امتحانات میں بے ضابطگیاں DJ کالج کے پروفیسر زاہد منگی نا اہل قرار

کراچی : پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے جاری کردہ نو ٹیفیکیشن نمبر /B.Sc.Part-II)2021-424 B/Estt.(T)/(Inquiry committee ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے پاکستان اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر زاہد منگی کو تین سال کے لیے جامعہ کراچی کے امتحانات سے متعلق تمام قسم کی سرگرمیوں کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرخالد عراقی کے احکامات پر رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے رئیس کلیہ علوم پروفسیر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کی کنوینرشپ میںیہ انکوائری کمیٹی قائم کی گئی تھی ۔ جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق مجاز اتھارٹی کی منظوری سے ، 12،2021 جنوری کو B.Sc.II امتحانات 2019 کے پاکستان اسٹڈیز کے پیپر میں جوابی کا پیوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں  کے بارے میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔

نکوائری کمیٹی نے ایوارڈ شیٹ میں مارکس اور پاکستان اسٹڈیز کے جوابی اسکرپٹس پر دیئے گئے ، نشانات کے ایوارڈ میں بڑی کوتاہی / تضاد دیکھا ہے ۔  انکوائری کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے پاکستان اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر زاہد منگی کو تین سال کے لیے جامعہ کراچی کے امتحانات سے متعلق تمام قسم کی سرگرمیوں کے لیے نا اہل قرار دے دیا کیا گیا ہے جو جامعہ کراچی سے وابستہ آئندہ آنے والے امتحانات سے شروع ہو گا ۔

مذید پڑھیں :ویکسین لگوانے والے ہی حرمین شریفین جا سکیں گے : سعودی عرب

واضح رہے کہ انکوائری رپورٹ میں کمیٹی نے انکشاف کیا تھا کہ ڈی جے سائنس کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر زاہد علی منگی نے ایک اور امیدوار رول نمبر 792412 اپنے مضمون میں کاپی میں 47 اور ایوارڈ شیٹ میں 80 نمبر دیئے ۔ اس طرح کی کئی شکایات کاپیوں میں پائی گئی تھیں ۔

ڈین سائنس ناصرہ خاتون، شعبہ خرد حیاتیات کے استاد پروفیسر تنویر عباس اور انچارج سیمسٹر سیل ڈاکٹر تاثیر احمد پر مشتمل کمیٹی نے متعلقہ استاد کو کم از کم تین سال کے لیے امتحانی امور سے بے دخل رکھنے کی سفارش کی ہے ۔

ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بی ایس سی کے مضامین کے ہیڈ ایگزامنر کی اکثریت ڈی جے سائنس کالج کے اساتذہ کی ہوتی ہے ، جو سال ہا سال سے ہیڈ ایگزامنرز بنتے  آ رہے ہیں ، خاص کر شعبہ کیمیاء کے توحید علوی اور دیگر پروفیسرز ہیں۔

شعبہ کیمیاء کے توحید علوی کراچی گروپ کوچنگ کے نام سے کوچنگ سینٹر چلاتے ہیں ۔ جو ڈی جے سندھ گورنمنٹ کالج کراچی کے عقب میں واقع ہے۔ اس کوچنگ سینٹر میں ڈی جے سائنس کالج کے مختلف مضامین کے کئی سینئر پروفسیرز پڑھاتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :لاڑکانہ : PTI سے اتحاد کا پروپیگنڈا اور حقائق

ڈی جے سائنس کالج کے بی ایس سی کے طلبا و طالبات کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اس سینٹر میں داخلہ لییں کہا جاتا ہے کہ جو پیپرز بنتے ہیں وہ ہم ہی بنائیں گے اور ہم نے ہی کا پیاں چیک کر کے نمبرز دینے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دس بارہ سال سے ڈی جے سائنس کالج کے بی ایس سی کے طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد کالج کی کلا سیں ختم ہو تے ہیں اس کوچنگ سینٹر کا رخ کرتی ہیں ۔ جو کالج کے عقب میں ہی واقع ہے ۔ جب کہ کالج کے کچھ اساتذہ بھی کالج اوقات میں ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ادھریہ بات بھی اہم ہے کہ بی ایس سی کی جوابی کاپیوں میں انٹرمیڈیٹ بورڈ کی طرح کا کوئی کوڈ ہی موجود نہیں ہوتا ۔ جس کے سبب اساتذہ کو طلباء کے رول نمبر اور ان کے کالج کا نام بھی معلوم ہو تا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جو ہیڈ ایگزامنرز بنتے ہیں وہ ملی بھگت سے ان اساتذہ کو انہی کے کالج کی کا پیاں دیتے ہیں ۔ ہیڈ ایگزامنرز اپنے من پسند اساتذہ کو زائد کا پیا ں بھی دیتے ہیں ۔ وہ اساتذہ من پسند طلبا ءکو اپنی مرضی کے نمبرز دیتے ہیں ۔ جس سے میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے۔

مذید پڑھیں :دارالعلوم کراچی کا JDC کیخلاف فتوی سامنے آ گیا

جس کا واضح نمونہ جامعہ کراچی کے تحت بی ایس سی کے 2019 کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے موقع پر سامنے آیا ہے جب استاد کی جانب سے خلاف ضابطہ دیئے گئے مارکس پر کی گئی انکوائری میں اقربا پروری اور بے قاعدگی ثابت ہونے کے باوجود ڈی جے سائنس کالج کی ایک طالبہ کی اول پوزیشن آئی تھی۔

جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات ڈاکٹر سید ظفر حسین کے مطابق ”ہیڈ ایگزامنر کا تقرر شعبہ امتحانات نہیں بلکہ متعلقہ ڈین کی جانب سے کیا جاتا ہے اور یہ ڈین کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ ہیڈ ایگز امنر کا تقرر کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھے کہ تمام کے تمام یا اکثریتی ہیڈ ایگزامنر ایک ہی کالج سے نہ بنا دیئے جائیں ۔

ایک بات اور واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی ”کوڈبک“ کے مطابق کوئی استاد کسی ایک امتحان میں 600 سے زائد امتحانی کاپیوں کی اسسمنٹ نہیں کر سکتا ۔ مذکورہ معاملے پر بھی جامعہ کراچی کو طلبہ کی جانب سے دباو کا سامنا ہے اور ایک ہی مضمون کی اسکروٹنی کی سیکٹروں درخواستیں شعبہ امتحانات کو موصول ہو چکی ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *