سندھ بھر کے بورڈ چیئرمینوں نے از خود انتظامی بحران کیوں پیدا کیا ؟

کراچی : سندھ بھر کے امتحانی بورڈز کے چیئرمینوں نے نادانستہ ،کم علمی اور جلد بازی میں خود مختار اداروں کے کنٹرولرز، سیکرٹریز اوردہرے چارج کے حامل افسران کو ہٹا کر بورڈز میں انتظامی بحران بپا کر دیا ۔

عدالت کی جانب سے CP-No-D-4434 اور D-5842 کے تحت حکم جاری کیا تھا کہ کسی بھی سول سرونٹ ادارے میں کوئی بھی افسر او پی ایس ، دہرے چارج یا کیڈر پوسٹ پر نان کیڈر افسر تعینات نہیں ہو سکتا ۔ تاہم مذکورہ فیصلہ سول سرونٹ کے حوالے تھا جس کا اطلاق خود مختار اداروں ہر نہیں ہو سکتا تھا ۔

سیکرٹری بورڈز اینڈ یونیورسٹیز علم الدین بلو خود دہرے چارج پر ہیں اور ان کے ماتحت مذید اونچے عہدے کے متمنی مدثر خان نے جلد بازی میں حکم نامہ جاری کرایا کہ بورڈز میں فی الفور دہرے چارج کے حامل افسران کو ہٹایا جائے اور ٹیلی فون کر کے افسران کو چارج چھوڑنے کا بھی حکم دیا ۔

مذید پڑھیں :کیماڑی : ANF نے 2 ملزمان سے 37 کلو چرس برآمد کر لی

چیئرمین کی جانب سے خود مختار ادارے ہونے کے باوجود بھی کنٹرولرز اور سیکرٹریز کو ہٹا کر انتظامی بحران پیدا کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے سندھ کے 8 تعلیمی بورڈز جن میں کراچی ٹیکنیکل بورڈ ، میٹرک بورڈ کراچی ، انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی ، حیدر آباد میٹرک و انٹر بورڈ ، سکھر ، میر پور خاص ، لاڑکانہ ، نواب شاہ شامل ہیں ۔

سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کراچی کے چیئرمین ڈاکٹر مسرور شیخ نے کنٹرولر ارباب علی تھہیم اور سیکرٹری قاضی عارف کو ہٹایا ۔ میٹرک بورڈ کراچی کے چیئرمین سید شرف علی شاہ نے قائم مقام سیکرٹری اور بورڈ محمد شائق اور آڈٹ آفیسر کو ہٹایا ۔

مذید پڑھیں :عدالتی فیصلے پر عملدآمد میں سندھ حکومت ناکام

انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی کے چیئرمین ڈاکٹر سعید الدین نے قائم مقام کنٹرولر شجاعت ہاشمی اور سیکرٹری زرینہ راشد کو ہٹایا ۔ان کی جگہ قائم مقام کنٹرولر عادل صدیقی کے بھائی کاشف صدیقی کو چارج دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کاشف صدیقی گورنر ہائوس میں ہوتے تھے جس کے بعد ان کو بورڈ بھیجا گیا اور بعد میں انہوں نے بورڈ میں آنے سے ہمیشہ گریز ہی کیا ۔

حیدر آباد بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد میمن نے کنٹرولر مسرور احمد زئی اور سیکرٹری شاہ نواز کو ہٹایا ۔ سکھر بورڈ کے چیئرمین مجتبی شاہ نے کنٹرولر اور سیکرٹری رفیق پل کو ہٹایا ۔ میر پور خاص بورڈ کے چیئرمین برکت حیدری نے کنٹرولر انور علیم اور سیکرٹری انیس صدیقی کو ہٹایا ۔ لاڑکانہ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر اے بروہی نے کنٹرولر فخرالدین اور سیکرٹری احمد خان کو ہٹایا ۔

مزید پڑھیں :این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں پولنگ کا عمل جاری

معلوم رہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کو سندھ ہائی کورٹ کی پرنسپل بینچ نے 2015 میں قرار دیا تھا کہ ایجوکیشنل بورڈ کے ملازمین  سول سرونٹ نہیں ہیں ۔ اگر یہ سول سرونٹ ہوتے تو ان کے کیسز سروسز ٹریبنول چلتے ۔لہذاہ ان کے تمام مسائل کو سندھ ہائی کورٹ کی سروس بینچ کے سامنے رکھا جائے ۔

ادھر اب حیدر آباد اور میر پور خاص بورڈ کے کنٹرولر نے چیئرمین کے جاری کردہ چارج چھوڑنے کے حکم کیخلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ جس کے بعد عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ جب تک اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ان پر کسی قسم کا ایکشن نہیں لیا جائے ۔ مذکورہ دونوں کنٹرلرز مسرور احمد زئی اور میر پور خاص بورڈ کے کنٹرولر انور علیم خانزادہ بدستور عدالتی حکم کے تحت ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *