حکمتِ عملی اور اس کے اطلاق پر سر سید یونیورسٹی میں ورکشاپ و سیمینار

کراچی :سر سید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ مرکزِ مشاورت و رہنمائی نے ’’حکمت عملی اور اس کا اطلاق "Strategy Execution‘‘ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ اور سمینار کا انعقاد کیا ۔ جس میں سرسید یونیورسٹی کے المنائی، AUC کے بانی و چیف ایگزیکیٹو آفیسر، معروف بزنس ڈیویلپرو کنسلٹنٹ اسد اللہ چودھری نے زیرِ بحث موضوع پر ایک معلوماتی پریزنٹیشن دی ۔

شرکاء میں سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین، رجسٹرار سید سرفراز علی، شعبہ گائیڈنس سینٹر کے سراج خلجی، ڈین، سربراہانِ شعبہ جات و دیگر شامل تھے ۔ اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کے چانسلر جاوید انوار نے باتے کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ کو پروان چڑھانا چاہئے ۔ نئی ایجادات اور نئی تحقیق معیشت کے استحکام کا باعث بنتی ہے ۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سرسید یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ جامعہ کی بقا کا انحصار مستقبل کے لاءحہ عمل پر ہوتا ہے اور اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کی سوچ دیگر لوگوں سے کتنی مختلف ہے ۔ ہر ادارہ اپنی بہتری اور کامیابی کے لیے منصوبے بناتا ہے مگروہ ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ ناکامی کی وجہ منصوبے کی خرابی نہیں بلکہ مالکان کی کاروباری مصروفیات ہوتی ہیں ۔

مذید پڑھیں :صدقہ فطر اور فدیہ کی کم از کم مقدار 140 روپے فی کس مقرر

کاروبار اور حکمت عملی چلانے میں بہت بڑا فرق ہے ۔ تبدیلی، ترقی کے لیے بہت ضروری ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں لوگ تبدیلی سے گریزاں ہیں ۔ دستیاب وسائل اور ذراءع کو مدنظر رکھے بغیر بیک وقت بہت سارے منصوبے شروع کرنا سراسر غلط حکمتِ عملی ہے ۔ ہمیشہ تبدیلی کی پیچیدگی اور ادارے کے متعین کردہ ہدف سے مطابقت رکھنے والی مہارت اور طرز عمل کی ضرورت پر توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام لوگوں کی کوششوں اور کاوشوں کی سمت ایک ہی ہے ۔

کامیابی کے حصول کے لیے شاندار کارکردگی، اور اچھے ٹیم ورک کے ساتھ درست فیصلے میں پہل کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ اونچی سوچ دوسروں کو متاثر کرتی ہے ۔ نئی سوچ ہی آپ کو دیگر اداروں سے ممتاز کرتی ہے  ۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے اسد اللہ چودھری نے کہا کہ 70 فیصد لوگ وژن اور مشن کے فرق کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی انھیں حکمت عملی کے اطلاق کے بارے میں معلوم ہے ۔

مذید پڑھیں :زلفی بخاری کی ایما پر EOBI میں گریڈ 21 کا افسر جعل سازی سے لانے کی تیار

انھوں نے بتایا کہ وژن ایک مقصد ہے جو آپ نے طے کیا ہے جب کہ مشن کا مطلب ہے کہ ہم کیا کرتے ہیں ۔ وژن سرمایہ لگانے والے کو بیچا جاتا ہے جبکہ مشن کاہدف کسٹمرز ہوتے ہیں اور اقدار آپ کے لیے ہوتی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکردگی کا کم سے کم معیار مقرر کریں ۔ اصل چیز کام کرنا نہیں ہے بلکہ ٹھیک کام کرنا ہے ۔

انھوں نے تجویز پیش کی کہ سرسید یونیورسٹی اپنی تحقیق اور تیکنیکی مہارت دیگر اداروں کو فروخت کر کے بہت فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔ مگر اس کے لیے ایک بزنس ماڈل بنانا ہو گا ۔ آپ تمام شعبوں میں اچھی یا یکساں کارکردگی نہیں دکھا سکتے ۔ اپنی شخصیت کو تبدیل کریں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اسے اَپ ڈیٹ کرتے رہیں ۔ سرسید یونیورسٹی ڈیٹا سائنس data science اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس artificial intelligence جیسی بہترین مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔

بلو اوشین blue ocean حکمت عملی کے متعلق بات کرتے ہوئے اسد اللہ چودھری نے کہا کہ آپ ان کسٹمرز پر کام کریں جن کے بارے میں کسی نے ابھی تک سوچا بھی نہیں ہے ۔ وہاں آپ کے مدمقابل کوئی نہیں ہوگا ۔ اس موقع پر اسد اللہ چودھری نے ذہن کو متحر ک کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں کروائیں تاکہ نئے آئیڈیاز سامنے آ سکیں ۔

اختتام تقریب پر شرکاء میں سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے اورچانسلر جاوید انوار نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین، رجسٹرار سید سرفراز علی کے ہمراہ اسد اللہ چودھری کو سرسید یونیورسٹی کا سونیئر پیش کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *