جنگ نام کی نہیں حقوق کی ہے

جنگ نام کی نہیں حقوق کی ہے۔
تحریر : تحریر سجاد احمد سجاد

جب سے قومی اسمبلی میں کے پی کے نام ایک بار پھر تبدیل کرکے صوبہ پختون خواہ رکھنے کی بات ہو رہئ ہے کچھ لوگ سوشل میڈیا پر نیا نام ہزارہ پختون خواہ رکھنے کی وکالت کر رہے ہیں

یاد رکھیں کہ یہئ لوگ ہزارہ اور اس کے 80 لاکھ باسیوں کے دشمن بلکے آستین کے سانپ ہیں کیوں ؟
اس لیے کہ ہزارہ کے عوام کی جنگ لسانیت ۔۔ حسب و نصب ۔ رنگ و نسل یا نام کی نہیں ہے ۔ ہزارہ کے عوام کی جدوجہد اور جنگ اپنے حقوق کی ہے

پہلا اور آخری حق یہ ہے کہ ہزارہ کو صوبہ بنایا جائے جہاں ہزارہ کے 80 لاکھ سے زائد افراد اپنے وساہل سے اپنی دئلیز پر اپنے مساہل کا حل نکال سکیں

ہزارہ کے نوجوانوں کو ہزارہ میں تعلیم اور ملازمت کے مواقع مل سکیں ۔۔ بجلی پانی اور قدرتی حسن پر اپنا کنٹرول ہو جہاں کی امدن اسی علاقے کے عوام کے لیے استعمال ہو سکے

اور ہزارہ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح پشاور سے کنٹرول نہ کیا جا سکے

ہزارہ کے عوام کو کسی بھی حسب و نصب رنگ و نسل یا زبان سے نہ کوئی مسلہ تھا ۔ نہ ہے اور نہ ہوگا ۔ ان شاءاللہ ۔۔ بات بس اپنے آئینی اور قانونی حق کی ہے

اور یہ حق نام کی تبدیلی سے حاصل نہیں ہو گا ۔ نام کچھ بھی تکھا جائے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ہماری پرامن جدوجہد صوبہ ہزارہ کے حصول کی ہونی چاہیے اور اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جبتک صوبہ ہزارہ کا قیام عمل میں نہیں لایا جاتا

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *