دارالعلوم کراچی کا JDC کیخلاف فتوی سامنے آ گیا

کسی سائل نے دارالعلوم کراچی سے ایک فتوی پوچھا ہے کہ ’’ کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام بیچ اس مسئلہ کہ ۔۔۔ کہ بندہ ایک علاقہ میں JDC فائونڈیشن کی طرف سے راشن تقسیم ہو رہا ہے جو کہ ایک اہل تشیعہ کی فائونڈیشن ہے ، تو کیا اس فائونڈیشن سے راشن لینا یا ان کے ساتھ کوئی مالی تعاون کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

درالعلوم کراچی کے درالافتا محمد طلحہ ہاشم نے جواب لکھا ہے کہ ‘‘ رفاہی اداروں سے امدار لینے سے متعلق اصولی جواب یہ ہے کہ جو رفاہی ادارے کسی گمراہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ، عموما ان کے فلاحی کاموں کے پس پردہ دیگر مقاصد کے ساتھ درج ذیل مقاصد بھی ہوتے ہیں :

اپنے گمراہ کن عقائد و نظریات کی ترویج کرنا ،

غریب نادار لوگوں کو اپنے مذہب کی دعوت دینا ،

نیز بھولے بھالے اہل سنت عوام کے دلوں میں اپنے گمراہ کن باظل نظریات سے متعلق نرم گوشہ پیدا کرنا ،

اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشین کرنا اور موقع ملنے پر ان کو نقصان پہنچانے سے گریز نہ کرنا ہو ،

اس لئے ایسے رفاہی تنظیموں سے امداد لینے اور اگر اپنے یا دوسروں کے نظریات خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو حتی الامکان امداد لینے سے اجتناب کیا جائے ۔

مذید پڑھیں :ویڈیو گیم پر حالیہ فتویٰ۔۔۔ دوسرا زاویہ

نیز ایسی تنظیموں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے اجتناب کیا جائے ۔اور اس کے بجائے ان رفاہی تنظیموں کیساتھ تعاون کیا جائے ، جس کے زمہ دار حضرات گمراہ کن نظریات کے حامل نہ ہوں ۔ اور ان کا مقصد تھوڑا سا کام کرکے زیادہ دکھانا نہیں ، بلکہ محض اللہ تعالی کی رضا مندی کی خاطر نام و نمود سے بچتے ہوئے اس کے مخلوق کی خدمت کرنا ہوتا ہے ۔اہل حق کی ایسی بہت سی رفاہی تنظیمیں شہر میں موجود ہیں ۔

اہل حق سے تعلق رکھنے والی رفاہی تنظیموں کو بھی چاہیئے کہ وہ اعتدال کے ساتھ اپنے رفاہی کاموں کو عوام کے سامنے لائیں تاکہ ان کے رفاہی کاموں سے زیادہ سے زیادہ لوگ آگاہ ہو سکیں اور لوگ انہیں عطیات دیکر ضائع ہونے سے بچا سکیں ۔

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *