استنبول میں مولانا عبید اللہ سندھی کی جائے قیام

مولانا عبید اللہ سندھی ہماری تاریخ کے اس عہد کے ایک نمایاں انسان ہیں، جو بدیشی استعمار کی غلامی سے عبارت رہا ہے ۔ غلامی انسانی فطرت کے منافی ہے، قدرت کسی انسان کو غلام بنا کر دنیا میں نہیں بھیجتی ۔ بالفرض غلامی اگر قدرتی اور فطری عمل ہوتی تو آزمائش ، ابتلا اور امتحان کا نظامِ قدرت بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے کہ غلامی بجائے خود ایک بڑی آزمائش اور نا قابل تحمل ابتلا ہے ۔ اس پر مزید کوئی آزمائش لاد دینا جبر ہے اور عدل کے تقاضوں سے متصادم ہے ۔ انسان کو اگر کوئی عبدیت، بندگی اور غلامی زیبا ہے تو وہ وہی ہو سکتی ہے ، جو انسان کے خالق اور کائنات کی اس عظیم و سپریم ذات کی ہو ، جس کی طاقت ، قدرت اور اختیار اپنے سے کسی بر تر وجود کی رہنمائی اور حکمت کے دائرے ، قبضے اور حصار سے ماورا ہے ۔ وہی تنہا کامل ذات ایسی ہے، جس کے سامنے آدمیت پورے وقار کے ساتھ سر بہ سجود ہو تو فخر اور رشک اس کے وجود کے گرد عظمت کا ہالہ قائم کریں۔ انسان غلام ہوتا نہیں ہے، بنا دیا جاتا ہے، انسان کو کون غلام بناتا ہے، وہی جو انسان کے روپ میں یاس یگانہ چنگیزی کے بقول جنہیں خودی کا نشہ چڑھتا ہے اور وہ اس جھوٹے نشے اور لمحاتی خمار میں انا ربکم الاعلیٰ کی کھال اوڑھ کر اپنے جیسے مگر خود سے کمزور انسانوں کیلئے اپنے تئیں خدا بننے لگتے ہیں۔ یگانہ نے اس کیفیت کے متعلق خوب کہا ہے کہ

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ، مگر بنا نہ گیا

خدائی کے جھوٹے خمار کی ترشی کبھی فرد کے اعصاب پر سوار ہوتی ہے تو کبھی اقوام کے تیور کو بھی احساس برتری کی سان چڑھاتی ہے۔ اس کیفیت میں فرد ہو یا قوم دونوں ہی کمزور فرد اور کمزور اقوام کو غلام بنانے پر تل جاتے ہیں ۔ حیوانات کی دنیا میں ایک تھیوری کا چلن ہے، جو ”سروائیول آف دی فٹسٹ” یا بقائے اصلح کہلاتی ہے، یہ ایک نفسیاتی جذبہ ہے جو خوف کی کوکھ سے جنم لیتا ہے ، اس جذبے کے تحت ہر حیوان مسلسل بقا کی فکر اور خوف میں جیتا ہے اور دوسرے سے لڑ جھگڑ کر اسے کمزور کر کے اپنی زندگی یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ ایک منفی اور حیوانی جذبہ ہے، بد قسمتی سے یہ انسانوں میں بھی رائج رہا ہے اور دیکھا جائے تو آج بھی دنیا میں دوسروں پر غلبے اور تسلط کی جتنی کوششیں جاری ہیں، اس کے پیچھے بھی ”جہد للبقا” یا بقا کی جنگ کا یہی منفی حیوانی جذبہ کار فرما نظر آئے گا ۔

مذید پڑھیں :پشاور : سٹی ٹریفک پولیس کا رمضان المبارک کے لیے ٹریفک پلان تیار

سروائیول آف دی فٹسٹ کا محرک اپنے وجود کی بقا کا خوف ہوتا ہے اور یہ دوسروں کو زیر دست لانے پر اکساتا ہے ۔ انگریز ایک شاطر قوم ہے، جس نے ماضی میں گویا بقا کی اس جد و جہد میں ہر اخلاقی و غیر اخلاقی حربے اور ہتھکنڈے کو روا رکھا۔ ہندوستان میں ان کا و رود تجارت و روزگار کے سلسلے میں ہوا اور جب یہاں کی سر زمین کو اپنی بقا سے جڑے مقاصد و ضروریات کیلئے سازگار پایا تو انہوں نے سونے کے انڈے دینے والی اس سر زمین کو فرزندان زمین سے چھین لینے کا پروگرام بنایا اور طاقت اور ریشہ دوانیوں کا ہر ہتھکنڈا بروئے کار لا کر کچھ ہی عرصے میں ہندوستان کے ہاتھی کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور ہندوستان کے باشندوں کو بالجبر اپنا غلام بنا لیا ۔

غلامی کا طوق سخت تر ہونے لگا تو ایک جارح، جابر اور شاطر قوت کی جانب سے تھوپی گئی اس غلامی کے خاتمے اور چھینی گئی آزادی واپس حاصل کرنے کے فطری جذبے نے جن فرزندان زمین میں انگڑائی لی، ان میں مولانا عبید اللہ سندھی بھی نمایاں تھے۔ مولانا سندھی کے انگ انگ میں قدرت نے غلامی اور غلام ساز طاقت سے نفرت کی چنگاریاں بھر دی تھیں۔ وہ غلام ہندوستان کے ایسے آزاد سپوت تھے، جنہیں اپنی فطرت کی پہنائیوں میں مچلتے پارۂ حریت اور اس کی تاثیر اور تقاضوں کا کم عمری میں ہی شعور ہو گیا تھا ۔ وقت کے ساتھ وہ آزادی کے جہاد میں آگے بڑھتے گئے اور پھر وہ لمحہ بھی آیا کہ ہندوستان میں حالات سازگار نہ پاکر وہ افغانستان، پھر روس اور وہاں سے ترکی چلے گئے، تاکہ برطانوی استعمار کی سازشوں کی رسائی سے دور آزاد فضا میں اپنے وطن کی آزادی کی جد و جہد کو منزل سے ہم کنار کرنے کیلئے راہ ہموار کر سکیں۔ ان کوششوں کے دوران وہ کم و بیش تین سال ترکی میں رہے، جہاں سے انہوں نے ہندوستان کی آزادی کا اپنا مشہور زمانہ ڈیکلریشن ( سروراجیہ منشور ) جاری کیا ۔

مذید پڑھیں :خود اعتمادی کو بڑھانے کے دس طریقے

عرصے سے خواہش تھی کوئی تحقیق کار ترکی کے شہر استنبول میں اس مقام کی تحقیق و دریافت کا کام انجام دے، جہاں جلا وطنی کے دوران مولانا سندھی مقیم رہے اور جہاں بیٹھ کر انہوں نے غلام ہندوستان کی آزادی کا خواب اور منصوبہ بُنا ۔ یہ خواہش پروفیسر امجد علی شاکر کی مرتبہ مولانا سندھی کے جلا وطنی کے رفیق اور شاگرد خاص ظفر حسن ایبک مرحوم کی ” آپ بیتی” پڑھتے ہوئے تو کچھ زیادہ جوش سے اُمڈ آئی ۔ ایبک صاحب کی آپ بیتی میں اس بات کا تفصیلی ذکر ملتا ہے کہ استنبول میں مولانا سندھی کی کیا کیا سرگرمیاں تھیں، یہاں تک کہ ان کی ملاقاتوں کا بھی احوال رقم ہے، مگر یہ بات تشنۂ وضاحت ہے کہ وہ استنبول میں کس کس جگہ رہے ۔ اس ضمن میں صرف اتنا پتا ملتا ہے کہ مولانا اور ان کے ساتھی پہلے ایک مقام پر رہے، پھر کچھ مشکلات کی وجہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے تھے…

گزشتہ دنوں فیس بک پر آوارہ خرامی کے دوران ایک فارورڈ پوسٹ نظر سے گزری تو ایسا لگا جیسے کوئی کھوئی ہوئی قیمتی متاع اچانک پھر سے سامنے آ گئی ہو ۔ پوسٹ میں ایک صاحب نے اپنے دورہ ترکی کے دوران استنبول میں اس مقام پر حاضری کا بھی ذکر کیا تھا، جہاں مولانا سندھی مقیم رہے تھے ۔ یہ دیکھ اور سن کر بڑی مسرت ہوئی اور استنبول میں مقیم اپنے دوست نیو ٹی وی کے نمائندے رانا فیصل سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ مقام ڈھونڈ نکالا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں اب ایک لائبریری قائم ہے۔ یہ جگہ ”ہندوستانی منزل” یا ”ہندوستانی تکیہ” کے نام سے معروف تھی، شاید اب بھی اسی نام سے جانی جاتی ہے اور تاریخی سلطان احمد مسجد المعروف نیلی مسجد کے قرب میں آق سرائے کے پاس واقع ہے۔ بلاشبہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ ایک اہم بات ہے۔ امید ہے اس جگہ کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر مستقبل میں اسے مناسب مقام دینے کی کوشش کی جائے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *