آڈٹ اعتراضات کے باوجود نعیم شوکت EOBI میں 3 کلیدی عہدوں پر براجمان

کراچی : ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ بھرتی شدہ جونیئر افسر محمد نعیم شوکت قائم خانی آڈٹ اعتراضات کے باوجود تین تین کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں ۔

نعیم شوکت کی خلاف ضابطہ بھرتی اور ترقیوں کے خلاف گورنمنٹ آڈیٹرز کے پیرا کے باوجود کسی قسم کی تادیبی کارروائی کے بجائے اسے تین کلیدی عہدوں سے نواز دیا گیا ہے ۔ نعیم شوکت پر مبینہ طور پر بھاری کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث ہے ۔

ای او بی آئی سے بطور چیئرمین 18 فروری کو ریٹائر ہونے والے چیئرمین اظہر حمید کھوکھر کے دور میں ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت چیئرمین آفس کراچی سے لیکر وزارتِ سمندر پار پاکستانی اور ترقی انسانی وسائل اسلام آباد ، میں خلاف ضابطہ طور پر ادارہ کے 2 با اثر افسران عاصم رشید ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کی بطور سیکشن افسر ILO اور جبران حسین، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریجنل آفس حسن ابدال کی بطور سیکشن افسر EOBI کی تعیناتی کے علاوہ ہیڈ آفس کے تمام ڈیپارٹمنٹ ، بی اینڈ سی دفاتر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے دفاتر، ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی دفاتر کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے دفاتر اور ملک بھر کے 40 ریجنل دفاتر میں خلاف ضابطہ بھرتی شدہ با اثر افسر ، ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد نعیم شوکت قائم خانی اور نان کیڈر اور جونیئر ترین افسر طاہر صدیق چوہدری ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹرانسفر اینڈ پوسٹنگ HR ڈیپارٹمنٹ کی ایماء پر ادارہ کے سینئر افسران کو یکسر نظر انداز کر کے اور چن چن کر اپنے 2007 ء اور 2014 ء میں بھرتی ہونے والے مخصوص گروپ کے افسران کو انتہائی کلیدی اور منفعت بخش عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے ۔

نعیم شوکت قائمخانی کیخلاف آڈٹ اعتراض کا عکس

واضح رہے کہ سابق چیئرمین اظہر حمید کھوکھر کا خاص دست راست اور فرنٹ مین محمد نعیم شوکت قائم خانی اس Nexus کا گرو اور ای او بی آئی کا ڈپٹی چیئرمین کہلاتا ہے ۔ محمد نعیم شوکت قائم خانی ایمپلائی نمبر 923535 سال 2007 ء میں ادارہ میں خلاف ضابطہ طور پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس کیڈر کے عہدہ پر بھرتی ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ وہ 2015 ء تک ادارہ کے انٹرنل آڈٹ دپارٹمنٹ میں تعینات رہا اور پھر ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت وہ ایک بھاری سفارش کے ذریعہ چیئرمین آفس میں آفس کیڈر کی سیٹ پر فائز ہو گیا تھا اور یہیں سے محمد نعیم شوکت قائم خانی کے لا محدود اختیارات اور ادارہ کے سیاہ سفید کے مالک بننے کا آغاز ہوا تھا ۔

ای او بی آئی کے انتہائی با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارہ میں ہر سطح پرسنگین مالی بدعنوانیوں ، لا قانونیت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک وسیع بازار گرم ہے۔ اس کا اندازہ محمد نعیم شوکت قائم خانی کی خلاف ضابطہ بھرتی اور ترقیوں پر ترقی کے کیس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ جس کے مطابق ای او بی آئی کے مالی سال 2017-18 کا آڈٹ کرنے والے گورنمنٹ آڈیٹرز کی جانب سے 26 نومبر 2018 کو ایک آڈٹ پیرا کے مطابق” محمد نعیم شوکت قائم خانی، ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کی 2007 ء میں ای او بی آئی میں بھرتی کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ ” اشتہار کے بغیر بھرتی، شرائط و ضوابط ” کی خلاف ورزی اور اسے بھرتی کی مقررہ شرائط و ضوابط کیخلاف ورزی کرتے ہوئے گریڈ 17 کے عہدہ کی منظوری دینا خلاف قانون قرار دیا گیا تھا اور آڈیٹرز کی رپورٹ کے مطابق محمد نعیم شوکت اس عہدہ کے لئے درخواست دینے ، تحریری ٹیسٹ میں بیٹھنے اور انٹرویو کے لئے بھی اہل نہیں تھا۔

مذید پڑھیں :من پسند چیئرمین EOBI تعیناتی کیلئے ریکارڈ ترین تیزی

مزید یہ کہ محمد نعیم شوکت کو ای او بی آئی ڈیپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹی ( DCC ) کی سفارش کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محمد نواز نامی کوالیفائڈ امیدوار کی جگہ بھرتی کیا گیا تھا۔ گورنمنٹ آڈیٹرز کی آبزرویشن رپورٹ کے مطابق محمد نعیم شوکت کی ای او بی آئی میں بھرتی، ترقیوں پر ترقیاں اور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن کے عہدہ کا چارج دینے کے معاملہ میں جانب داری (Favouritism) کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔

گورنمنٹ آڈیٹرز نے اپنی رپورٹ میں محمد نعیم شوکت کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی سفارش کی تھی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر گورنمنٹ آڈیٹرز کے اس سنگین آڈٹ پیرا کے باوجود خلاف ضابطہ بھرتی شدہ اور ترقیوں پر ترقیاں لینے والے انتہائی با اثر جونیئر افسر محمد نعیم شوکت قائم خانی کو ادارہ میں بیک وقت تین اہم کلیدی عہدوں ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ، ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن اور اسٹاف افسر برائے چیئرمین، ادارہ کے متعدد معاملات میں فوکل پرسن کے منفعت بخش اور طاقت ور عہدوں سے نوازا گیا ہے ۔ جو ای او بی آئی انتظامیہ، وزارت اور حکومت پاکستان کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔

مذید پڑھیں :اظہر حمید کھوکھر کیخلاف EOBI سمیت لیبر یونیز میں شدید بے چینی

علاوہ ازیں محمد نعیم شوکت قائم خانی ادارہ کے خود ساختہ ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے اعلیٰ سطحی بورڈ آف ٹرسٹیز سمیت منسٹری کے اہم اجلاسوں اور ایف آئی اے اور نیب میں بھی چیئرمین کی نمائندگی کر چکا ہے ۔ لیکن ای او بی آئی میں بڑے پیمانے پر لاقانونیت اور حال ہی میں ریٹائر ہونے والے مطلق العنان اور نالائق ترین چیئرمین اظہر حمید کھوکھر کا فرنٹ مین، جی حضوری اور لاڈلہ افسر ہونے کے باعث آج تک محمد نعیم شوکت قائم خانی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں آئی ہے ۔

ای او بی آئی کے انتہائی قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد نعیم شوکت قائم خانی، سابق چیئرمین اظہر حمید کھوکھر کے فرنٹ مین اور خود ساختہ ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے ای او بی آئی کے ایک بہت ہی بدنام زمانہ افسر اور قادری ٹیکسٹائل ملز بہاول پور سے لاکھوں روپے کی رشوت کی وصولی میں ملوث کامل ممتاز ملک، سابق ریجنل ہیڈ ای او بی آئی کریم آباد کی ملی بھگت سے بحریہ ٹاؤن سے کروڑوں روپے کے بھتہ کی وصولی میں بھی ملوث ہے اور حال ہی میں کامل ممتاز ملک اور سابق ریجنل ہیڈ فیصل آباد اور فیصل آباد میں کرپشن کے بادشاہ کے نام سے معروف مبشر رسول، موجودہ ریجنل ہیڈ بن قاسم کراچی نے کرپشن کیسوں سے جان چھڑانے کے لئے محمدنعیم شوکت قائم خانی کو ایک برانڈ نیو اور مہنگی گاڑی تحفہ میں پیش کی ہے ۔

مذید پڑھیں :کراچی : EOBI کا 15 روز کیلئے دفاتر میں عوامی داخلہ بند کر دیا

بتایا جاتا ہے کہ ای او بی آئی کے ڈائریکٹر جنرل ایڈ منسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی حیثیت سے محمد نعیم شوکت قائم خانی کی دسترس میں ادارہ کی کروڑوں روپے کے پروکیورمنٹس ، آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے کروڑوں روپے مالیت کے پروجیکٹس ، ادارہ کے ملازمین کے قرضہ جات کی منظوری، میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے تحت ملک بھر کے تمام اسپتال، کلینکس، لیباریٹریز ، افسران و اسٹاف ملازمین کے میڈیکل بلوں کی منظوری، موٹر ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی 100 سے زائد سرکاری گاڑیاں ، میٹیننس، ہزاروں لٹر ماہانہ پٹرول کی منظوری، پرزہ جات کی خرید، ہیڈ آفس سمیت ملک بھر کے تمام ای او بی آئی دفاتر کو لاکھوں روپے مالیت کی اسٹیشنری کی خریداری، ملک کے 50 دفاتر کی مینٹننس، ادارہ کے ریجنل دفاتر کے لئے کرایوں پر عمارتوں کا حصول، سیکیوریٹی گارڈز کی تقرری جیسے انتہائی لا محدود اختیارات حاصل ہیں۔ اسی لئے ادارہ کے ہر چھوٹے بڑے افسر اور اسٹاف ملازمین کا اپنے کاموں کے لئے نعیم شوکت سے واسطہ پڑتا ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیئرمین اظہر حمید کھوکھر کے دو برسوں کی مدت میں محمد نعیم شوکت ، چیئرمین کے ساتھ آئے دن کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد کوئٹہ اور پشاور سمیت دیگر شہروں کے سرکاری دوروں کی بدولت لاکھوں روپے کے ٹی اے ڈی اے وصول کر چکا ہے ۔ محمد نعیم شوکت قائم خانی غریب محنت کشوں کی پنشن کے ادارہ کے وسائل اور استحقاق نہ ہونے کے باوجود بڑی گاڑیاں بڑی بیدردی سے استعمال کر رہا ہے ۔ اس کا معمول ہے کہ وہ ہر جمعہ کی دوپہر ادارہ کی سرکاری گاڑی لے کر اپنے آبائی شہر حیدر آباد چلا جاتا ہے اور پھر پیر کو دوپہر میں ڈیوٹی پر ہیڈ آفس آتا ہے ۔ ادارہ میں اس کی حاضری اور رخصتوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ ضابطہ کے مطابق حاضری رجسٹر میں حاضری لگانے اور رخصت کی درخواست اور آؤٹ اسٹیشن اجازت کو کسر شان سمجھتا ہے ۔

مذید ہڑھیں :کراچی: EOBI کے سابق و متنازعہ چیئرمین کو سول ایوارڈ دلوانے کی کوشش

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد نعیم شوکت ادارہ کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کی حیثیت سے ادارہ کے منظور شدہ پینل پر نہ ہونے کے باوجود اپنے اور فیملی کے علاج و معالجہ کے لئے آغا خان اسپتال کی خصوصی سہولیات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے ۔ جب کہ اس کے برعکس محمد نعیم شوکت قائم خانی نے نہایت سنگدلی اور بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بورڈ آف ٹرسٹیز کی منظوری کے باوجود ای او بی آئی کے پرانے افسران اور اسٹاف ملازمین کے بوڑھے اور مختلف سنگین امراض میں مبتلا والدین کے اسپتالوں میں داخلہ اور علاج و معالجہ پر زبانی حکم کے تحت پابندی عائد کی ہوئی ہے ۔ اسی اسٹاف ملازمین کے جائز میڈیکل اور ادویات کے بلوں میں غیر ضروری اعتراضات لگا کر بھاری رقوم کی کٹوتی کر لی جاتی ہے ۔

ای او بی آئی کے خلاف ضابطہ بھرتی شدہ جونیئر افسر محمد نعیم شوکت قائم خانی کے لا محدود اختیارات اور بڑے پیمانے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کے باوجود اس با اثر افسر کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہ ہونے اور ادارہ کی ڈیپوٹیشن انتظامیہ کی جانب سے امتیازی سلوک کی پالیسی کے باعث ادارہ کے پرانے افسران اور اسٹاف ملازمین شدید بددلی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔

انہوں نے ایف آئی اے اور نیب سے محمد نعیم شوکت قائم خانی کی ای او بی آئی میں جعلی طریقہ سے بھرتی، ترقی پر ترقیوں اور غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ میں لاکھوں روپے کی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث ہونے پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی غریب محنت کشوں کے چندے پر چلنے والا ادارہ بوڑھے، معذور محنت کشوں اور وفات پاجانے والے ملازمین کی پردہ دار بیواؤں کے فوائد کے بجائے با اثر اور سفارشی افسران کے فوائد اور لوٹ کھسوٹ کا ادارہ بن گیا ہے ۔

نوٹ : نعیم شوکت پر آڈٹ اعتراض ذیل کے لنک پر کلک کر کے دیکھا جا سکتا ہے ۔

EOBI 12-converted

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *