صوبہ ہزارہ : حقائق اور NA-249

تحریر : ملک رئوف تنولی

ہزارہ میں الگ صوبے کا مطالبہ سب سے پہلے 1958 میں اس وقت سامنے آیا ، جب مفتی محمد ادریس اور عبدالخالق نامی دو مشہور وکلاء نے ایک تنظیم بنائی تاہم اس وقت وہ کوہستان پر مشتمل ایک صوبہ کی بات کرتے تھے۔ صوبہ کوہستان کے لیے جو آواز اٹھائی گئی ۔ اس کے حدود ہزارہ ڈویژن سے باہر بھی تھی ۔ ان کا یہ مطالبہ تھا کہ مری کے پہاڑ بھی ہزارہ کا حصہ ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ہزارہ اور مری کے پہاڑی سلسلے آپس میں ملتے ہیں اور فطری طور پر یہ ایک دوسرے کا حصہ ہیں ۔

اس کے بعد بھی صوبہ ہزارہ کے لیے کافی حد تک آوازیں اٹھتی رہی ہیں ۔ لیکن قابل ذکر کام 82-1981 میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں شروع ہوا کہ کچھ نوجوانوں نے عالم زیب خان کی قیادت میں (ہزارہ یوتھ لیگ پاکستان) کی بنیاد ڈالی ۔جس کا مقصد ہزارے وال قوم کو کراچی میں ایک الگ شناخت اور پہچان کا حصول تھا ۔ جو بہرحال کافی حد تک کامیاب رہی۔

ہزارہ یوتھ لیگ بنانے کا مقصد اس وقت کی تنظیم (PPI) (پنجابی پختون اتحاد) کا راستہ روکنا بھی تھا ۔ جس میں ہزارے وال قوم کے نامی گرامی لوگ تھے جو ان کے ہاتھوں استعمال اور بیوقوف بن رہے تھے۔ اس تنظیم میں رہ کر ان کے ساتھ کام کرنا اور ان کے ہاتھوں میں کھیلنا اپنی شناخت کو بیچنے کے مترادف تھا ۔ جو عالم زیب خان اور ان کے نوجوان ساتھیوں کو بالکل بھی قابل قبول نہیں تھا۔ اسی جد و جہد کے لیے (ہزارہ یوتھ لیگ پاکستان) کی کراچی میں سرگرمیاں کافی تیزی سے جاری وساری رہیں ۔ ہزارے وال قوم کو منوانے اور شناخت دلوانے سے پہلے ہزارے وال قوم کو پنجابی یا پختون سمجھا جاتا تھا ۔نوجوانوں کے اس جتھے نے پنجابی پختون کے اس اثر کو بہت محنت اور جدوجہد کے بعد کافی حد تک ظائل کرنے میں کامیاب رہے جس کا کریڈٹ (ہزارہ یوتھ لیگ) کو جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :سفیر عالمی امن علامہ احسان صدیقی کا آگہی برائے کورونا وائرس پیغام

اس کے بعد 1992 دو تنظمیں وجود میں آئی جو مخلتف وقتوں میں الگ صوبے کےلیے آواز اٹھاتی رہی۔جس میں سے ایک ایبٹ آباد کے ایک وکیل اور سیاسی کارکن ملک محمد آصف مرحوم نے ہزارہ قومی محاذ کے نام سے تنظیم کی بنیاد ڈالی۔اس تنظیم کا مقصد ہزارہ کےعوام کے لیے الگ صوبہ اور ان کے حقوق کی جنگ لڑنا تھا۔ ہزارہ قومی محاذ کی شہرت یہ تھی کہ اس میں زیادہ افراد کا تعلق متوسط اور غریب طبقے سے تھا۔ یہ ایک رجسٹرڈ تنظیم تھی اور اس کے پلیٹ فارم سے لوگوں نے انتخابات میں حصہ بھی لیا۔ہزارہ قومی محاذ پہلی مرتبہ پورے ہزارہ ڈویژن میں عوام کی توجہ کا مرکز اس وقت بنی جب 1997 میں پہلی بار صوبہ پختوان خواہ کی قرارداد سرحد اسمبلی سے پاس ہوئی۔(یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پختون خواہ کی قرارداد اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد سردار مہتاب احمد خان عباسی(PML.N) کے دور میں پاس ہوئی تھی جس کا تعلق بھی اسی ہزارہ ڈویژن ہی سے تھا) ۔

اس کے خلاف تنظیم نے بھرپور ردعمل کا اظہار کیا اور ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر سارے ڈویژن کو سیل کردیا اور تقریباً اڑتالیس گھنٹوں تک شاہراہ ریشم بند کر کے احتجاج کرتے رہے۔ مقامی باشندے بتاتے ہیں کہ ان دنوں ہزارہ قومی محاذ کے کارکن اس تحریک میں ایسے زور و شور سے حصہ لے رہے تھے کہ لوگ انھیں ’ دیوانے سمجھتے تھے ۔ تاہم محمد آصف ایڈوکیٹ کی وفات کے بعد اس تحریک کی زور ٹوٹتا گیا اور بعد میں اس میں شامل رہنماؤں میں اختلافات پیدا ہوئے اور بالاآخر یہ محاذ کئی دھڑوں میں بٹ گیا اس دوران ہزارہ قومی محاذ کا ایک دھڑا کراچی میں بھی سرگرم رہا اور جب قومی اسمبلی سے خیبر پختون خواہ نام کی منظوری دی گئی تو کراچی میں محاذ کے ہزاروں کارکنوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کروایا۔ہزارہ قومی محاذ کی کراچی میں فعال تنظیم رہی اور اس کے کارکن بھی بڑے منظم رہے اور انہوں نے ہزارے وال قوم کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور لوہا منواتے رہے۔ اس کے علاوہ ہزارہ کی بہت سی فلاحی اور سیاسی تنظیمیں (انجمن اتحاد ہزارہ)(تحریک انقلاب صوبہ ہزارہ) (فرینڈز آف ہزارہ) (تنولی اتحاد ویلفیئر) (ہزارہ قومی موومنٹ) (ہزارہ عوامی اتحاد) (ہزارہ کلچر) (ہزارہ قومی جرگہ)(ہزارہ ویلفیئر) کراچی میں ہزارہ کاز کے لیےاپنا اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں اور آج بھی مقصد کے حصول یعنی صوبہ ہزارہ کے لیے سرگرم عمل ہیں ۔

اس کے بعد ہزارہ تحریک کو عروج سنہ (2010) دوہزاردس میں اس وقت ملا جب صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخواہ رکھا گیا اور ایبٹ آباد مانسہرہ اور ہری پور سمیت جگہ جگہ مظاہرے ہوئے اور سات بیگناہ ہزارے وال کو شہید کردیا گیا۔اور تحریک ایک نئے موڑ پر آگئی لیکن سفر ابھی کٹھن اور لمبہ تھا۔

مذید پڑھیں :کراچی : PMLN اور JUI کی پریس کانفرنس 8 اپریل کو ہو گی

تقریباً ایک کروڑ سے زیادہ آبادی والے ہزارہ ڈویژن میں الگ صوبے کی تحریک نے عجیب رخ اختیار کیا اور علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک اپنے مرکز سے ہٹ کر ایک نسبتاً وسیع دائرے میں پھیل گئی ہے۔ تمام مقامی لیڈر اپنی اپنی جماعتی وابستگیاں بالائے طاق رکھ کر تحریک میں پیش پیش تھے اور سب کا لیڈر تھا ۔۔۔ بابا حیدر زمان ۔ بابا حیدر زمان کی قیادت میں تحریک بڑے زوروں سے چلی صوبہ ہزارہ تحریک کے پلیٹ فارم سے ہزارہ ڈویژن اور کراچی میں بڑے بڑے کامیاب جلسے منعقد ہوئے اور سب سے بڑا بات یہ ہے کہ کراچی صوبہ ہزارہ تحریک کا مرکز اور تحریک کے تمام فیصلے کراچی سے ہونا شروع ہوئے اور یہی تحریک کا مرکز سمجھا جانے لگا۔ تحریک کامیابی سے اپنے مقاصد کو لے کر آگے بڑھ رہی تھی ۔

لیکن—- 2013 انتخابات کیا آئے ہزارہ ڈویژن کے تمام بڑے لیڈر تحریک صوبہ ہزارہ کے سربراہ بابا حیدر زمان کو اکیلا چھوڑ کر مرکزی سیاسی جماعتوں کی چھتر چھایہ تلے الیکشن لڑنے چلے گئے۔بظاہر تحریک کے غبارے سے ہوا نکل گئی، بابا حیدر زمان نے پارٹی رجسٹر کروالی اور تمام تگڑے امیدوار مرکزی سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ لے کر بابا حیدر زمان کے ٹرک سے اتر گئے۔اور یوں تحریک کا شیرازہ بکھر گیا۔لیکن بابا حیدر زمان اس سب کے باوجود تحریک کو لے کر چلتے رہے اور اپنی زندگی میں اس صوبہ ہزارہ تحریک کو کامیاب ہوتا نہ دیکھ سکے اور اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔بابا حیدر زمان کے بعد تحریک کی قیادت انہی سیاسی شعبدے بازوں کو مل گئ جنہوں نے بابا حیدر زمان کو دوکھا دیا تھا یعنی کہ مفاد پرست ٹولہ سردار یوسف اینڈ کمپنی( پاکستان مسلم لیگ -ن) کے سپرد کر دی گئی ۔

مذید پڑھیں :عید الفطر کے بعد اجلاس بلا کر امتحانی نظام کا جائزہ لیں گے : مولانا حنیف جالندھری

ان اور ان کے ساتھ تمام دوسری سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں نے عوام کو آج تک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہزارے وال قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔ان سب سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے صوبہ ہزارہ ایک برانڈ کا نام جو ہر دور میں بکتا رہا ہے اور آج تک بک رہا ہے تمام رہنما مختلف سیاسی پارٹیوں (پاکستان مسلم لیگ-ن) (پاکستان پیپلز پارٹی) (پاکستان مسلم لیگ-ق) (پاکستان تحریک انصاف) (جماعت اسلامی) کے مرکزی عہدے دار وممبر صوبائی وقومی اسمبلی ہیں اور یہی (صوبہ ہزارہ تحریک) کے رہنما بھی جو صوبہ ہزارہ تحریک کے ساتھ کم اور اپنی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ زیادہ وفاداریاں نبھاتے نظر آتے ہیں۔ جو کہ صوبہ ہزارہ تحریک کے ساتھ ان کی مخلصی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

لیکن ہزارے وال قوم آج بھی انہی مفاد پرست سیاسی اداکاروں کو اپنا مسیحا سمجھتی جو کہ سمجھ س بالا تر ہے۔ اس کی ایک جھلک آج کل نظر آ رہی ہے کہ کراچی کے حلقہ بلدیہ ٹاؤن این اے 249 کا الیکشن ہے جس میں زیادہ تعداد ہزارے وال قوم کی سمجھی جاتی ہے جہاں مسائل کے انبار ہیں جو آج تلک حل طلب ہیں۔ اس حلقے سے ہزارے وال قوم اور تنظیم کے امیدوار منصف جان ایڈوکیٹ بھی حصہ لے رہے ہیں اور دوسری جماعتوں کے امیدوار بھی لیکن یہاں قابل ذکر بات ہزارے وال امیدوار منصف جان کی ہے جو صوبہ ہزارہ تحریک سے وابستہ ہیں اور پرانے قوم پرست ورکر اور رہنما ہیں۔ جو صوبہ ہزارہ تحریک کے پلیٹ فارم سے ٹکٹ کے حقدار بھی تھے لیکن (صوبہ ہزارہ تحریک) کے چیئرمین سردار یوسف کے منظور نظر نہیں تھے اس کی وجہ ان کی چہیتی پارٹی (پاکستان مسلم لیگ-ن ) کے امیدوار اس حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔

چاہیے تو ہے تھا کہ تمام ہزارے وال تنظیمیں اور ان کے ورکرز کو ہزارے وال امیدوار منصف جان کو کامیاب کروانے کی کوششیں کرنی چاہیے لیکن اس کے برعکس ماضی کی طرح اس بار بھی تمام ہزارے وال تنظیمیں اور ان کے ورکرز اپنی سیاسی جماعت کے امیدواران کے ساتھ وفاداریاں نبھاتے نظر آتے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی مثال صوبہ ہزارہ تحریک کے چیئرمین سردار یوسف اور رہنما صوبہ ہزارہ تحریک مرتضیٰ جاوید عباسی جن کا تعلق (پاکستان مسلم لیگ-ن) سے ہے اپنی پارٹی کے امیدوار مفتاح اسماعیل (سابق وزیر خزانہ) کی کیمپین چلانے کے لیے خصوصی طور پر تشریف لارہے ہیں جو (صوبہ ہزارہ تحریک ) اور * *شہداء ہزارہ کے ساتھ مخلصی کا بہت بڑا عمدہ اور اعلیٰ ثبوت ہے۔(سبھی ہزارے وال رہنماؤں کے ساتھ مسئلے اور ذاتی مفادات ہیں۔ مری سمجھ سے تو بالاتر ہیں۔کہ وعدے و قسمیں کسی سے اور وفاداریاں کسی سے )

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. زبردست۔۔۔سوفیصد کھراسچ۔۔۔کاش کے ھزارے وال قوم بالخصوص حلقہ 249 کراچی ووٹروں جواب عقل آجائے اور وہ اس سنہری موقع سے بھرپورفائدہ اٹھائیں