جامعہ اردو : خُرم مشتاق کی ترقی کیخلاف ملازمین میں سخت اشتعال

کراچی :وفاقی اردو یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ ترقیوں پر ملازمین کی تحفظات سامنے آ گئے ۔

شعبہ کمپیوٹر سائنس کے لیب انچارج کو سینئر ملازمین پر ترجیح دیتے ہوئے چور دروازے سے گریڈ 17 میں ترقی دے دی گئی ۔ خرم مشتاق نامی اس ملازم کی تعلیمی اسناد بھی مشکوک پائی گئی تھیں ۔ ملازمین نے پسند اور نا پسند کی بنیاد پر ترقی دینے کے عمل کے خلاف وائس چانسلر جامعہ اردو کو خط ارسال کر دیا ، جس میں ان سے تمام معاملات کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ تقرریوں ،تعیناتی اور ترقیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ضمن میں سینئر ملازمین کی جانب سے اس وقت تحفظات سامنے آئے جب شعبہ کمپیوٹر سائنس میں لیب انچارج کی آسامی پر مشکوک تقرری حاصل کرنے والے خرم مشتاق نامی ملازم کو دیگر سینئر ملازمین پر ترجیح دیتے ہوئے گریڈ 17 میں ترقی دے دی گئی ۔

مذید پڑھیں :زلفی بخاری کی ایما پر EOBI میں گریڈ 21 کا افسر جعل سازی سے لانے کی تیار

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خرم مشتاق کی ملازمت کا خط رجسٹرار کی طرف سے نہیں بلکہ افسر انتظامی محمد شریف نائچ مرحوم کے دستخط سے جاری ہوا تھا ۔ جو سرا سر غیر قانونی ہے کیونکہ وہ افسر انتظامی تقرر کرنے کے مجاز افسر نہیں تھے اور نہ ہی عبدالحق کیمپس میں شعبہ کمپیوٹر سائنس سے ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت جامعہ اردو کے بہت سے سینئر ملازمین اپنے ترقی کے انتظار میں ہیں لیکن ان حق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور یہ افسران مایوسی کا شکار ہو کر اپنی ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں ۔

ذرائع نے خرم مشتاق کے حوالے سے مزید بتایا کہ اس نے اپنے ابتدائی تقرر نامے کو 18 سال تک چھپائے رکھا اور اب اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سینڈیکیٹ کے ممبران کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔جامعہ اردو کے ملازمین نے وائس چانسلر کے نام اپنے مراسلے میں اپیل کی ہے کہ غیر قانونی تقرری اور ترقی پانے والے خرم مشتاق کے خلاف فوری طور پر محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ اہل افسران کو ان کو سنیارٹی کے مطابق اگلے عہدوں پر ترقی دی جائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *