پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی کا 12 اپریل کو کراچی پریس کلب پر احتجاج ہو گا

کراچی : پرائیویٹ اسکول ایکشن کمیٹی کے ذمہ داروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومیں بجری، اینٹوں، سڑکوں، بلڈنگوں اور ڈیموں سے نہیں بنتیں بلکہ پڑھے لکھے اور با شعور افراد سے بنتی ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کا تو یہ نعرہ تھا کہ ہم سڑکوں پر نہیں ہیومن ڈویلپمنٹ (Human Development) پر انویسٹمنٹ کریں گے ۔

مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ ہی ثابت ہوا ۔ کیوں کہ اسکول وہ سب سے پہلا بنیادی پرائیوٹ اسکولز جو اپنی مدد آپ کے تحت  اس قومی فریضے کی ادائیگی میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ حکومت  نے ان اداروں کے ساتھ تعاون تو دور کی بات ہے انتہائی نا مناسب رویہ روا  رکھا ہوا ہے ۔

کویڈ -19 سے پہلے ایک اندازے کے مطابق 22.2 ملین بچے اسکول سے باہر تھے ۔ لیکن اس وبائی بیماری کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ کر ایک اندازے کے مطابق 32.2 ملین ہو گئی ہے ۔ ذرا تصور کریں ملک کی آبادی کتنا بڑا حصہ اسکولوں سے دور ہو گیا ہے ۔ معاشی مجبوری کی وجہ سے بچہ مزدوری کی طرف مائل ہو چکا ہے ۔

مذید پڑھیں :ٹانک : محلہ شیخانوالہ میں سیکٹر کمانڈر ساوتھ کا 11 ویں فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح

مزید یہ کہ اسکولوں کی بندش کے بعد ہم نے 50 ملین بچے کو بھی اسکول سے باہر کر دیا ہے ۔ ہر زندگی اہم ہے اور اسکولوں نے اس بات کا سب سے ذیادہ خیال رکھا ہے، اسی لئے سب سے ذیادہ جس شعبے نے SOPs  پر عمل درآمد کروایا وہ پرائیوٹ اسکولز ہی ہیں ۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کراچی میں اوسطا 3.6 فیصد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں اور پورے سندھ میں تو اس سے بھی کم اور تعلیمی اداروں میں تو نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اس  صورت حال میں پورے صوبے میں معمولات زندگی جاری ہیں کوئی لاک ڈاون کی صورت حال نہیں بس تعلیمی اداروں کو بند کر کے کرونا کو کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔

اگر واقعی حکومت کو لگتا ہے کہ صورتحال تشویش ناک ہے تو پھر مدارس کے بچوں کی زندگیاں کیوں خطرے میں ڈال رہی ہے،  نویں اور دسویں کے بچے اسکولز آسکتے ہیں تو وہ بچہ کیوں نہیں آسکتا جو ذیادہ محفوظ ہے۔

بلوچستان ہمارا پسماندہ ترین صوبہ شمار ہوتا ہے۔ مگر تعلیم کے لحاظ سے سندھ اس وقت پسماندہ ترین صوبہ ہے، ہمیں اس شعبے میں باقی صوبوں کی نسبت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، وزیر تعلیم اپنی پریس کانفرنس میں کہہ رہے تھے کہ پہلے پنجاب  اور خیبر پختون خواہ میں اسکول بند ہوئے اور بعد میں ہم نے کئے ۔ ہمارا وزیر تعلیم سے یہ کہنا ہے کہ سر ہمیں  اُن سے چھٹیوں میں نہیں بلکہ تعلیم کے میدان میں مقابلہ کرنا ہے ۔

مذید پڑھیں :امریکی جیلوں میں کورونا کی بازگشت اور عافیہ صدیقی کا قضیہ

یونیسیف ، ڈبلیو ایچ او، اور دیگر بین الاقوامی ادارے مستقل طور پر اسکولوں کو کھولنے پر ذور دے رہے ہیں ۔ ہم نے یونیسیف کا لنک فراہم کیا ہے جو اسکولوں کو کھولنے کے حق میں ہے اور اس مین کافی تجاویز بھی درج ہیں ۔

https:/www.who.int/emergencies/diseases/novel-coronavirus-2019/question-and-answers-hub/q-a-detail/

 اسٹیرنگ کمیٹی:

کل ہمارے کچھ دوستوں نے پریس کانفرنس کر کے یہ بات بتائی کے  اسٹیرنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر  دو ہفتوں کے لئے اسکول بند کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔  پہلے تمام دوسرے شعبہ جات بند کئے جائیں گے اور آخر میں اگر بہت ضروری ہو ا تو اسکولز بند کئے جائیں گے۔

مگر وزیر تعلیم نے اس متفقہ فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے ایک U-Turn لیا اور ایک ٹوئیٹ کے ذریعے لاکھوں بچوں کو گھر بٹھا دیا ۔

اگر وزیر تعلیم کو خود اکیلے ہی فیصلے کرنے ہیں  تو اسٹیرنگ کمیٹی کی میٹنگ پر کیوں قیمتی وقت اور وسائل برباد کئے جاتے ہیں،  وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں میں بھی ایسی کوئی پریکٹس نہیں تو سر آپ یہ تکلف نہ کریں اور ٹوئیٹ سے ہی کام چلالیا کریں۔

مذید پڑھیں :آڈٹ اعتراضات کے باوجود نعیم شوکت EOBI میں 3 کلیدی عہدوں پر براجمان

اسٹیرنگ کمیٹی میں جو سلیکٹڈ اسکولز کے نمائندے بیٹھے ہیں ان کو کن صلاحیتوں کی بنیا د پر منتخب کیا گیا ہے ۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہی اسکولوں کے حقیقی نمائندے ہیں؟ ہم ذاتی پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر ڈمی نمائندوں کو بٹھانے کی بھر پور مخالفت کرتے ہیں اور سندھ کے تمام ڈویژنز سے منتخب اور حقیقی نمائندوں کوشامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ویکسینیشن: (Vaccination)

پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن  یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اپنے تعلیمی فنڈ میں سے سرکاری اور نجی اسکولز کے ٹیچرز کو بھی ترجیحی بنیاد پر Vaccinate کروائے۔

اعلان: پرائیوٹ اسکولز ایکشن کمیٹی  12 اپریل بروز پیر کو کراچی پریس کلب اور سندھ کے تمام ڈویژنز میں بھر پور احتجاج ریکارڈ کروا ئے گی۔ اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *