مولانا حنیف جالندھری کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تصویر متنازعہ کیوں بنی ؟

رپورٹ :اختر شیخ

مولانا محمد حنیف جالندھری کی ایک تصویرجس میں وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مل رہے ہیں ، 12 نومبر کو اس وقت سامنے آئی جب حنیف جالندھری کے قبیل کے ایک بڑے عالم دین و سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمن حکومت کے خلاف برسرمیدان ہیں .ایسے موقع پر اس تصویر کو لیکر سوشل میڈیا پر زبردست بحث کی جارہی ہے تاہم وفاق المدارس ، تنظیم المدارس یا جس پلیٹ فارم سے یہ ملاقات کی گئی ،اس پلیٹ فارم کی جانب سے بروقت پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی جس کی وجہ سے پروپیگنڈے اور غلط فہمیوں کو ہوا ملی ہے .

الرٹ نیوز کی جانب سے مولانا محمد حنیف جالندھری سے رابطہ کیا گیا اور ان سے معلوم کیا کہ یہ تصویر کب اور کس موقع کی ہے ،جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ” گزشتہ روز(11 نومبر) ملتان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی رہائش گاہ پراقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن میں قادیانیوں کی درخواست کے حوالے سے بریلوی اور اہلیحدیث علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی ،اس موقع کی تصویر ہے .

جس کے بعد 12 اکتوبر کو رات کے وقت اس پروپیگنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق المدارس کی جانب سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ یہ ملاقات کیوں اور کس مقصد کے تحت کی گئی ہے .

مولانا محمد حنیف جالندھری کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات,علماء کرام نے وزیرخارجہ سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی طرف سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی کردار کشی مہم کا سرکاری طور پردفاع کیا جائے .قادیانیت کا معاملہ 1974 کے بعد صرف ایک مذہبی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کا آئینی معاملہ بھی بن گیا ہے اس لیے پاکستان سرکاری طور پراس کیس کی پیروی کرے ، علماء کرام نے وزیر خارجہ کو یاد دلایا کہ 1988 میں قادیانیوں نے جھوٹ پر مبنی کیس اقوام متحدہ میں لے جانے کی کوشش کی تھی جسے ضیاءالحق شہید کی جانب سے سرکاری وفد بھیج کر ناکام بنایا گیا تھا .موجودہ وقت کا تقاضہ ہے کہ اس تاریخ کو ایک بار پھر دوہرایا جائے. انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت کی طرف سے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ پاکستان کے مفاد کے منافی ہوگا .

انٹرنیشنل ہیومن رائٹس نامی ادارے کی طرف سے قادیانی پروپیگنڈے اورجھوٹ پر مبنی رپورٹ تیار کروا کر ایک مرتبہ پھر قادیانی کیس کو اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق میں لے جایا گیا اور بدقسمتی سے کونسل کے اجلاس کے 41 ویں سیشن کے ایجنڈہ آئٹم کے طور پر اسے بحث کے لیے منظور بھی کر لیا گیا ہے ، جس پر ملک بھر میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اس سلسلے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری اور ممبر اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد حنیف جالندھری کی سربراہی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے ایک نمائندہ وفد نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر کے انہیں صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا وفد میں اہلسنت بریلوی مکتب فکر کے مولانا فاروق خان سعیدی,مولانا قاری عبدالغفار نقشبندی,جمعیت اہلحدیث کے مولانا خالد محمود ندیم اور دیگر علماء بھی شامل تھے-

علماء کرام نے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا کہ قادیانی مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کی کردار کشی اور پاکستان مخالف لابنگ میں مصروف عمل ہیں ان کی حالیہ کوشش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے- انہوں نے وزیر خارجہ سے کہا کہ قادیانیوں کا معاملہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ 7 ستمبر 1974ء کے بعد یہ ایک قومی اور آئینی مسئلہ ہے اس لیے اقوام متحدہ میں پاکستان کو سرکاری طور پر اس کیس کی پیروی کرنی ہوگی-

علماء کرام نے وزیر خارجہ کو یاد دلایا کہ 1988ء میں بھی قادیانی ایسی کوشش کر چکے ، جسے جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے ناکام بنایا- پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پرایک وفد بھیجا گیا جس نے ممبر ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کرکے پاکستانی موقف اور قادیانی پروپیگنڈے سے آگاہ کیا-

علماء کرام نے وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے کر حکومت کے تمام ذمہ داران کو اس کی طرف متوجہ کریں اور مکمل تیاری سے سرکاری طور پر پاکستان کے موقف کا دفاع کیا جائے انہوں نے وزیر خارجہ کے ذریعہ حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تویہ پاکستان کے مفاد کے منافی ہوگا-

اس موقع پر وزیر خارجہ نے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائ اور اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا-اس موقع پر وفاقی وزیر خارجہ نے جامعہ خیر المدارس اور مولانا خیر محمد جالندھری کے خانوادے سے اپنے دیرینہ اور علاقائ تعلق کی بنا پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان کی جانب سے ملنے والا جبہ بھی مولانا جالندھری کو ہدیہ کیا-

یاد رہے کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور دیگر حضرات نے باہمی مشاورت سے اس اہم معاملے میں خصوصی کردار ادا کرنے کے لیے مولانا محمد حنیف جالندھری کے نام ایک خصوصی مکتوب ارسال کیا جوعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماء مولانا اللہ وسایا نے مولانا محمد حنیف جالندھری کی خدمت میں پیش کیا-دریں اثناء مولانا محمد حنیف جالندھری نے ملک بھر کے علماء کرام اوررائے عامہ پر اثرانداز ہونے والے طبقات سے اس حوالے سے شعور و آگاہی مہم شروع کرنے کی اپیل کی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *