آپ کا انتخاب کیا ہو گا؟

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

میں نے گھڑی کلائی میں باندھی، اپنے کلف لگے سوٹ پر ایک سرسری نگاہ ڈالی ،گاڑی کی چابی اُٹھائی اور گھر سے باہر جانے لگا تو بیگم صاحبہ کی آواز سُنائی دی: ارے جی سنیے !
اور یہ سلسلہ تو گذشتہ 15 سالوں سے جاری تھا ۔ جب بھی میں آفس جا رہا ہوتا یا گھر سے باہر نکلتا تو یہ آواز لازمی سنائی دیتی تھی "ارے جی سنیے !”
خیر ہوم منسٹر کی آواز پر فوراً ہی لبیک کہتے ہوئے کہا : جی ۔
وہ آپ!!!آفس سے جب واپس آئیں تو بچوں کے لیے پھل لیتے ہوئے آئیے گا، ختم ہو گئے ہیں ۔بیگم صاحبہ نے کہا ۔
آپ کو اپنی اولاد کا بڑا خیال رہتا ہے۔ اتنا خیال تو آپ نے گذشتہ 15 سالوں میں ہمارا کبھی نہیں کیا ۔۔۔
چپس بن رہے ہیں، پوچھا کس کے لیے بن رہے ہیں؟ وہ سلمان کو بہت پسند ہیں، اس کے لیے بنا رہی ہو ں۔۔۔
کٹلس فضیل کو بہت پسند ہیں، اس لیے بنا رہی ہوں۔ مقصد اولاد کی ہی خاطر داریاں کی جا رہی ہیں ۔
کمال صاحب ! ماں ہو ں میں ! بیگم صاحبہ نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔
ارے ! تو ہم نےکب کہا، آپ ان کی ماں نہیں ہیں ۔

مزید پڑھیں: کھلاہٹ، ماہ صیام کے پہلے ہی روز اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمانوں پر

بچوں کی صحت ، تعلیم، ان کی تربیت، اچھے بُرے کی تمیز۔۔۔ یہ ہم ماں باپ ہی کی تو ذمہ دار ی ہو تی ہے ۔ آج اگر ہم ان بچوں کو پھل فروٹ نہیں کھلائیں گے تو وہی پیسے ڈاکٹر کو دینے ہوں گے ۔بیگم صاحبہ کا لیکچر جاری تھا ۔
ہم نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا اور ہتھیار ڈالتے ہو ئے کہا : میں اس وقت ایک سیشن میں جا رہاہوں، وہاں دیر ہو جائے گی ۔ آپ کے لیے اور آپ کے بچوں کے لیے پھل لیتا ہوا آؤں گا ۔
تربیتِ اولاد کے حوالے سے ایک مقامی ہوٹل میں سیشن جاری تھا۔ میں ہو ٹل پہنچا تو تقریر شروع ہو چکی تھی ۔ میں پیچھے ہی ایک نشست پر بیٹھ کر تقریر سننے لگا ۔
بہت زبردست انداز تھا موٹیویشنل اسپیکر کا، اُس نے حاضرین سے ایک سوال کیا ۔
آپ کو کس چیز سے محبت ہے ،اپنی زندگی سے؟ ۔۔۔اپنے مال سےیا اپنی اولاد سے ؟
تینوں سے ہی محبت ہے ۔۔۔ہال میں موجود ایک صاحب نے قدرے بلند آواز سے کہا ۔
موٹیویشنل اسپیکر نے جملہ کیچ کیا اور کہا :آپ سے کہا جائے کسی ایک چیز کا انتخاب کرلو تو آپ کا انتخاب کیا ہو گا ؟
ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا ، موٹیویشنل اسپیکر کا لیکچر جاری تھا ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا ۔
مقرر نے بورڈ پر تین لفظ لکھے ۔

مزید پڑھیں: رمضان جیسا پورا سال مگر کیسے ؟

1. زندگی
2. مال
3. اولاد
اور کہا: آپ کو ان تینوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔
بتائیے آپ کس کس کو مائنس minus کریں گے ؟
مال کو مائنس کر دیجیے ۔۔۔ایک آواز بلند ہوئی ۔
ٹھیک ہے مال کو مائنس minus کر دیا ۔ مقرر نے لفظِ مال کو بورڈ سے مٹا دیا، اب ان دو میں سے بتائیے کسے مٹایا جائے؟
آپ کی زندگی یا آپ کی اولاد ؟
وقت کم ہے، فیصلہ کیجیے ۔
اولاد کو بچایا جائے ۔۔۔مجمع میں سے کئی آوازیں بلند ہوئیں ۔
درست ۔۔۔آپ نے درست فیصلہ کیا۔ ہر والدین یہ ہی فیصلہ کریں گے ۔
لیکن حقیقی زندگی میں آپ یہ فیصلہ کرنے سے قاصر کیوں ہیں ؟
کیا مطلب ؟ایک شخص نے سوال کیا ۔
ہم تو ہر چیز پر اپنی اولاد کو فوقیت دیتے ہیں ۔ایک اور صاحب نے مقرر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ۔
حتیٰ کہ جس وقت آپ یہ تقریر کررہے تھے، ہم نے آپ سے یہ ہی تو کہا تھا کہ بے شک ہم نہ رہیں لیکن ہماری اولاد رہے ۔۔۔ایک اور صاحب نے مقرر کو یاد دلایا ۔
ٹھیک ہے آپ کی اس بات سے متفق لیکن ۔۔ ۔مقرر نے ایسے اتفاق کیا کہ جیسے اسے کبھی اختلاف تھا ہی نہیں اور لیکن کہہ کر بات ادھوری چھوڑ دی ۔
فرض کر لیجیے کہ ایک آگ کا سرکس لگا ہوا ہو ۔۔۔آپ کی اولاد کو اس میں کرتب دکھانے کہا جائے۔ کیا آپ اس کو اجازت دیں گے ؟مقرر کی آواز کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ہال میں سناٹا چھا گیا۔
ہرگز نہیں ۔۔۔سب نے ایک ساتھ کہا ۔
ایک مرتبہ پھر سوچ لیجیے اس سرکس میں کام کرنے کا اچھا معاوضہ ملے گا آپ کے بچے کو ۔
نہیں بھئی نہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مجمع میں سے کئی آوازیں بلند ہوئیں ۔
آپ کو ڈر ہے کہ کہیں آپ کا بچہ اس آگ میں گر کر ہلاک نہ ہو جائے ؟
جی بالکل ! ایک صاحب نے کہا۔

مزید پڑھیں: وفاق المدارس العربیہ کے نتائج کب ؟

پھر آپ نے اپنی اولاد کو اس آگ سے بچانے کی تیاری کیوں نہیں کی، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ۔
یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْ ۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔ (القرآن6:66)
اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ،اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللّٰہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
کیا آپ نے اپنی اولاد کو اس آگ سے بچانے کا سامان کیا ؟
آپ مسلمان ہیں۔ آپ کا عقیدہ ہے جنت بھی اور جہنم بھی ہے۔
آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے ہمیشہ یہاں نہیں رہنا ۔
آپ کو معلوم ہے جو نیک اعمال کرے گا، وہ جنت میں جائےگا ۔
آپ کو معلوم ہے جو بُرے اعمال کرے گا، وہ جہنم میں جائے گا ۔
آپ کے بیٹے کا انٹر ویو ہو تو آپ اسے صبح سویرے جگا دیتے ہیں ۔۔۔اسکول ، کالج اور یونیورسٹی بھیجنا ہو تو صبح سویرے بھیج دیتے ہیں ۔۔۔
لیکن مسجد سے حیّ علی الصلاۃ اور حیّ علی الفلاح کی آواز پر ہم خاموش رہتے ہیں ۔
جس رزّاق کا رزق کھاتے ہیں اُس کی بات نہیں مانتے۔ نہ اپنی اولاد کو تلقین اور نصیحت کرتے ہیں ۔۔۔ سو چیے گا ضرور۔
سوچیے گا ضرور ،کیا ہم اپنی اولاد کی تربیت ان خطوط پر کرتے ہیں جہاں وہ قرآن وحدیث اور اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہوئے جہنم کی آگ سے بچ سکیں ؟
کیا ہمارے بچوں کے اخلاق کا جو معیار اللہ و رسول ﷺنے طے کیا ہے، ہمارے بچے اس معیار پر پورا اُترتے ہیں ؟
کیا ہمارے بچے بڑے ہوکر مالِ حرام سے ویسے ہی نفرت کرتے ہیں، جیسے انہیں کرنا چاہیے؟
سوالات بہت سارے تیار ہو جائیں گے جناب ! اور ہر سوال کا جواب ہمارے پاس نہیں میں ہی ہو گا، کیونکہ ہم نے اپنی اولاد کو اس آگ سے بچانے کی کوشش ہی نہیں کی ۔
چند باتیں آپ کو بتا رہا ہوں، عمل کی کوشش ضرور کیجیے گا ۔
بچے کو صرف زبانی مت کہیے کہ یہ کرنا ہے اور وہ نہیں کر نا ہے ، بلکہ کر کے دکھائیے ۔
آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا خود کیجیے ۔
جیسے کتاب پڑھیے ، بچہ آپ کو دیکھ کر خود کتاب پڑھنے کی عادت اپنائے گا ۔
آپ نماز ادا کرنے مسجد جائیے، آپ کا بیٹا بھی جائے گا ۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرلیں ۔ہماری اولاد بھی مطیع و فرمانبردار بن جائے گی ۔
سیشن میں بہت ساری باتیں ہو ئیں اور میں ہوم منسٹر کی ہدایات کے مطابق پھل لےکر گھر پہنچا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ہماری اہلیہ ہمارے لیے چائے بنا کر لے آئیں ۔ چائے پینے کے دوران میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: آپ اور میں اپنے بچوں کے لیے بہت فکر مند رہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں: ہمارے بچے مساجد سے دُور کیوں؟

ہر ماں باپ رہتے ہیں ۔اہلیہ نے چائے کاکپ اُٹھاتے ہوئے کہا ۔
ہم ان کے اسکول ، کالج اور اعلیٰ تعلیم کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے ، قرض لیتے ہیں ،نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں ماں باپ، تب کہیں جا کر اولاد کا کیرئیر بنتا ہے ۔تب کہیں جا کر بچے ڈاکٹر ، انجینیر یا پروفیسر اور بزنس مین بنتے ہیں ۔
ہاں یہ تو ہے ۔اہلیہ نے مجھ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ۔
ایک بات بتاؤ!
جی پوچھیے۔ اہلیہ نے کہا۔
اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ کا بیٹا کب تک انجینیر ڈاکٹر بن جائے گا؟
23 سال کی عمر تک لازمی بن جانا چاہیے ۔
ٹھیک ہے ، کیا سمجھتی ہیں کب تک وہ گھر بنانے اور گاڑی لینے کے قابل ہو جائے گا ؟
میری بیگم حیرت سے میری شکل دیکھنے لگیں کہ یہ میں کیا کسوٹی کھیل رہاہوں ان کے ساتھ۔
آپ پوچھنا کیا چاہا رہے ہیں؟
ارے بتائیےتو آپ! میں نے کہا، تو کہنے لگیں یہ ہی کوئی 40 سے 45 سال کی عمر میں ۔
ٹھیک ہے اور اس کے بعد اس کے اپنے بچے جوان ہونے لگیں گے۔ وہ ان کی شادی اور ان کے کیرئیر کے لیے پریشان ہو نا شروع ہو جائے گا، جیسے ہم ہو رہے ہیں ۔
پچاس ،پچپن سال کی عمرمیں وہ اپنے بچوں کی شادیاں کرے گا اور زندگی اختتام کی جانب بڑھ رہی ہو گی بشرط یہ کہ زندگی وفا کرے ۔
ہا ں یہ تو ہے اور دنیا کا چکر ایسے ہی چل رہاہے ۔اہلیہ نے چائے کی پیالی ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
اگر میں ایک ایسا فارمولہ بتاؤں کہ آپ کے بچے کو کوئی نوکری بھی نہ کرنی پڑے اور ایک بہترین محل اس کے پاس ہو ۔۔۔
اسے کوئی کاروبار بھی نہ کرنا پڑے اور جو نعمت چاہے وہ اسے مل جائے ۔۔۔
آسائشیں اور نعمتیں ہی نعمتیں اس کے پاس ہوں ۔۔۔
کیا تم چاہو گی تمہاری اولاد کو یہ سب کچھ حاصل ہو ؟ میں نے کہا۔
کون سے والدین ہوں گے جویہ نہ چاہیں گے؟میری اہلیہ نے مجھے ایسے دیکھا جیسے انہیں میری دماغی حالت پر شُبہ ہو ۔
لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟ میری اہلیہ نے مجھ سے دلیل طلب کی۔
وہ جنت ہے۔۔۔
اگر ہم نے اپنے بچوں کی تربیت اسلام کے اُصولوں کے مطابق کر دی۔ ان کی زندگی بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی۔۔۔ یہ جہنم سے بھی بچ جائیں گے اور جنت بھی انہیں مل جائے گی ۔

مزید پڑھیں: ہمارے بچے

دیکھو! ہم پر اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ دار ی ڈالی ہے ۔
یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْ ۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَا اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۔ (القرآن6:66)
اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ،اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللّٰہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
ہمیں آج سے ہی اِس پر عمل کرنا ہےکیونکہ بچے وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں ۔۔۔ قرآن مجید کی تلاوت کیے ہوئے مجھے کئی دن ہو چکے ہیں، ہمیں اب روزانہ ترجمے اور تفسیر کے ساتھ اس کی تلاوت کرنا ہو گی ۔
ان شاء اللہ ۔ میری اہلیہ نے کہا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *