لیاقت آباد سرکاری اسپتال کے ایم ایس کے خلاف انکوائری التواء کا شکار

لیاقت آباد کے سرکاری اسپتال میں تین کروڑ روپے کے مبینہ گھپلے کی تحقیقات ملوث ایم ایس کے عدم تعاون کی بناء پر التواء کا شکار ہوگئی۔ محکمہ صحت نے گھپلے میں ملوث افسر کے خلاف انضباطی کارروائی کے بجائے اس کا تبادلہ لیاری جنرل اسپتال کردیا گیا جبکہ زکوٰۃ فنڈ کے عباسی شہید اسپتال سے سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں منتقل ہونے کا انوکھا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ صحت کے مبینہ اسکینڈل میں ڈاکٹر منتظر حیدر کے ہمراہ سندھ حکومت میں شامل جماعت بعض بااثر افراد کے ملوث ہونے پر محکمہ صحت کے افسران پریشان ہیں،بتایا جاتا ہے کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے معطل ایم ایس ڈاکٹر منتظر حیدر نے اپنے اوپر عائد تین کروڑ روپے کے مبینہ غبن کے الزامات کی تحقیقات کیلئے قائم ہونے والی تحقیقاتی کمیٹیوں سے تعاون کرنے سے انکار کردیا اور تین کروڑ روپے کے حسابات گوشوارے پیش کرنے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لینے پر تحقیقاتی کمیٹیوں نے ڈاکٹر منتظر حیدر کی شکایت محکمہ صحت سندھ کو کردی جس پر محکمہ صحت کے حکام نے انضباتی کارروائی کے بجائے معطل ایم ایس کا تبادلہ ان کے گریڈ کے مطابق لیاری جنرل اسپتال میں کردیا .

جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن گزشتہ پیر کو جاری کیا گیا ہے جبکہ تحقیقاتی کمیٹیوں کے ذرائع نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا ہے کہ ڈاکٹر منتظر حیدر کے لیاقت آباد میں چارج سنبھالنے کے بعد عباسی شہید اسپتال سے زکوٰۃ فنڈ کے بیس لاکھ روپے سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد منتقل کیے گئے اور فرضی مستحقین میں اس رقم کا بڑا حصہ تقسیم بھی کردیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت نے تاحال سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد میں کسی کو نیا انتظامی سربراہ مقرر نہیں کیا ہے اور مذکورہ اسپتال بغیر انتظامی سربراہ کے چل رہا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *