سفر بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : چھوتی قسط

سفر نگار : اسرار ایوبی 

پاک ایران سرحد BP-250 ( چاہ بہار راہداری

پاکستان اور ایران کے درمیان بلوچستان کے صوبہ سے متصل سرحدی پٹی959کلو میٹر تک پھیلی ہوئی ہے، جو عالمی سرحد کہلاتی ہے۔ پاکستان اور ایران کے عوام صدیوں پرانے تاریخی طور پر مضبوط مذہبی اور ثقافتی بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ایک دوسرے کے شہریوں اور زائرین کے زمینی داخلہ اور پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت اور سفر کے مقاصد کے لئے اگرچہ گزشتہ 70 برسوں سے بلوچستان میں تفتان اور مند۔پشین کی راہداریاں قائم ہیں ۔

لیکن بین الاقوامی تفتان سرحد پر تجارت اور زائرین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر دسمبر 2020 کو جیوانی قصبہ سے 62 کلو میٹر کے فاصلہ پر اس وقت کی خاتون وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال کے ہاتھوں ایک اور راہداری BP-250 (گبد۔ رمدان راہداری) جسے چاہ بہار راہداری بھی کہا جاتا ہے، کا افتتاح عمل میں آیا تھا۔ یہ ایک محدود تجارتی اور سفری پاک۔ ایران راہداری ہے، جو مکران کوسٹل ہائی وے M-10 کی آخری منزل ہے۔ اس راہداری کو پاکستان کی جانب سے صرف ضلع گوادر کے باشندے اور ایران کی جانب سے میں صرف ضلع چاہ بہار کے باشندے ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

مذید پڑھیں :سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : تیسری قسط

یہاں ایران جانے والے اور پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں کی سہولت کے لئے پاکستان کسٹم اور ایف آئی اے کے دفاتر بھی قائم کئے گئے ہیں۔ ہمارے سفری گروپ نے 22 مارچ کو اس راہداری کا دورہ کیا تھا۔ لیکن اس دن دونوں جانب سے راہداری پر آمدورفت بالکل بند تھی۔ پاکستانی حفاظتی چوکی اور ان دفاتر پر پاکستان کے قومی پرچم لہرا رہے تھے ۔ راہداری کے دوسری جانب ایران کے سرحدی محافظوں کی چوکیاں اور امیگریشن دفاتر نظر آرہے تھے جن پر ایران کا قومی پرچم لہرا رہا تھا اور ایرانی حصہ میں مسافروں کی رہنمائی کے لئے فارسی زبان میں ہدایات تحریر تھیں۔ ہم نے یادگار کے طور نو مین لینڈ کے اہم مقام پر تصاویر بھی بنائیں تھیں۔

قدرتی بندرگاہ جیوانی

جیوانی (ضلع گوادر) کا قصبہ کراچی سے تقریبا 539 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اگر آپ پاکستان کے نقشہ کے نچلے حصہ کی بحیرہ عرب کی جانب نکلی ہوئی دوسری گہری نوک کو بغور دیکھیں تو بالکل سرے پر واقع یہی جیوانی قصبہ ہے۔ جیوانی کا تاریخی قصبہ اور تجارتی بندرگاہ خلیج اومان کے ساتھ ضلع گوادر میں مشرقی سمت پر تقریبا 60 کلو میٹر کے فاصلہ پرواقع ہے۔یہاں کی کل آبادی صرف 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کی ترقی کے بعد یہ چھوٹا سا قصبہ ایک بڑا کاروباری مرکز بن جائے گا۔ ایرانی صوبہ سیستان میں واقع مشہور بندرگاہ چاہ بہار جیوانی سے 115 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستان اور چین کا جیوانی میں فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ ہے۔

مذید پڑھیں :سفرِ بلوچستان کا دلچسپ و منفرد احوال : قسط اول

جیوانی کے قصبہ میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) کے تعاون سے آبی حیات کاکنزرویشن اینڈ انفارمیشن سنٹر قائم ہے۔ جہاں عمارت کے باہر ایک دیو ہیکل وہیل مچھلی کے ڈھانچہ کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس سے متصل بلوچستان کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دفتر بھی قائم ہے۔لیکن ہمارے اس دورہ کے دوران ہم نے ان دونوں دفاتر کو بند اور سنسان پایا اور عملہ کا کوئی فرد بھی نظر نہ آیا، البتہ آوارہ کتوں کے ایک غول نے ہمارا استقبال ضرور کیا۔

ہم دوستوں نے جیوانی قصبہ کے خوبصورت ساحل اور بازار کے کچھ حصوں کا دورہ بھی کیا اور یادگاری تصاویر بنائیں۔ ہمارے کچھ ساتھی خصوصا نہانے کے زبردست شوقین مختار علی سمندر کے صاف اور شفاف میں خوب نہائے اور بیحدخوبصورت ساحل پر تصاویر بھی بنائیں۔ہم دوستوں نے دوپہر کا کھانا جیوانی بازار کے ایک معیاری ہوٹل الحمزہ میں کھایا اور چائے نوش کی اور بازار میں قائم کچھ دکانوں سے خورد ونوش کی ایرانی شیاء بطور سوغات خریدیں اور تصاویر بھی بنائیں۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق جیوانی کے فوجی محل وقوع کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کا چین کے اشتراک سے جیوانی میں ایک فوجی اڈہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *