شہر کے 230 قبرستانوں کی حالتِ زار بہتر بنانے کیلئے انتظامات شروع

کراچی : ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا ہے کہ قبرستانوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لئے منیجنگ کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں، قبرستانوں کے انتظام و انصرام میں سماجی و فلاحی تنظیموں کی شمولیت سے صورت حال میں بہتری آئے گی، پہلے مرحلے میں 6 قبرستانوں سے کام کا آغاز ہو گا ۔ جسے مرحلہ وار پورے شہر تک وسعت دی جائے گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبرستانوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں کراچی کی مختلف سماجی و فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

اس موقع پر سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن خالد خان، ڈائریکٹر لینڈ طارق صدیقی، ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز، الخدمت کے سینئر منیجر منظر عالم، جے ڈی سی کے جنرل سیکریٹری ظفر عباس، فیضان گلوبل فاؤنڈیشن کے یحییٰ عطاری، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کے ریحان یٰسین، فہیم انور، چھیپا ویلفیئر کے عارف جمالی اور سجاد، سنی اتحاد کونسل کے صدر خالد نور اور دیگر بھی موجود تھے ۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ منیجنگ کمیٹیاں قبرستانوں میں تدفین، گورکن کے چارجز کی نگرانی، قبروں سے کفن اور مردوں کے اعضاء چوری ہونے کی روک تھام اور قبرستانوں میں اسٹریٹ لائٹس اور راہداریوں کی مینٹی ننس کے علاوہ، میت کی تدفین کے لئے جاری ہونے والے سرٹیفکیٹ کے اجراء کا طریقہ کار بھی وضع کریں گی، کمیٹیوں کے اراکین بلاامتیاز و تفریق ہر شہری کو خدمات فراہم کریں گے اور قبرستانوں میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین کے لئے آنے والے شہریوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں شہر کے 6 قبرستانوں سے کام کا آغاز ہو گا . جن میں سخی حسن قبرستان، محمد شاہ قبرستان نارتھ کراچی، عیسیٰ نگری قبرستان، ماڈل کالونی قبرستان، طارق روڈ قبرستان اور النور قبرستان شامل ہیں جہاں منیجنگ کمیٹیوں کے انتظام و انصرام سنبھالنے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گی، کوشش کی جائے گی کہ شہریوں کو اس بات پر راضی کریں کہ وہ بھر جانے والے شہر کے قبرستانوں میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین پر اصرار نہ کریں۔

اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر قبرستان اقبال پرویز نے بتایا کہ شہر میں 203 قبرستان ہیں، 89 جنرل قبرستان اور دیگر سوسائٹیز کے قبرستان ہیں جبکہ 39 رجسٹرڈ اور 50 غیر رجسٹرڈ ہیں، رجسٹرڈ قبرستانوں میں ضلع وسطی میں 11، شرقی میں 2، غربی میں 13، ملیر میں 9 اور کورنگی میں 4 قبرستان واقع ہیں، ان میں اکثر قبرستان بھر چکے ہیں اس کے باوجود لواحقین کا اصرار ہوتا ہے کہ مخصوص قبرستان میں ہی تدفین کی جائے، کوویڈ۔19 کی وجہ سے صورتحال میں تبدیلی آئی ہے اور اموات کی شرح میں اضافہ ہونے سے قبرستانوں میں لائی جانے والی میتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد نے کہا کہ نئے قبرستانوں کو قائم کرنے کے ساتھ موجودہ قبرستانوں کی صورتحال میں بہتری سے بھی شہریوں کے بہت سے مسائل حل ہوں گے، شہر میں کام کرنے والے سماجی و فلاحی اداروں کی طرف سے قبرستانوں کی صورتحال میں بہتری کے لئے مدد کا ہاتھ بڑھانا قابل تحسین ہے، یہ ادارے شہر کے مختلف علاقوں میں قبرستانوں کی صورتحال، تدفین کی ضروریات اور قبرستانوں کے مسائل سے آگاہی رکھتے ہیں لہٰذا اس کام میں ان کا تعاون اہمیت کا حامل ہوگا، انہوں نے کہا کہ قبرستانوں میں کسی بھی مافیا کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، شہریوں کا یہ حق ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی تدفین کے لئے مناسب نرخ پر قبرستان میں جگہ ملے، اس کے لئے ون ونڈو آپریشن کا طریقہ کار بھی وضع کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قبرستان میں تدفین کے بعد سرٹیفکیٹ کا اجراء بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے جسے حل کرنے کے لئے منیجنگ کمیٹیوں کے ذریعے حکمت عملی وضع کی جائے گی، اس معاملے میں تمام تر قواعد و ضوابط کو پیش نظر رکھا جائے گا تاکہ کوئی غیر قانونی کام نہ ہو سکے ۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے امید ظاہر کی کہ ابتدائی طور پر شہر کے 6 قبرستانوں سے شروع ہونے والا یہ کام مرحلہ وار پورے شہر تک وسعت اختیار کرلے گا اور مستقبل میں شہر کے قبرستانوں میں اپنے عزیز و اقارب کی تدفین کے لئے آنے والے شہریوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، بلدیاتی اداروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں قبرستانوں کا انتظام و انصرام شامل ہے . لہٰذا بلدیہ عظمیٰ کراچی اس حوالے سے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *