زیر زمین نمکین پانی سے ہیلو فائٹس با آسانی اُگایا جا سکتا ہے : ڈاکٹر وین شوان مائے

چین کے ڈاکٹر وین شوان مائے نے دنیا بالخصوص چین میں ہیلو فائٹس کے شورزدہ زمینوں کی بحالی میں استعمال اور اس کی کامیاب مثالوں پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خشک اور نیم خشک علاقوں جہاں پانی کی کمی ہوتی ہے میں ہیلو فائٹس کو زیر زمین موجود نمکین پانی کے استعمال سے با آسانی اگایا جا سکتا ہے ، بہت سے ہیلوفائٹ نباتات باآسانی پانی کی بچت کے روایتی کاشتکاری طریقوں مثلاً ڈرپ اریگیشن کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر لیتے ہیں جس کے ذریعے ان کو کثیر مقدارمیں اگایا جا سکتا ہے ۔

یہ ہیلو فائٹ نباتات ایک طرف تو زمین سے نمکیات جذب کرکے اسے قابل کاشت بنانے میں معاون ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب ان کی پیداوار کو بہت سے کاموں مثلاً بطور چارہ مویشیوں کے چارہ کے بروئے کار لایا جاسکتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے تحقیقاتی ادارے ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد اجمل خان کی تحقیقی وعلمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے انسٹی ٹیوٹ ہذا میں منعقدہ سہہ روزہ ورچول بین الاقوامی کانفرنس بعنوان : ”ہیلو فائٹ پودوں کی ماحولیاتی فعلیات اور پائیدار استعمال “  کے دوسرے روز افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

مذید پڑھیں :جامعہ اردو : BA- LLB کے امتحانی فارم 22 اپریل تک حاصل کئے جا سکتے ہیں

ڈاکٹر وین شوان مائے نے مزید کہا کہ ہیلو فائٹ کاشتکاری سڑکوں کے اطراف اور دیگر بنجر زمینوں کے ماحول کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کئی ممالک بشمول پاکستان میں ایسے نمائشی پروجیکٹ شروع کر چکی ہے ۔ جن سے ہیلو فائٹ نباتات کے پائیدار استعمال اور شورزدہ زمینوں کی بحالی میں مدد ملے گی ۔

اس موقع پررومانیہ کے ڈاکٹر ماریس نکسر گریگورے نے تاریخی حوالہ جات کی مددسے رومانیہ کے شورزدہ زمینوں کی بحالی اور اس ضمن میں ہیلوفائٹس کے استعمال پر تحقیقی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1900 سے 1990 تک رومانیہ میں قدرتی طور پر شورزدہ زمینوں پر پائے جانے والی نباتات یا ہیلو فائٹس کے استعمال سے کئی علاقوں کی بحالی کی گئی اور ساتھ شورزدہ زمیوں کے وقوع پر بھی بہت تحقیق کی گئی جو موجودہ دور میں سست رفتار کا شکار ہے،بہر حال ماضی کی مثالوں اور موجودہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس ضمن میں خاطر خواہ تیزی لائی جا سکتی ہے ۔

امریکہ کے ڈاکٹر زونگ جِن لو نے شرکاء کو ایک ہیلو فائٹ پودے سیلیکورنیا لگوویائی کے طور نمکین پانی کی آبپاشی والی غیر روایتی فصل کے استعمال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پودے کی کئی بیماریوں سے مدافع، تیز نموپانے والی اور خوردنی تیل کی پیداوار میں معاون واقسام پیدا کی جا چکی ہیں ۔

مذید پڑھیں :آڈٹ اعتراضات کے باوجود نعیم شوکت EOBI میں 3 کلیدی عہدوں پر براجمان

ان اقسام کو مربوط پولی کلچر نظام کے تحت ساحلی علاقوں میں اگاکر کثیر مالی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں جو ان علاقوں کے غریب کسانوں کے لئے مفید ثابت ہوسکتے ہیں اور اسی طرح کا ایک تجربہ ایریٹیریا میں کیا جاچکا ہے جس کے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

اسپین کے ڈاکٹر آسکرویسنٹے نے ہیلو فائٹس کے استعمال کے ذریعے ساحلی دلدلوں کی بحالی پر اپنی تحقیق سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے ہیلو فائٹس بالخصوص لائمونیم پودوں میں نمکیات کے ساتھ خشک سالی اور سیلابی صورتحال کو بھی برداشت کرنے کی صلاحیت موجودہوتی ہے ۔

ان پودوں میں بہت سے مخالف تکسیدی اور ولوجی دباؤ سے بچاؤ میں معاون کیمیائی مادے پائے جاتے ہیں جو ان کو بہت سی ماحولیاتی تناؤ سے نبردآزما ہونے میں مددکرتے ہیں۔ان خاص کیمیائی خصوصیات کی بناء پر یہ نباتات ساحلی دلدلوں کے مشکل حالات کا سامنا کرپاتے ہیں اور ان کی بحالی میں معاون ہوتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *