کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020

تحریر : عرفان ملک

بل کے ذریعے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 میں ایک اور شق کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ جو کوئی بھی جان بوجھ کر پاکستان کی مسلح افواج یا ان کے کسی رکن کا تمسخر اڑاتا ہے، عزت کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں ۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے نئے مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت پاکستان کی مسلح افواج یا ان کے کسی رکن کو بدنام کرنے والے فرد کو دو سال قید یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا ۔ جب کہ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 میں پہلے ہی ہتک عزت کے خلاف سزا کا ذکر ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’جو کوئی شخص کسی دوسرے کو بدنام کرے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی عام شہری اور کسی ادارے کے فرد کے مابین عزت کا فرق ہے ؟ اگر فر ق ہے تو کن بنیادوں پر ؟ کیا کوئی فوج سے تعلق نہیں رکھتا تو اس کی عزت میں کمی واقع ہو جائے گی؟ ۔

مذید پڑھیں :کراچی : KUJ کے سینیئر جوائنٹ سیکرٹری غلام قادر ضیا انتقال کر گئے

دوسرا یہ کہ ادارے تو اور بھی ہیں جن پر تنقید ہوتی ہے مثلا سب سے زیادہ پولیس اور اسی طرح، FIA ، نادرہ ، کسٹم الغرض تقریبا ہر ادارے ہی پر مختلف انداز میں تنقید ہوتی رہتی ہے تو پھر کسی ایک ادارے کا نام لے کر کیوں اسے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ؟

اگر فوج میں ہونا اعزاز کی بات ہے تو باقی اداروں میں فرض کی ادائیگی کسی اہمیت کی حامل نہیں ؟ کیوں نہ سارے اداروں کو فوجی لباس پہنا کر سب کے نام مٹا کر فوج رکھ دیا جائے ؟ یوں از خود سب کو وہی عزت و تحسین مل جائے گی جو ایک فوجی کو میسر ہوتی ہے ؟ ۔ کیا فوج کے سوا کوئی محب وطن نہیں؟ اگر ہاں تو پھر ایسے قوانین جس میں فوج ہی کو ساری افضلیت و عزت و حرمت دی جاتی نظر آتی ہے کیا یہ پڑھی لکھی قوموں کا وتیرہ ہے ؟ ۔

چاپلوسی میں ہمارے ہی منتخب اراکین اسمبلی ایسے بل لاتے ہیں جن میں امتیازی رویے نہ صرف جھلکتے ہیں بلکہ چھلک رہے ہوتے ہیں، ایسے نام نہاد عوامی نمائندوں کے پیچھے کون اور کیوں اتنے طاقت ور لوگ ہیں جو اپنی گڈی آسمان پر چڑھانے کےلیے اتنی لابنگ کرتے ہیں اور کامیاب بھی ہوتے ہیں؟ کیا سارے کا سارا پاکستان اور پاکستان ہی کے اور ادارے ، ان میں فرض کی ادائیگی نہیں ہو رہی ؟ ۔ کیوں محض ایک ادارے کو ڈسکس کر کے اور اسی کی مینہ کاری کر کے ملک کے حسن کا توازن خراب کیا جا رہا ہے ؟ ایسا ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب صرف فوج رہے گی خواہ ملک رہے نہ رہے ؟ اگرچہ سچ یہ ہے کہ ملک سے فوج ہے نہ کہ فوج سے ملک خدارہ سب سے پہلے فوج کا نعرہ لگانا بند ہونا چاہئے اور واقعتا "سب سے پہلے پاکستان” کی عملی صدائیں سنائی دی جانی چاہییں ۔
پاکستان زندہ باد
ایف آئی اے زندہ باد
پولیس زندہ باد
کسٹم زندہ باد
نادرہ زندہ باد
پھر پاک فوج بھی زندہ باد

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *