محکمہ بورڈ اینڈ جامعات کی ناقص حکمتِ عملی سے بورڈوں میں بحران

ایجوکیشن

کراچی: اضافی چارج ختم کرنے کے لئے محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے احکامات پر عمل درآمد کرنا تعلیمی بورڈز کے لیے سر درد بن گیا ہے ۔

صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کے ناظمین امتحانات اور سیکریٹریز کی آسامیاں خالی ہو جانے سے بورڈز میں شدید انتظامی بحران پیدا ہو گیا ہے ۔

گزشتہ 10 برسوں سے سندھ حکومت تعلیمی بورڈز میں ناظمین امتحانات اور سیکریٹریز کی اسامیوں کو پر نہیں کر سکی ، عدالتی حکم نامہ سول سرونٹس کے لیئے تھا ، جب کہ تعلیمی بورڈز خود مختار ادارے ہیں اور وہ سول سرونٹس ایکٹ کے تحت نہیں آتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کردی

تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبے کے تعلیمی بورڈز کے سربراہوں نے اضافی چارج کے ختم کر دیئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز کے ناظمین امتحانات اور سیکریٹریز کی اسامیاں خالی ہو گئی ہیں ۔

سیکریٹری بورڈ کلینڈر کے مطابق ادارے کا منتظم ہوتا ہے ۔ سیکریٹری کی عدم موجودگی میں تمام انتظامی امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور ناظم امتحانات کی عدم موجودگی میں امتحانی امور شدید متاثر ہو رہے ہیں ۔

صوبے میں اگلے دو ماہ میں میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں ، جس ک تیاری میں بھی کئی ماہ لگتے ہیں ، بذریعہ اشتہار ناظمین امتحانات اور اور سیکریٹریز کی تعیناتی اس مختصر عرصے میں ممکن نہیں ہے ۔

مذید پڑھیں : بختاور بھٹو زرداری کورونا وائرس کا شکار ہوگئی

زرائع کے مطابق اس حساس معاملے پر سندھ بورڈز کمیٹی آف چئیرمین کی ایک بیٹھک گزشتہ روز بے نظیر آباد بورڈ میں ہوئی جس میں تعلیمی بورڈز کے سربراہان نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال گیپ ارینجمینٹ کے طور پر دوبارہ اضافی چارج دیکر مسئلہ حل کر نے کے بعد مسئلے سے محکمہ یونورسٹی اینڈ بورڈز کو آگاہ کر دیا جائے گا، جو بھی لائحہ عمل طے ہو گا اس پر عملدآمد کیا جائے گا ۔

زرائع کے مطابق بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی میں 18 افسران گزشتہ 5 سال سے ترقی کے منتظر ہیں مگر انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ان کی ترقی کی ہوئی ہیں ۔ اسی طرح اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ سمیت صوبے کے دیگر تعلیمی بورڈز میں بھی بروقت ترقیاں نہ ہونے کی وجہ سے افسران کی شدید قلت ہے ۔ جس کی وجہ سے سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے اور صاحبِ استطاعت جونئیر افسران اعلی عہدون کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اہل اور مستحق افسران کو آگے نہیں آنے دے رہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *