‏K&N چکن کی صارفین سے شاپنگ بیگ کے نام پر لُوٹ مار

کہتے ہیں کہ انسان کی ہوس کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھرتی ہے۔ انسان جتنا زیادہ حاصل کرتا جاتا ہے اس کی بھوک اور خواہش اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ پاکستان میں K&N ایک پولٹری سے وابستہ کمپنی ہے جن کے اپنے پولٹری فارمز ہیں۔ یہ چکن اور چکن سے بنی مصنوعات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں کہ مسلمان ملک کا حلال چکن اور اس سے بنی پروڈکٹس دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مقیم مسلمان بہت شوق سے خریدتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ان کی چکن انتہائی مقبول ہے اور بلا مبالغہ ان کا سالانہ اربوں روپے خالص منافع کا کاروبار ہے۔ دنیا بھر میں بڑی بڑی کمپنیز اپنے صارفین کی قدر کرتی ہیں اور حتی الامکان کوشش کرتی ہیں کہ اپنے صارفین کو اپنی پروڈکٹ سے متعلق ہر سہولت فراہم کرسکیں۔

لیکن ہمارے ملک میں گنگا الٹی بہتی ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک جب آپ K&N کی آؤٹلیٹ یا فرنچائز سے کچھ خریداری کرتے تھے تو یہ موٹی پلاسٹک کے بڑے شاپنگ بیگز میں ڈال کر آپ کے حوالے کرتے تھے۔ اب کچھ عرصہ سے انہوں نے پلاسٹک بیگز پر پابندی کے نام پر یہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز مکمل طور پر ختم کردئے ہیں اور اس کی جگہ ایک کپڑے نما مٹیریل سے بنا شاپنگ بیگ متعارف کروایا ہے۔ اس بیگ کو اگر آپ لاکھوں کی تعداد میں بنوائیں تو بمشکل دس روپے اس پر لاگت آتی ہوگی بلکہ ہمارے ایک دوست جن کی لاہور میں کئی بیکریز اور سوئٹس شاپس کی چین ہے بتاتے ہیں کہ بلک میں یہ تھیلا سات روپے کا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: کمر توڑ مہنگائی اور بے بس عوام

لیکن K&N والے یہ بیگ اپنے صارفین کو پچاس روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ یعنی آپ ڈھائی سو کی خریداری کریں یا دس ہزار روپے کی، آپ کو ہر حال میں فی عدد پچاس روپے کے حساب سے یہ بیگ خریدنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر آپ فروزن چکن ھاتھ میں لٹکا کر تو نہیں گھوم سکتے۔

اکثر یہی ہوتا ہے کہ آفس سے واپسی پر یا کسی اور مصروفیت سے وقت نکال کر آپ چکن بھی خرید لیتے ہیں اور بھلا کون آجکل ہروقت پانچ دس کلو گنجائش کا تھیلا اپنے ساتھ رکھ کر گھومتا ہے؟ دوسری بات یہ کہ اگر یہ پابندی پلاسٹک بیگز کے نام پر لگائی گئی ہے تو ان کی ہر پروڈکٹ پلاسٹک کی تھیلی میں ہی پیک ہوتی ہے اس کا کیا؟

یہاں آپ نے دو تین فروزن چکن کے پیکٹ لئے، ایک دو ریڈی ٹو ایٹ پروڈکٹس لیں۔ بل آپ کا چار ہزار روپے بنا۔ اب سیلز مین ان پیکٹس کو کاؤنٹر پر دھرے بل بنانے سے پہلے آپ سے سوال کرے گا کہ شاپنگ بیگ تو آپ خریدیں گے؟ اب گاھک بیچارہ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مجبورا” بیگ خریدے گا۔ پچاس روپے کا بیگ۔ اندازہ کیجئے کہ یہ اپنے صارفین کو کس طرح لوٹ رہے ہیں۔ صارف کو شاپنگ بیگ فراہم کرنا کمپنی یا اسٹور کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور وہ بھی ایسی صورت میں کہ جب آپ کی کوئی بھی پروڈکٹ تین چار سو روپے سے کم کی نہ ہو۔

مزید پڑھیں: سندھ سرکار کی پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی : علامہ رضی حسینی

کیا اس کمپنی کو زرا بھی کوئی شرم یا حیا اپنے صارفین سے آتی ہے کہ نہیں؟ آپ کس طرح اپنے صارف کو دس روپے کا تھیلا پچاس روپے میں فروخت کرسکتے ہیں؟ یہ سیدھی سیدھی بلیک میلنگ ہے۔ میں اس سلسلے میں Consumer Rights Commission of Pakistan (CRCP)، Consumer Court Pakistan، Directorate of Consumer Protection Council, ، The Network for Consumer Protection in Pakistan، Consumers Association of Pakistan. اور دیگر صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والے اداروں سے درخواست کروں گا کہ K&N کو اپنے صارفین کو بلاقیمت شاپنگ بیگ فراہم کرنے کا پابند بنائیں جو ہر طرح سے ایک صارف کا حق ہے۔

سب سے آخری بات یہ کہ کیا اس تھیلے پر بھی منافع کمانا ان کا لُچا پن نہیں ہے؟ تھیلے کی لاگت کے حساب سے بھی اگر چارج کریں تو قبول ہے۔ اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو اپنے ہر اشتہار کے نیچے یہ ضرور خبردار کردیا کریں کہ اپنا تھیلا ساتھ لائیے۔ کمپنی کے تھیلے کی قیمت پچاس روپے علیحدہ چارج کی جائیگی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *