اسلام آباد سمیت سندھ کے 6 ڈویژنوں میں احتجاج ہو گا : پاکستان پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن

کراچی :حیدر آباد پاکستان پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین پرویز ہارون نے حیدر آباد میں ایسوسی ایشن کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو مستند اہلِ وزیر تعلیم کی ضرورت ہے، پارٹ ٹائم وزیر تعلیم نے ایک دن قبل اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں سندھ کے تعلیمی افسران اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے سامنے اقرار کیا تھا کہ سندھ میں تعلیمی ادارے بند نہیں کئیے جائینگے اور اب انہوں نے عمران خان کی طرح یو ٹرن لیتے ہوئے ٹوئٹر پر اچانک اسکول بند کرنے کا اعلان کر دیا ۔

کیا پہلی تا آٹھویں جماعت کے بچوں کو کورونا سے بچانا تھا، نویں تا ہائر ایجوکیشن اور مدارس کے بچے قوم کے بچے نہیں اُن کی جان عزیز نہیں لیکن مدارس کے علماء و طلباء سے احتجاج کا ڈر تھا ۔ اس لیے اُن کو بند نہیں کیا، پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن وزیر تعلیم کے ٹوئٹ کو مسترد کرتی ہے ۔ نجی اسکولز کے مالکان، اساتذہ، اسٹاف اور بچے احتجاج کے لیے اب سڑکوں پر آئینگے تعلیمی ادارے کھولیں گے ۔

مذید ہڑھیں :واٹر بورڈ کا رمضان میں صبح و شام کام کرنے کا فیصلہ

پہلے 40 فیصد نصاب کے امتحان کا کہا گیا اور اب 10 فیصد بھی نصاب مکمل نہیں ہوا، 15 دن اسکولز بند اور عید کی چھٹیوں میں بھی اسکولز بند رکھنا چاہتے ہیں ۔ اب امتحان کتنے نصاب کا ہو گا ، شاپنگ مال، ٹرانسپورٹ، کاروباری مراکز کھلیں ہیں ۔ کیا وہ کورونا سے محفوظ ہیں ۔

صوبائی وزیر تعلیم نے سندھ میں پورے سال تعلیم کا بجٹ بچایا ہے اب اس رقم کی سرکاری اور نجی اداروں کے اساتذہ کی ویکسینیشن کی جائے، وزیر تعلیم کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو بچہ نجی ادارے میں تین گھنٹے آتا ہے وہ ماسک، سینی ٹائزر اور سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے کلاس میں 24 گھنٹے میں سے 3 گھنٹے محفوظ گزارتا ہے 50 فیصد بچے اسکول آکر محفوظ تھے ۔

مزید پڑھیں :کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020

ہم وزیر تعلیم کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ڈی چوک اسلام آباد سمیت سندھ کے 6 ڈویژنوں میں مکمل احتجاج کرینگے، وزیر تعلیم کے ٹوئٹ کو تسلیم نہیں کرتے یہ فیصلہ قابل قبول نہیں، ٹوئٹ سے اسکول نہیں چلتے ۔ سندھ تعلیم میں بلوچستان سے بھی پیچھے ہے اور اب پارٹ ٹائم وزیر تعلیم سندھ کو مزید پیچھے کرنا چاہتے ہیں ۔

اس موقع پر مرکزی صدر انور علی بھٹی، کراچی کے صدر شکیل احمد خان، حیدر آباد ڈویژن کے صدر سعید محبت علی قریشی، جنرل سیکریٹری سید مسعود شاہ، مرکزی کو چیئرمین محمد انور اور سندھ کے دوسرے اضلاع کے عہدیداران بھی موجود تھے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *