ساتھ اس صدمے کو برداشت کرنیکی توفیق دے۔

سابق کراچی پولیس چیف شاہد حیات کی میت ابھی نجی اسپتال کے سرد خانے میں رکھی جائے گی،کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا شاہد حیات کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیاہے ۔ سابق کراچی پولیس چیف شاہد حیات کی نمازہ جنازہ کل گارڈن پولیس ہیڈ کوارٹر میں ادا کی جائے گی ۔نمازہ جنازہ کے بعد میت انکے آبائی گاوں ڈی آئی خان روانہ کی جائے گی ، پولیس چیف غلام نبی میمن

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *