غیر قانونی پارکنگ کی رپورٹ 6 ہفتوں میں جمع کرانے کا عدالتی حکم

PSL Traffic Plan

کراچی : شہر قائد میں بدترین ٹریفک جام اور شہریوں سے غیر قانونی اضافی چارجڈ پارکنگ فیس وصولی کیخلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائر گلوبل فاﺅنڈیشن کی درخواست پر جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس راشدہ اسد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔

درخواست گزار چیئرمین گلوبل فاﺅنڈیشن محمد احمد داﺅد نے موﺅقف اختیار کیا کہ شہر قائد بالخصوص ڈسٹرکٹ ساﺅتھ میں بدترین ٹریفک جام معمول بن چکا ہے جب کہ جگہ جگہ پارکنگ مافیا نے پولیس اور دیگر اداروں کی ملی بھگت سے مختلف شاہراہوں، گلیوں، شاپنگ مالز سمیت مختلف جگہوں پر مکمل قبضہ کرلیا ہے ۔

جس کی وجہ سے شہریوں کو بدترین ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ڈی ایم سی، کے ایم سی اور دیگر اداروں کی جانب سے دی جانے والی چارجڈ پارکنگ ایریا میں شہریوں سے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے ۔

مذید پڑھیں :ملک میں 6 ماہ کے دوران 24 لاکھ 75 ہزار 944 ووٹ کا اضافہ

موٹر سائیکل کی فیس 10 روپے کے بجائے 20 اور 30 روپے وصول کی جا رہی ہے اور گاڑی کی پارکنگ فیس 20 روپے کے بجائے 50 اور 100 روپے وصول کی جا رہی ہے۔ متعدد بار مختلف تھانوں اور ٹریفک پولیس کو شکایت کی مگر کسی بھی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ۔

چارجڈ پارکنگ اضافی فیس نہ دینے کی صورت میںشہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔شہریوں سے اضافی چارجڈ پارکنگ فیس کی شکایات معمول بن گئی ہے جس پر پولیس نے بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ چارجڈ پارکنگ کی من مانیاں کئی بار پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا اس مسئلے کو اجاگر کر چکا ہے۔

شہری اضافی فیس نہ دے تو پارکنگ مافیا کے کارندے ٹریفک پولیس کی مدد سے شہریوں کی موٹر سائیکل اور گاڑیوں کو لفٹ کروا دیتے ہیں جسکے باعث شہریوں کو اپنی فیملیز کے ہمراہ شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مذید پڑھیں :آہ ! قادر ضیا بھی چلے گئے

عدالت نے گلوبل فاﺅنڈیشن کے موقف کو سنتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل،کمشنر کراچی، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی، ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ کے ایم سی اور ڈی ایم سی ساﺅتھ کو آئندہ 6 ہفتوں میں مکمل تفصیلی جواب جمع کروانے کی ہدایت جاری کر دی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *