اردن کے سو برس مکمل ہو گئے

تحریر : علی ہلال

11 اپریل کو مشرق وسطی کے عرب ملک اردن کو 100 برس پورے ہو گئے ہیں ۔ اردن کی حکومت کورونا وائرس اور ملک میں گزشتہ دنوں ناکام بغاوت کی کوشش کے باعث جشن نہیں منا سکے گی ۔

اردن کی موجودہ حکومت کا نام حکومت اردنیہ ہاشمیہ ہے ۔ جس کی بنیاد 11 اپریل 1921ء کو شریف مکہ حسین بن علی کے بیٹے عبداللہ نے رکھی تھی ۔ اردن اس زمانے میں مشرقی امارت کہلاتی تھی ۔جو دریائے اردن کا مشرقی کنارہ ہے ۔ مغربی کنارا فلسطین کے پاس ہے ۔

1964 اسے مشرقی اردنی امارت سے اردن کردیا گیا جبکہ 1950ء میں قیام اسرائیل کے دو برس بعد اسے فلسطین سے مکمل طور پر علیحدہ کیا گیا ۔ یہی وجہ تھی کہ فلسطینی باشندوں نے اردن کی شدید مخالفت کی ۔ بلکہ شاہ عبداللہ بن حسین کو اسی کے پاداش میں 1951ء میں مسجداقصی کے دروازے پر ایک فلسطینی نوجوان نے گولی مار کر قتل کر دیا۔
ان کے بیٹے طلال بن عبداللہ بادشاہ بنے مگر ایک سال بعد اگست 1952 ء میں ان کی بیماری کے باعث موجودہ شاہ عبداللہ کے والد حسین کو بادشاہ بنایا گیا جو 1999ء تک بادشاہ تھے ۔

مذید پڑھیں :اگر آپ کو رمضان میں راشن کی ضرورت ہو تو ۔ ۔ ۔

اردن شریف مکہ کے خاندان کے پاس رہنے والی واحد حکومت ہے۔ شریف مکہ حسین بن علی 1908 سے سلطنت عثمانیہ کے گورنر بنے ۔ برطانیہ کے ہائی کمشنر برائے مصر کے ساتھ خفیہ خطوط اور ساز باز کے بعد جون 1916 کو عرب گریٹر ریلیوشن شروع کی ۔ جس کے نتیجے میں انہیں حجاز کا بادشاہ بنادیا گیا ۔

برطانیہ شریف حسین کو اس لیے بادشاہ بننے پر تیار ہواتھا تاکہ سلطان عبدالحمید برطانوی استعمار کے خلاف اعلان جہاد نہ کرے ۔اس صورت میں برصغیر سے مصر اور جزیرہ العرب تک برطانوی استعمار کا سورج غروب نہ کر دے۔ اس کی وجہ یہ بنی تھی کہ سلطنت عثمانیہ نے 1914ء میں جنگ عظیم اول میں جرمنی کا ساتھ دیا جس سے برطانیہ فرانس اور روس کے لیے خطرہ پیدا ہوا ۔

برطانیہ نے عربوں کو الگ کرنے کے لیے عرب بغاوت کروادی اور دمشق تک ریل پٹری اڑاکر عرب خطے کو ترکی سے کاٹ دیا ۔ برطانیہ نے شریف حسین کو صرف حجاز کا بادشاہ بنایا جبکہ ان کے بیٹوں کو عراق ،شام اور اردن کی امارتیں دینے کا وعدہ کیا ۔

مذید پڑھیں :استنبول میں مولانا عبید اللہ سندھی کی جائے قیام

بعد ازاں 1920ء میں فرانس لبنان پر فوج کشی کرکے شام کو قبضہ کرلیا اور شریف مکہ کے بیٹے فیصل کو معزول کر کے نکال دیا۔ بعدمیں سلیمان نامی شخص کے ساتھ ساز باز کرکے فرانس نے انہیں شام کی حکومت دینے کا وعدہ کر لیا جو موجودہ شامی صدر بشارالاسد کے پردادا تھے۔

فیصل عراق کے بادشاہ بنے اور عبدااللہ کچھ عرصے تک فرانس کیخلاف مزاحمت کرنے کے بعد حجاز میں اپنے والد کے وزیرخارجہ بن گئے۔ شریف مکہ نے پورے عرب کا بادشا بننے پر اصرار کیا اور 1919ء میں فرانس میں ہونے والے وسائی معاہدے کی مخالفت کر دی ۔

شریف مکہ نے مسجد اقصی کے لیے اس زمانے میں 38 ہزار سونے کی کرنسی کا چندہ دیا ۔جبکہ برطانیہ کے اسرائیلی قیام کے منصوبے کی مخالفت کردی جس پر برطانیہ نے انہیں 1924ء میں معزول کر کے عقبہ اور بعدازاں قبرص میں جلاوطن کر دیا ۔ ان کی جگہ ان کے بڑے بیٹے علی حجاز کے حکمران بنے جنہیں ایک برس بعد آل سعود بادشاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن نے شکست دے دی۔ یوں حجاز اور نجد دونوں آل سعود کے زیرنگین آ گئے ۔

شریف مکہ کو بعد ازاں شدید بیماری کے عالم میں اردن لایا گیا ، جہاں 1931ء میں ان کی وفات ہو گئی اور مفتی امین الحسینی نے انہیں القدس میں دفن کرا دیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *