جامعہ اردو، وائس چانسلرڈاکٹرالطاف حسین پرISO کارکنوں نے حملہ کردیا ۔

جامعہ ارد و میں منگل کی دوپہر ایک بجے اس وقت صورتحال کشیدہ ہوئی جب امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (ISO)نامی طلبہ تنظیم کی جانب سے جامعہ کے ایڈمن بلاک کے باہر احتجاج کیا گیا ۔اس احتجاج کی شنوائی اور مظاہرین سے ا ن کا مطالبہ سننے کے لئے انتظامی افسران باہر کی جانب نہیں آئے جس کی وجہ سے طلبہ بھی شام 6بجے تک دھرنا دیکر بیٹھے رہے ۔او ر نعرے بازی بھی کرتے رہے ۔

جس کے بعد وائس چانسلر نے قدرے تاخیر کے ساتھ شام 6بجے گھر جانے کے لئے نیچے اترنے کے لئے کوشش کی تاہم مظاہرین کو دیکھ واپس اپنے کمرے میں بیٹھ گئے اور تھانہ عزیز بھٹی پولیس سمیت رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا ۔تاہم پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں جب وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین اپنے آفس سے نکلے تو احتجاجی مظاہرین نے انہیں روک لیا ،ان کے ساتھ موجودرجسٹرارمحمد صارم اور پرسنل اسسٹنٹ شرجیل نوید غوری کو بھی زدکوب کیا اور وائس چانسلر کا کوٹ چھین کر دور پھینک دیا گیا ور انہیں دھکے دیئے گئے ۔

آئی ایس او کے طلبہ انتظامی عمارت کے باہر دھرنا دیئے ہوئے ہیں

وائس چانسلر گاڑی میں بیٹھے جس کے بعد آئی ایس او کےطلبہ نے وائس چانسلر کی گاڑی روک لی ۔لگ بھگ آدھے گھنٹے تک وائس چانسلر اپنی گاڑی میں محصور رہے ۔جس کے بعد گاڑی سے نکال کر ان کو گھسیٹا اور ان کو ماراپیٹا گیا ۔جس میں وائس چانسلر کے کپڑے پھٹ گئے ۔اس موقع پر تھانہ عزیز بھٹی کے پولیس اہلکار تماشہ دیکھتے رہے ۔اس موقع پر طلبہ نے وائس چانسلر کو یزید کا ساتھی قرار دیکر ان کے خلاف نعرے بھی لگائے ۔

ادھر مذکورہ جھگڑے کی خبر جامعہ کے گھر پہنچ جانے والے اساتذہ و ملازمین بھی پھیلی تو انہوں نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ۔وائس چانسلر کو زدکوب کرنے پر اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی،جس کی وجہ سےاساتذہ نے (بدھ )کو جامعہ اردو کے تینوں کیمپس میں کلاسز کی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔وفاقی اردو یونیورسٹی کے طلبہ کا شیخ الجامعہ سید الطاف حسین پر تشدد کے باعث اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین و افسران کے احتجاج کے باعث کل ہونے والے تمام امتحانات منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔

انتظامی عمارت کے گیٹ کھول کر رات کو آویزاں کئے گئے بینرز

معلوم رہے کہ آئی ایس او کے طلبہ وائس چانسلر سے یوم حسین رضی اللہ عنہ کے پروگرام کے انعقاد کے لئے اجازت لینے کے آئے تھے۔جنہیں اسلام آباد کیمپس کے لئے وائس چانسلر کی اجازت کی ضرورت تھی کیوں کہ اسلام آباد کیمپس کی انتظامیہ نے جمعیت اور آئی ایس او کومشترکہ پروگرام کرنے کی اجازت دی تھی جس پر آئی ایس او کا کہنا تھا کہ دونوں کو ایک ساتھ پروگرام دینے کا مقصد دونوں کو باہم لڑانا ہے ۔اس لئے اکیلے اکیلے پروگرام کی اجازت دی جائے جس میں شیعہ و سنی دونوں علمائے کرام آئیں ۔جیسا کہ وائس چانسلر نے 10محرم کو اجازت دی تھی ۔آئی ایس او کے رابطہ سیکرٹری بابر کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر نے اپنے طلبہ کے لئے اپنے دروازے بند رکھے یہ کہاں کا انصاف ہے ؟۔ہم نے وائس چانسلر پر کوئی ہاتھ نہیں اٹھا ہے ۔وائس چانسلر کا کہنا ہے میں بہت دکھی ہوں ۔مگر میں کسی سے بلیک میل نہیں ہونگا ۔ہم انہیں پیسے بھی دیں اور ان کو پروگرام بھی کرنے دیں ،ایسا ہم نہیں ہونے دیں گے ۔بدھ کو اس پر ہم اساتذہ سے مشاورت کرکے کارروائی کریں گے ۔

اساتذہ کی جانب سے وائس چانسلر کی حمایت میں لگائے گئے بینرز

دوسری جانب انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس آج طلباء تنظیم کی جانب سے شیخ الجامعہ اردو یونیورسٹی کے ساتھ بدسلوکی کی شدید مذمت کرتی ہے اور کل اس واقعہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروائی ۔ انجمن کے تمام اراکین اور تمام معزز اساتذہ کرام سے درخواست ہے کہ کل 9 بجے صبح ایڈمن بلاک گلشن اقبال کیمپس میں شیخ الجامعہ سے اظہار یکجہتی کیلیے شریک ہوں ۔ڈاکٹر شاہداقبال کا کہنا ہے کہ بدھ کو انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس انجمن اساتذہ گلشن اقبال کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کریگی۔ اردو یونیورسٹی کے کسی بھی ملازم بشمول شیخ الجامعہ،اساتذہ کے، کسی قسم کی بدسلوکی ناقابل برداشت ہے ۔ اس معاملے میں ہم تمام ملازمین ایک ہیں ۔

جامعہ اردو کے ترجمان رئیس جعفری کا کہنا ہے کہ طلبہ کی جانب سے جامعہ اردو کے وائس چانسلر کے خلاف ہنگامہ آرائی کرنا اور انہیں ہراساں کرنے کے حوالے سے بدھ کو جامعہ میں ہونے والے تمام پرچے منسوخ کردیئے گئے ہیں ،نئے پرچوں کے انعقاد کا اعلان بعد میں کیا جائے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *