پروگرام "خبردار” اور توہین "اصحابِ اُحد رضی اللّٰہ عنہ "

11 اپریل، 2021ء بروز اتوار، رات گیارہ اور بارہ بجے کے درمیان، ” ایکسپریس نیوز” نامی نجی ٹی وی چینل پر، "خبردار” نامی ایک پروگرام پیش کیا گیا۔ جس کے میزبان "آفتاب اقبال” تھے۔ اس پروگرام میں کی جانے والی مکالمہ بازی اور دیگر بولے جانے والے الفاظ بھی انہی "آفتاب اقبال” نامی صاحب کے تحریر کردہ تھے۔ اس پروگرام کے ایگزیکٹو پروڈیوسر "سید محسن اقبال”، پروڈیوسر "بلال جاوید” اور ایڈیٹر "ساجد انصاری” تھے ۔

اس پروگرام میں میزبان نے پاکستانی عوام کی حالت کو ڈرامائی طور پر پیش کرنے کے لیے چند افراد کو پاکسانی عوام کے مختلف طبقات کے نمائندوں کی حیثیت سے پیش کر کے بتانے کی کوشش کی کہ پاکستانی قوم/عوام بے حس اور خود غرض ہے۔ یہ افراد آپس میں مکالمہ بازی بھی کرتے ہیں ۔ اس مکالمہ بازی کے دوران ایک شخص کا موبائل گر جاتا ہے تو باقی افراد اپنی پریشانیاں بھول کر اس شخص کا گرا ہوا موبائل اٹھانے کے لیے لپکتے اور تلاش کرنے لگتے ہیں ۔

اس موقع پر "آفتاب اقبال” نامی میزبان کہتا ہے، "دیکھیے اخلاقی گراوٹ کا عالم کہ اس کا فون گرا ہے اور اپنے سارے دکھ بھول کر صرف ‘مال غنیمت’ سمیٹ رہے ہیں، یہی کچھ کیا تھا انہوں نے جنگ احد کے موقع پر”۔ میزبان کے ان دل آزار اور زہر آلود الفاظ کو سن کر سامنے بیٹھے ہوئے دو مرد اور ایک عورت بھی میزبان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے تائیداً کہتے ہیں ” بالکل ” ۔

مزید پڑھیں: اساتذہ سے گستاخی، نیا ٹرینڈ بن گیا ہے

ہائے ربّا زمین پھٹ کیوں نہیں جاتی! آسمان ٹوٹ کیوں نہیں جاتا! اسلام کے نام پر لیے گئے ملک کے ٹی وی چینلز سمیت دیگر سطحوں پر آئے روز صحابہ کرامؓ پر اعتراض کیے جاتے ہیں، ان کا تمسخر اڑایا جاتا ہے، صحابہؓ کی توہین و تنقیص کی جاتی ہے ۔۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

قیامِ ریاستِ مدینہ کے دعوے داروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی! ریاستِ مدینہ کے خلیفہ سیدنا عمر فاروقؓ تو صحابہؓ بارے نازیبا لفظ کہنے والے کی زبان کاٹنے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔

ارباب اختیار، بالخصوص مسلمانان پاکستان کے مذہبی راہ نماؤں سمیت تمام مسلمانوں، سے گزارش ہے کہ دفاعِ صحابہؓ کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے ہر سطح پر اس توہینِ صحابہؓ پر اپنا آئینی و قانونی و اخلاقی و مذہبی کردار ادا کرتے ہوئے پرزور احتجاج کریں اور اس روش کی بھرپور مذمت کریں۔ اگر اس چینل کے فون نمبرز ہوں تو انہیں فون کر کے بھی مہذبانہ طور پر شائستگی و وقار کے ساتھ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *