دیارِ خلافت کا سفرِ شوق : نویں قسط

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

مسجد ابی بن کعب میں نماز عصر بالقصر ادا کرکے واپس اسی انداز میں واک کرتے ہوئے وہیں آگئے جہاں ہماری بسیں کھڑی تھیں۔ منتظمین جناب حافظ اقبال قریشی صاحب، معاونین مولانا عمیر صاحب اور مولانا عبد الحسیب صاحب برابر قدم قدم ہماری رہنمائی اور خیال رکھ رہے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ نہایت خوش خلقی اور خندہ پیشانی سے پیش آ رہے تھے۔ ہر ایک کی ضرورت اور سہولت کا مکمل خیال رکھ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بس ہماری خدمت کیلئے ہی ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ انتہائی احترام اور محبت سے ہر ایک کے ساتھ سائے کی طرح لگے ہوئے کہ مبادا کسی کو کوئی تکلیف یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی شان کے مطابق نوازے۔

یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ قائد وفاق اور ہمارے قافلہ سالار حضرت مولانا حنیف جالندھری دامت برکاتہم کی شخصیت کے بھی نئے نئے اسرار ہم پہ وا ہوئے۔ ہمیں ان کے مہربانہ برتاؤ، حسن سلوک سے احساس ہوا کہ حضرت واقعی علمائے کرام کی قیادت کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پورے سفر میں وہ ہمارے ساتھ پہلے دن سے آخر تک گھلے ملے رہے۔ اپنی شخصیت اور عہدے کو برتاؤ میں بالکل بھی اور ایک لمحے کے لیے بھی حجاب یا آڑ نہیں بنایا۔ ہر ایک کے ساتھ نہایت خندہ پیشانی سے ملتے رہے۔ ہر ایک کو تپاک سے سینے سے لگاتے۔ یکساں محبت و شفقت سے پیش آتے۔ آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق سیرت میں آتا ہے کہ ہر صحابی کا یہ گمان و خیال ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو بس اسی سے خاص محبت کرتے ہیں اور اسی پر خاص مہربانی و شفقت فرماتے ہیں۔

اس معاملے میں حضرت قائد وفاق دامت برکاتہم بھی ماشاءاللہ سنت رسول پہ عامل نظر آئے۔ اس سفر کے دوران ہم نے قدم قدم پر آپ کی تواضع، توازن، ملن ساری، سب کو ساتھ چلنے کی صلاحیت کا قریب سے اور بار بار مشاہدہ کیا اور ہمیں یقین ہوا کہ یہی رخت سفر میر کارواں کے لئے۔۔۔۔ غالباً سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ کسی کی شخصیت کی زشت و خوب اور اخلاق کے حسن و قبح کا تجربہ کرنا ہو تو اس کے ساتھ معاملہ یا سفر کرکے دیکھا جائے۔۔۔ ہم نے اس سفر میں حضرت قائد وفاق کو بہت قریب سے دیکھا اور ہر پیمانے اور زاویے سے آپ کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان جیسے منظم اور شاندار ادارے کی قیادت و رہبری کا اہل پایا۔ دل سے دعا نکلتی رہی کہ اللہ تعالیٰ حضرت قائد وفاق کو سدا سلامت با کرامت رکھے۔ قدم قدم پر بلندیوں، کامرانیوں اور عزتوں سے سرفراز فرمائے، آمین۔ ہمیں امید ہے کہ ان شاءاللہ حضرت مولانا حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کی قیادت میں مدارس دینیہ بحرانوں اور مشکلات کی دلدل سے سرخرو نکلیں گے۔

عصر اور مغرب کا درمیانی وقت تھا۔ ہم عصر ادا کرکے حسب ترتیب فوری یہاں سے نکلے اور بسوں پر سوار ہو گئے۔۔۔۔ بتاتا چلوں کہ کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کی پابندیوں کی وجہ سے پورے ترکی میں شام سات بجے ہی تمام بازار اور زندگی کی دوسری اجتماعی گہماگہمیاں اور سرگرمیاں بند ہوجاتی ہیں، ترک انتہائی منظم، ڈسپلنڈ، قانون کے پابند و پاسدار اور مہذب قوم ہیں۔ کورونا وبا کے مقابل بھی وہ اپنی ان بہترین عادات و خصلتوں کے ذریعے کامیابی سے کھڑے ہیں اور ہر پابندی کو خوبصورت طریقے سے فالو کرتے ہیں۔ منتظمین نے اس صورت حال کے پیش نظر سات بجے سے پہلے ہی قریب ہی ایک ترکش ہوٹل میں ترک کھانوں سے عشائیہ کا پر تکلف اور شاندار انتظام کیا تھا۔ گویا یہ ایسا عشائیہ تھا جو سر شام ہی نوش جان کر لیا گیا۔ کھانے میں ترکی کی روایتی ڈشیں تھیں، مگر ایسا بہترین ذائقہ تھا کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ گئے۔ ترک چاول، ترک گوشت، طرح طرح کی سلاد، رائتے اور کھانے سے پہلے مختلف مشروبات، سوپ سمیت متعدد انواع کے اسٹارٹرز۔ الغرض اللہ کی ہر لذیذ اور شاندار نعمت دسترخوان پر چن دی گئی تھی۔ ہم بھی کافی گھوم پھرنے کی وجہ سے شدید بھوک محسوس کر رہے تھے۔ دسترخوان چن دیا گیا تو بھوک مزید چمک اٹھی اور الحمد للہ سب نے بہت سیر ہو کر اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوئے۔

مذید پڑھیں :دیارِ خلافت کا سفرِ شوق : پانچویں قسط

کھانے سے فارغ ہوکر ہم بسوں میں بیٹھ گئے اور اسی روٹ پر سفر کرتے ہوئے کچھ ہی دیر میں دوبارہ اپنے ہوٹل پہنچے جہاں سے ہو کر ہم صبح سیر کو نکلے تھے۔

ہوٹل میں ہمیں منتظمین اور رہبر کی طرف سے بتایا گیا کہ صبح ہمیں جلدی اٹھنا ہوگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ سویرے ناشتے کے بعد استنبول کے پرنس آئی لینڈ کی سیر کیلئے جائیں گے، چنانچہ تمام ساتھی اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے اور ضروری رابطوں اور ہلکی پھلکی مصروفیات اور معمولات نمٹانے کے بعد آرام کیا۔ چونکہ ہم پاکستان سے یہاں پہنچنے کے بعد بغیر آرام کیے مسلسل سفر و سیاحت میں مشغول رہے اس لئے جسم پر شدید تھکن کے آثار تھے اور انگ انگ سکون اور آرام کی طلب کر رہا تھا، چنانچہ ضروری معمولات نمٹا کر بستر پہ پڑتے ہی پر سکون نیند نے آ لیا۔ اس کے ساتھ ہی ترکی میں ہمارا پہلا نہایت خوشگوار دن اپنے اختتام کو پہنچا۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *