حقوقِ کراچی تحریک کا مقصد شہریوں کے مسائل حل کروانا ہے :حافظ نعیم الرحمن

کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران کراچی کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ صرف مال جمع کرنا جانتے ہیں ۔ ”حقوق کراچی تحریک“ کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ شہریوں کے مسائل بھی حل کروانا ہے ۔

بلدیہ ٹاون کی نشست این اے 249  پر ضمنی انتخاب کے اعلان کے ساتھ ہی یہ علاقہ تمام پارٹیوں کا پسندیدہ حلقہ بن گیا، یہ وہی حلقہ ہے جس میں فیکٹری مزدوروں کو آگ میں زندہ جلا دیا گیا، اس وقت کسی نے اس آبادی کی اور سانحہ بلدیہ کے لواحقین کی خبر گیری نہیں کی، آج ضمنی انتخاب کے موقع پر تمام پارٹیوں کو بلدیہ ٹاون یاد آ گیا ۔

بستی کے عوام جان لیں کہ 29 اپریل کے بعد بلدیہ ٹاؤن میں جماعت اسلامی کے سوا کوئی پارٹی نہیں آئے گی جماعت اسلامی رمضان المبارک میں بھی کراچی کے عوام کے حقوق کی جد و جہد جاری رکھے گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے تحت جاری ”حقوق کراچی تحریک“ کے سلسلے میں بلدیہ ٹاؤن کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے ”حق دو بلدیہ ریلی“ حب ریور روڈ پر ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ریلی سے امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی فضل احد حنیف و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مذید پڑھیں :رمضان المبارک امت مسلمہ کو خود احتسابی کا عظیم درس دیتا ہے، شاہ احمد پیرزادہ

ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر، حق دو کراچی کو، بجلی دو بلدیہ کو، پانی دو بلدیہ کو، تعلیم کو دو بلدیہ کو، صحت دو بلدیہ کے پر جوش نعرے لگائے ۔ ریلی کا آغاز حب ریور روڈ سے ہوا ریلی کے شرکا ء موٹر سائیکلوں، ہائی روف، بسوں اور ٹرکوں پر سوار تھے ۔ علاقے میں آمد پر مکینوں اور شرکاء نے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا شاندار استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بلدیہ ٹاون میں ٹینکر مافیا کا راج ہے، حکومتی جماعتوں کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے علاقے کے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ عوام جان لیں کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بلدیہ ٹاؤن سمیت کراچی کے شہریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ وہ حکمران ہیں جنہوں نے کراچی کی مردم شماری کو درست نہیں کیا ۔

انہوں نے کراچی کے شہریو ں کے جائز اور قانونی حقوق غصب کیے ہوئے ہیں ۔ ان حکمرانوں نے مشترکہ مفادات کونسل میں کراچی کے عوام کی صحیح نمائندگی نہیں کی، کراچی کی جعلی مردم شماری کے نتیجے میں شہریوں کو جائز حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے ۔

مذید پڑھیں :مدارس اور رفاہی اداروں کا چندہ، نئے حالات میں نئی حکمتِ عملی کی ضرورت

حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر درست مردم شماری کروائی جائے اور کراچی میں شفاف بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں۔کارکنان گلی گلی جاکر نوجوانوں کو منظم کرکے مثبت سرگرمیاں مہیا کریں اور انہیں جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک میں شامل کریں۔ فضل احد حنیف نے کہا کہ بلدیہ ٹاون کراچی کی قدیم بستی ہے جسے بنیادی ضروریات سے محروم کیا گیا، یہاں پینے کا صاف پانی موجود نہیں ہے ۔

ٹینکر مافیا سرگرم ہے بلدیہ ٹاون میں نعمت اللہ خان نے ماڈل پارک بنوایا تھا جس پر آج عمارت بنادی گئی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، بلدیہ ٹاون کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے، بلدیہ ٹاون میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں ۔ بلدیہ ٹاون کو پہلے بھی جماعت اسلامی نے تعمیر کیا تھا اور مستقبل میں بھی جماعت اسلامی ہی تعمیر کرے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *